چٹخارا یا صحت۔۔۔ معدے پر غیرضروری بوجھ مت ڈالیں

438

ہم جو کچھ کھاتے یا پیتے ہیں‘ وہ مثبت یا منفی طور پر ہمارے معدے کو متاثر کرتا ہے لہٰذا ہمیں اپنی غذاوں کے بارے میں خاص طور پر محتاط ہونا چاہئے ۔دواوں کے غیرمحتاط استعمال کے علاوہ واک یا ورزش کی عادت نہ ہونا بھی معدے کے مسائل کی بڑی وجہ ہے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معدہ ہمارے لئے مستعدی سے کام کرتا رہے تو اس پر غیرضروری بوجھ مت ڈالیں۔شفاانٹرنیشنل ہسپتال فیصل آباد کے ماہر امراض معدہ ڈاکٹر شاہد رسول کے ساتھ محمد زاہد ایوبی کا انٹرویو۔ اگلے ماہ ماہر امراض غدود( اینڈوکرائنالوجسٹ) کا انٹرویو شائع کیا جائے گا۔ اگر آپ کے ذہن میں اس سے متعلق کوئی سوال ہو تو ہمیں بذریعہ فون، ای میل یا فیس بک ذرا جلدی ارسال کیجئے تاکہ اسے سوالنامے میں شامل کیا جا سکے

٭سادہ اور آسان لفظوں میں بتائیے کہ ہضم ہونے کا عمل کیا ہے اور کھاناکن مراحل سے گزر کر ہضم ہوتا ہے؟
٭٭ سادہ لفظوں میں ہضم سے مراد وہ عمل ہے جس میں غذاو¿ں کو توڑ پھوڑ کر اس شکل میں لایا جاتا ہے جس میں وہ جزو بدن بن سکیں۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ ہضم ہونے کا عمل منہ سے شروع ہوتا ہے لیکن اگر غور کریں تو وہ اس وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب ہم کھانے یا پینے کی چیز کو دیکھتے یا اس کی خوشبو سونگھتے ہیں۔ اس سے ہمارے اندر اسے کھانے یا پینے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ نظام انہضام کا باقاعدہ آغاز منہ سے ہوتا ہے جہاں خوراک کو چباکر چھوٹا کیا جاتا ہے اور اس دوران اس میں لعاب دہن بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے پیچھے کی طرف حلق میں دھکیل دیا جاتا ہے جہاں سے یہ غذا ئی نالی کے ذریعے معدے میں پہنچتا ہے جو ہضم کے نظام کا سب سے بڑا عضو ہے۔ خوراک کو ہضم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑا خوبصورت اور زبردست نظام بنایا ہے جس کے تحت معدے کے اندر تیزاب پیدا ہوتا ہے۔ یہاں سے خوراک چھوٹی آنت میں داخل ہوتی ہے جو خوراک کو مزید ہضم کرنے اوراس کے اجزاءکو خون میں جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ آنت سائز میں بڑی آنت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اسے چھوٹی کہا جاتاہے‘ اس لئے کہ اس کا قطر diameter)) دوسری آنت کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ اس کے بعد خوراک بڑی آنت میں داخل ہو جاتی ہے۔ اس کا کام غیر ہضم شدہ خوراک سے پانی کو جذب کرنا ہے جس کے بعد باقی ماندہ فضلے کو جسم سے خارج کر دیا جاتا ہے ۔

٭ہاضمے کے بالمقابل بدہضمی ہے۔ یہ کیا ہے؟
٭٭بدہضمی ایک وسیع اصطلاح ہے جس میں پیٹ کاپھولنا‘اس میں درد یا مروڑ اٹھنا‘ گیس کی شکایت پیدا ہونا ‘ کھٹی ڈکاریں آنا اور تیزابیت محسوس ہوناوغیرہ شامل ہیں۔

٭یہ بتائیے کہ معدے کی بڑی بڑی بیماریاں کون سی ہیں؟
٭٭السراور تیزابیت ہمارے ہاں معدے کی زیادہ عام بیماریاں ہیں۔ السر کی بڑی وجہ ایک بیکٹیریم (جمع بیکٹیریا) ایچ پائیلوری ( pylori Helicobacter ) ہے جو معدے میں پایا جاتا ہے۔ معدے کا کینسر بھی ایک اہم بیماری ہے جس کا تعلق گٹکا اور پان سپاری کے علاوہ سگریٹ نوشی کے ساتھ بھی ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ سگریٹ نوشی صرف پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ معدے کو بھی متاثر کرتی ہے۔

