Vinkmag ad

کندھے کی تبدیلی کی سرجری

A man wearing brace after shoulder replacement surgery

کندھا ایک بال اور ساکٹ والا جوڑ ہے۔ اوپری بازو کی ہڈی کا سرا بال جیسا ہوتا ہے جو کندھے کے ایک ہلکے گڑھے میں فٹ ہوتا ہے۔ اس جوڑ کو نقصان پہنچنے سے کندھے میں درد اور اکڑکن پیدا ہو سکتی ہے۔ کندھے کی تبدیلی کی سرجری (Shoulder replacement surgery) کو کندھے کی آرتھروپلاسٹی بھی کہا جاتا ہے۔ اس سرجری میں کندھے کے خراب حصے نکال کر نئے حصے (امپلانٹس) لگائے جاتے ہیں۔ یہ عموماً دھات اور پلاسٹک سے بنے ہوتے ہیں۔

کندھے کے امپلانٹس کی مختلف اقسام ہیں۔ کچھ افراد کو جوڑ کا صرف ایک حصہ تبدیل کرانا پڑتا ہے، جبکہ بعض کو پورا جوڑ بدلوانا پڑتا ہے۔ کچھ امپلانٹس انسانی کندھے کی شکل جیسے ہوتے ہیں، جنہیں ایناٹومک ریپلیسمنٹ کہا جاتا ہے۔ دیگر امپلانٹس میں بال اور ساکٹ کی جگہیں بدل دی جاتی ہیں، جنہیں ریورس ریپلیسمنٹ کہا جاتا ہے۔

کیوں کی جاتی ہے

کندھے کی تبدیلی کی سرجری درد، اکڑاؤ اور دیگر علامات کم کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ جوڑ کو نقصان پہنچانے والی بیماریاں درج ذیل ہیں:

آسٹیو آرتھرائٹس: یہ حالت ہڈیوں کے سروں پر موجود کارٹلیج کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ جوڑ کو آسانی سے حرکت دینے میں مدد دیتی ہے۔ اس حفاظتی تہہ کے بغیر جوڑ سخت ہو جاتا ہے، اور اس میں درد ہوتا ہے۔

روٹیٹر کف کی چوٹیں: روٹیٹر کف پٹھوں اور ریشوں کا ایک گروہ ہے، جو کندھے کو حرکت دینے اور سہارا دینے میں مدد دیتا ہے۔ شدید چوٹیں کارٹلیج اور ہڈی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

فریکچر: اگر حادثے میں اوپری بازو کی ہڈی شدید متاثر ہو جائے تو اسے بدلنا پڑ سکتا ہے۔ اگر پرانی چوٹ ٹھیک نہ ہوئی ہو یا پہلے کی سرجری کامیاب نہ ہوئی ہو، تب بھی تبدیلی ضروری ہو سکتی ہے۔

روماٹائیڈ آرتھرائٹس اور دیگر سوزشی بیماریاں: یہ بیماریاں مدافعتی نظام کی خرابی سے ہوتی ہیں۔ ان میں ہونے والی سوزش کارٹلیج کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بعض اوقات یہ جوڑ کی ہڈی اور اردگرد کے پٹھوں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

آسٹیونیکروسس: یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب ہڈی کو مناسب خون نہ ملے۔ کچھ بیماریاں اوپری بازو کی ہڈی تک خون کی روانی کم کر دیتی ہیں۔ خون کی کمی سے ہڈی کمزور ہو کر ٹوٹ سکتی ہے۔

کندھے کی تبدیلی کے پروسیجرز

کندھے کی تبدیلی کی سرجری کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ درست انتخاب اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ جوڑ کے کون سے حصے متاثر ہیں اور پٹھے اور ریشے کتنے فعال ہیں۔

قدرتی ساخت کے مطابق مکمل کندھے کی تبدیلی: اس میں بال اور ساکٹ دونوں بدلے جاتے ہیں۔ امپلانٹس ہڈیوں کی قدرتی شکل جیسے ہوتے ہیں۔

الٹی ساخت کے ساتھ مکمل کندھے کی تبدیلی: اس میں بھی دونوں حصے بدلے جاتے ہیں، لیکن ان کی جگہیں تبدیل کر دی جاتی ہیں۔ بال کندھے کی ہڈی سے جڑی ہوتی ہے، اور ساکٹ بازو کی ہڈی سے۔ یہ عام طور پر روٹیٹر کف کے شدید نقصان کی صورت میں کی جاتی ہے۔

جزوی کندھے کی تبدیلی: اسے ہیمی آرتھروپلاسٹی کہا جاتا ہے۔ اس میں صرف بال والا حصہ بدلا جاتا ہے۔ یہ اس وقت مناسب ہوتا ہے جب ساکٹ صحیح ہو اور صرف گیند متاثر ہو۔

