سپائرومیٹری (Spirometry) ایک عام میڈیکل ٹیسٹ ہے جو پھیپھڑوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ اس بات کی پیمائش کرتا ہے کہ آپ کتنی ہوا اندر لیتے ہیں، کتنی باہر نکالتے ہیں اور سانس کتنی تیزی سے خارج کرتے ہیں۔ صحت کے ماہرین اس ٹیسٹ کے ذریعے دمہ، سی او پی ڈی اور سانس کی دیگر بیماریوں کی تشخیص کرتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ وقتاً فوقتاً اس بات کی مانیٹرنگ کے لیے بھی کیا جاتا ہے کہ علاج پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر بنا رہا ہے یا نہیں۔
یہ کیوں کیا جاتا ہے
اگر معالج کو شبہ ہو کہ علامات پھیپھڑوں کی کسی بیماری جیسے دمہ، سی او پی ڈی، دائمی برونکائٹس، ایمفیسیما یا پلمونری فائبروسس سے متعلق ہیں تو سپائرومیٹری ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے۔ پہلے سے موجود پھیپھڑوں کی بیماری کی صورت میں یہ ٹیسٹ ادویات کے اثر اور سانس کی مجموعی حالت جانچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات سرجری سے پہلے پھیپھڑوں کی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے بھی یہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ یہ پیشے سے متعلق پھیپھڑوں کی بیماریوں کی سکریننگ میں بھی مدد دیتا ہے۔
خطرات
سپائرومیٹری عمومی طور پر محفوظ ٹیسٹ ہے تاہم کچھ افراد کو ٹیسٹ کے بعد عارضی طور پر سانس پھولنے یا چکر آنے کا احساس ہو سکتا ہے۔ چونکہ اس میں جسمانی مشقت درکار ہوتی ہے، اس لیے دل کے حالیہ دورے یا دل کی سنگین بیماری کی صورت میں یہ ٹیسٹ نہیں کیا جاتا۔ بہت کم کیسز میں یہ ٹیسٹ سانس لینے میں شدید دقت بھی پیدا کر سکتا ہے۔
تیاری کیسے کریں
ٹیسٹ سے پہلے فزیشن کی ہدایات پر عمل کریں کہ کون سی ادویات روکنی ہیں یا جاری رکھنی ہیں۔ اس کے علاوہ
٭ ڈھیلے کپڑے پہنیں تاکہ گہری سانس لینے میں آسانی ہو
٭ ٹیسٹ سے پہلے مرغن کھانا نہ کھائیں تاکہ سانس لینے میں دقت نہ ہو
آپ کو کیا توقع رکھنی چاہیے
سپائرومیٹری میں آپ ایک ٹیوب کے ذریعے سانس لیتے اور خارج کرتے ہیں جو سپائرومیٹر مشین سے جڑی ہوتی ہے۔ معالج ٹیسٹ سے پہلے مکمل ہدایات دیتا ہے جنہیں توجہ سے سمجھنا ضروری ہے تاکہ نتائج درست آئیں۔ عام طور پر یہ ٹیسٹ بیٹھ کر کیا جاتا ہے اور ناک پر کلپ لگایا جاتا ہے تاکہ سانس صرف منہ کے ذریعے ہو۔ آپ گہری سانس لے کر پوری قوت سے کئی سیکنڈ تک ہوا ٹیوب میں خارج کرتے ہیں۔ ہونٹوں سے مکمل سیل بنانا ضروری ہوتا ہے تاکہ ہوا لیک نہ ہو۔
درست نتائج کے لیے ٹیسٹ کم از کم تین بار کیا جاتا ہے۔ اگر نتائج میں زیادہ فرق ہو تو دوبارہ ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔ حتمی نتیجے کے لیے تین میں سے بہترین ویلیو منتخب کی جاتی ہے۔ یہ عمل 15 سے 30 منٹ تک مکمل ہوتا ہے۔
کچھ صورتوں میں ابتدائی ٹیسٹ کے بعد برونکوڈائیلیٹر دوا دی جاتی ہے تاکہ پھیپھڑوں کی نالیاں کھل سکیں۔ 15 منٹ کے وقفے کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے تاکہ دونوں نتائج کا موازنہ کیا جا سکے اور دوا کے اثر کا اندازہ لگایا جا سکے۔
نتائج
سپائرومیٹری میں اہم پیمائشیں درج ذیل ہیں:
فورسڈ وائٹل کیپسٹی (ایف وی سی): یہ زیادہ سے زیادہ ہوا کی مقدار ہے جو گہری سانس کے بعد زور سے خارج کی جا سکتی ہے۔ کم ایف وی سی پھیپھڑوں کی سانس لینے کی صلاحیت میں کمی کو ظاہر کرتا ہے
فورسڈ ایکسپائریٹری والیوم (ایف ای وی): یہ وہ ہوا ہے جو ایک سیکنڈ میں زور سے خارج کی جا سکتی ہے۔ کم ایف ای وی سانس کی نالیوں میں رکاوٹ یا تنگی کو ظاہر کرتا ہے
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pulmonologist