٭یہ بتائیے کہ تیزابیت سے کیا مراد ہے؟
٭٭ بعض لوگ ادھر اُدھر سے ادھوری بات سن کر اس بات پر پریشان ہوتے ہیں کہ اُن کے معدے میں تیزاب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معدے میں اس کا پیدا ہونا فائدہ مند بات ہے‘ اس لئے کہ وہ خوراک کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔ تیزاب چونکہ معدے کی دیواروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے لہٰذاانہیں محفوظ رکھنے کے لئے ان پر لعاب (mucus)کی ایک تہہ بن جاتی ہے۔ جب تیزاب زیادہ مقدار میںپیدا ہونا شروع ہو جائے تو اس حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچتا ہے جس سے معدے میں زخم بھی بن جاتے ہیں۔

٭معدے میں تیزاب زیادہ کیوں بننا شروع ہو جاتا ہے؟
٭٭اس کی بڑی وجہ ہماری کھانے پینے کی غیرصحت مندانہ عادات ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی بڑی تعدادجنک فوڈ‘ مرغن غذاﺅں اور کولا مشروبات کی عادی ہے۔ ہماری پچھلی نسل کے لوگ قدرتی چیزیں زیادہ کھاتے تھے لہٰذا ان میں معدے کی بیماریاں کم ہوتی تھیں اور معدے کے جو مسائل پہلے 40یا 50سال کے بعد نظر آتے تھے‘ آج نوجوانوں میں بھی عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کی دوسری بڑی وجہ جسمانی سرگرمیوں مثلاً واک یا ورزش کے رجحان میں کمی ہے۔ معدے میںتیزابیت کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ لوگ رات کو دیر سے کھانا کھاتے اور اس کے فوراً بعد سونے کے لئے لیٹ جاتے ہیں۔ آج سے چودہ سو سال قبل رسول اکرم نے فرمایا تھا کہ رات کے کھانے کے بعد کم از کم 40قدم لازمی چلنا چاہئے۔ اگر ہم اسلام کے اس سادہ سے اصول پر عمل کر لیں تو ہمارے معدے کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں۔ اس کی ایک اور وجہ پین کلرز اور دیگر دواﺅںکا زیادہ استعمال ہے ۔ہم جسم کے دیگر اعضاءکی بیماریاں دور کرنے کے لئے جو دوائیں لیتے ہیں‘ ان کا بڑا حصہ معدے میں ہی پہنچتا ہے۔ لہٰذاوہ اعضاءاور دیگر بیماریاں تو ٹھیک ہو جاتی ہیں لیکن اس کے بداثرات معدے کو بھگتنا پڑتے ہےں۔ اس لئے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اور غیرضروری طور پر دوائیں نہیں لینی چاہئیں ۔ صرف وہی دوائیں اوٹی سی(over the counter) دستیاب ہونی چاہئیں جن کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ انہیں ڈاکٹری نسخے کے بغیر محدود پیمانے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر ادویات ڈاکٹری نسخے کے بغیر دستیاب نہیں ہونی چاہئیں۔

٭جنک فوڈ‘مرغن کھانے اور ملاوٹ زدہ چیزیں معدے کو کیسے متاثر کرتی ہیں ؟
٭٭جنک فوڈز‘ مرغن کھانے اور خصوصاً ملاوٹ زدہ چیزیں معدے کی دیواروں کے ساتھ موجود حفاظتی تہہ کونقصان پہنچاتی ہیں۔ ہمارے ہاں کھانوں میں استعمال ہونے والے اکثر رنگ فوڈکلرز نہیں بلکہ عام رنگ مثلاً کپڑا رنگنے والے ہوتے ہیں۔ اخبارات میں اور ٹی وی پر ناقص‘ جعلی اور مضرصحت جوس‘ گھی اوردودھ بیچنے کی خبریں مسلسل سامنے آتی رہتی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ملاوٹ کو سنگین جرم قرار دے اور ایسا کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دے۔