خطرات

زیادہ تر صورتوں میں اس سے سرجری سے درد میں کمی آتی ہے، اور حرکت بھی بہتر ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ مکمل آرام یا طاقت بحال کرنے کا باعث نہیں بنتی۔ شاذ و نادر صورتوں میں دوبارہ سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اگرچہ پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں، مگر خطرات موجود ہیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے:

جوڑ اتر جانا: نئی بال ساکٹ سے باہر نکل سکتی ہے۔

فریکچر۔ سرجری کے دوران یا بعد میں ہڈیاں ٹوٹ سکتی ہیں، جن میں بازو اور کندھے کی ہڈیاں شامل ہیں۔

امپلانٹ کا ڈھیلا ہونا یا گھس جانا: وقت کے ساتھ مصنوعی حصے خراب ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں دوبارہ سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

روٹیٹر کف کی خرابی: سرجری کے بعد پٹھے اور ریشے کمزور ہو سکتے یا پھٹ سکتے ہیں۔

اعصابی نقصان: قریبی اعصاب متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے سن ہونے، کمزوری یا درد کی شکایت ہو سکتی ہے

خون کے کلاٹس: سرجری کے بعد بازو یا ٹانگوں کی رگوں میں کلاٹس بن سکتے ہیں۔ اگر یہ پھیپھڑوں یا دل تک پہنچیں تو خطرناک ہو سکتے ہیں۔

انفیکشن: زخم یا اندرونی حصے میں انفیکشن ہو سکتا ہے، جس کے لیے مزید علاج یا سرجری درکار ہو سکتی ہے۔

سرجری کے لئے تیاری

سرجری کے لئے تیاری

سرجری سے پہلے آپ اپنے سرجن سے معائنہ کروائیں گے۔ اس ملاقات میں عام طور پر شامل ہوتا ہے:

٭ علامات کا جائزہ

٭ جسمانی معائنہ

٭ ایکس رے یا سی ٹی سکین جیسے ٹیسٹ

آپ یہ سوالات پوچھ سکتے ہیں:

٭ میرے لیے کون سی سرجری بہتر ہے؟

٭ سرجری کے بعد درد کیسے کنٹرول ہوگا؟

٭ مجھے سلِنگ (کپڑے یا پٹی کی بنی ہوئی سپورٹ) کتنے عرصے تک پہننی ہوگی؟

٭ مجھے کس قسم کی فزیوتھراپی درکار ہوگی؟

٭ مجھے کن سرگرمیوں سے پرہیز کرنا ہوگا؟

٭ صحت یابی کے دوران کیا گھر میں مدد درکار ہوگی؟

طبی ٹیم کے دیگر افراد بھی آپ کی تیاری کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ آپ کی بیماریوں، ادویات اور تمباکو کے استعمال کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ تمباکو نوشی زخم بھرنے کے عمل کو سست کرتی ہے۔

آپ فزیوتھراپسٹ سے بھی مل سکتے ہیں، جو بحالی کے لیے ورزشیں سکھاتا ہے۔ وہ آپ کو سلنگ استعمال کرنے کا طریقہ بھی بتاتا ہے۔

زیادہ تر افراد اسی دن گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں

سرجری سے پہلے

آپ کا سرجن تیاری کے لیے ہدایات دے گا۔ اس میں کھانے پینے، صفائی اور ادویات کے بارے میں معلومات شامل ہوں گی۔ ان ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

سرجری کے دوران

سرجری سے پہلے آپ کو بے ہوشی دی جاتی ہے۔ عام طور پر جنرل اینستھیزیا اور نرو بلاک دیا جاتا ہے۔ یہ آپ کو گہری نیند میں رکھتا ہے اور درد کم کرتا ہے۔ سرجری عموماً 1 سے 2 گھنٹے تک جاری رہتی ہے۔

سرجری کے بعد

سرجری کے بعد آپ کچھ وقت آرام کریں گے۔ آپ کے کندھے کا ایکس رے کیا جائے گا۔ کندھے کو ایک خاص سلنگ میں رکھا جائے گا، جو حرکت کو روکتا ہے۔ ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر کندھے کو حرکت نہ دیں۔

ہسپتال میں قیام کی مدت کا دارومدار آپ کی حالت پر ہوتا ہے۔ زیادہ تر افراد اسی دن گھر چلے جاتے ہیں۔

نتائج

سرجری کے بعد زیادہ تر افراد کو پہلے سے کم درد محسوس ہوتا ہے۔ بہت سے افراد کو بالکل درد نہیں رہتا۔ اکثر لوگوں میں کندھے کی حرکت اور طاقت بہتر ہو جاتی ہے، جس سے روزمرہ کام آسان ہو جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

Vinkmag ad

Read Previous

روبوٹک سرجری

Read Next

سپائرومیٹری

Leave a Reply

Most Popular