٭رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی سے تیزابیت کا کیا تعلق ہے ؟
٭٭ جب ہم کھانا کھانے کے بعد کھڑے ہوتے اور چلتے ہیں تو کھانا زیادہ آسانی کے ساتھ چھوٹی اور پھر بڑی آنت کی طرف حرکت کرتا ہے اور اسے ہضم ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب ہم کھانا کھانے کے فوراً بعد لیٹ جاتے ہیں تو وہ زیادہ دیر رکا رہتا ہے۔ایسے میں اسے ہضم کرنے کے لئے معدے کو زیادہ مقدار میں تیزاب پیدا کرنا پڑتا ہے ۔

٭بدہضمی کی وجہ سے ہمیں بعض اوقات سینے میں جلن بوتی ہے ۔ اس کا سبب کیا ہے؟
٭٭ تیزاب کے رہنے کا اصل مقام معدہ ہے جس کی دیواروں کو تیزاب سے محفوظ رکھنے کے لئے انتظام موجود ہے ۔ہماری خوارک کی نالی اور معدے کے درمیان خاص طرح کا والو(sphincter) ہوتا ہے جو خوراک کو معدے میں توجانے دیتاہے لیکن اسے واپس آنے سے روکتا ہے۔ خوراک میںمسلسل بد احتیاطیوں اور دیگر وجوہات سے بعض اوقات یہ والو ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ دوسری طرف معدے میں تیزاب بھی ضرورت سے زیادہ بننے لگتا ہے جو والو کے ڈھیلا ہونے کی وجہ سے خوراک کی نالی میں واپس آنے لگتا ہے۔ چونکہ خواراک کی نالی کی دیواروں کے لئے ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہوتا جو اسے تیزاب سے محفوظ رکھ سکے لہٰذا ہمیں سینے میں جلن محسوس ہوتی ہے جسے بعض اوقات دل کامسئلہ سمجھ لیا جاتا ہے۔

٭بعض اوقات پیٹ میں گیس پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ کیا معاملہ ہے؟
٭٭پیٹ میں کچھ گیس قدرتی طور پرموجودہوتی ہے جو غذاﺅں کی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے ۔یہ کھانا کھانے کے بعد لیٹ جانے‘ کولڈڈڈرنکس اور کیمیکلز وغیرہ کے استعمال کی وجہ سے بھی پیدا ہوتی ہے۔کچھ غذائیں مثلاً گوبھی وغیرہ بھی اسے زیادہ پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

٭یہ بتائیے کہ قبض کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے ؟
٭٭اس کے بارے میں ہمارے ہاں بہت سے غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ لوگ جس چیز کو قبض کہتے ہیں‘ وہ قبض نہیں بلکہ پاخانے کا سخت آنا ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ جو غذا ہضم نہیں ہو پاتی‘ وہ بڑی آنت میں داخل ہو جاتی ہے جس کی دیواریں اس میں سے پانی کے بڑے حصے کو جذب کر لیتی ہیں جبکہ باقی ماندہ نیم ٹھوس مادہ فضلے کی شکل میں جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگراس میں سے پانی کی زیادہ مقداربڑی آنت کی دیواروں میں جذب ہو جائے تو فضلہ سخت ہو جاتا ہے لہٰذا اسے مقعد (anus)کے راستے باہر خارج ہونے میں دقت ہوتی ہے۔ اگر کسی فرد کو ہفتے بھر میں تین دفعہ پاخانہ آئے تواسے قبض نہیں کہا جا سکتا۔میں اپنے مریضوں کو ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ اگرایک شخص کا قد ساڑھے چار فٹ‘ دوسرے کا پانچ فٹ‘ تیسرے کا ساڑھے پانچ فٹ اور چوتھے کا چھ فٹ ہے تو یہ سب نارمل ہیں۔بالکل اسی طرح سات دنوں میں تین دفعہ پاخانہ آجائے تو یہ نارمل بات ہے لہٰذا اس پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔اگر وقفہ اس سے زیادبڑھ جائے توپھر اسے قبض کا نام دیا جائے گا۔

٭قبض کیوں ہوتا ہے؟
٭٭جو لوگ اپنی خوراک میں ریشہ(fiber)کم اور پروسیسڈ خوراک(processed food) زیادہ استعمال کرتے ہیں‘ انہیں قبض کی شکایت زیادہ رہتی ہے۔ پروسیسڈخوراک سے مراد وہ کھانے ہیں جو قدرتی شکل میں نہ ہوں۔ میدے کی بنی ہوئی چیزیں، کیک ‘ پیز ااور بیکری کی اشیاءوغیرہ اس کی کچھ مثالیں ہیں۔ اس کے برعکس قدرتی چیزوں میں پھل اور سبزیاں وغیرہ شامل ہیںجنہیں کھانے والوں کو قبض کم ہوتا ہے۔ یہ ان لوگوں کوبھی زیادہ ہوتا ہے جو پانی کم پیتے ہیں۔ اس کی دوسری بڑی وجہ ورزش کا نہ ہونا ہے۔ ورزش سے بہت سے پٹھے حرکت میں آتے ہیں اورپورے جسم میں خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے۔ اس کا بالواسطہ اثر ہمارے نظام انہضام پر بھی پڑتا ہے اور وہ تیزی سے کام کرنے لگتا ہے جس سے قبض سے نجات میں بھی مدد ملتی ہے۔ جو لوگ تلی ہوئی چیزیں زیادہ کھاتے ہیں‘ ان میں بھی قبض کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے‘ اس لئے کہ ایسی چیزوں کو ہضم کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے اور وہ زیادہ دیر تک بڑی آنت میں پڑی رہتی ہیں۔
٭ایک دن میں زیادہ سے زیادہ کتنا پاخانہ آنا چاہئے؟
٭٭اگر یہ دن میں تین دفعہ آئے تو اسے نارمل تصور کیا جائے گا۔ اگر یہ اس سے بڑھ جائے تو پھر اس کی وجہ تلاش کرنا پڑے گی ۔

٭قبض کے بالقابل پیچش ہے۔ یہ کس وجہ سے لگتے ہیں؟
٭٭ پیچش لگنے کازیادہ تر تعلق جراثیم کے ساتھ ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے معدے میں پہنچ جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں پینے کے لئے محفوظ پانی کی دستیابی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ پانی کو ابال کر اور ٹھنڈا کر کے استعمال کریں۔ کھانے پینے کی اشیاءاگر تازہ نہ ہوں بلکہ گلی سڑی ہوں‘ ان پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں یا گرد پڑی ہو تو وہ بھی جراثیم کی حامل ہو سکتی ہیں لہٰذا انہیں کھانے یا پینے سے اجتناب کیا جائے۔اس کی ایک اور بڑی وجہ ہائی جین(ذاتی صفائی) کابہتر نہ ہونا ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ کھانا کھانے پہلے صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں۔ خصوصاً بچوں کواس کی لازماً عادت ڈالنی چاہئے۔
٭اگر زیادہ کھانا کھا لیا جائے تو بدہضمی ہوجاتی ہے جس سے نجات کے لئے لوگ کولڈ ڈرنکس یا اجوائن وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ کیااس سے کوئی فرق پڑتا ہے؟
٭٭پہلی بات تو یہ ہے کہ بسیار خوری ایک بری عادت ہے لہٰذا اس سے بچنا چاہئے۔ سنت طریقہ یہ ہے کہ چند لقموں کی بھوک چھوڑ کر کھانا کھایا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو معدے کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ اگر زیادہ کھا لیا جائے تو جن چیزوں کا آپ نے ذکر کیا ہے‘ ان کے استعمال سے عارضی طور پر فائدہ ہوتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کے بعد واک وغیرہ کریں تاکہ وہ باآسانی ہضم ہوجائے ۔کھانا کھانے کے فوراً بعد سونا ویسے بھی اچھا نہیں لیکن اگر زیادہ کھا لیا جائے تو پھرخاص طور پر احتیاط کرنی چاہئے۔
٭ہمارے ہاں یہ تاثر عام ہے کہ معدے کے مسائل میں حکیمی ادویات ایلوپیتھک ادویات سے زیادہ بہتر ہیں‘ اس لئے کہ ایلوپیتھک ادویات کے مضر اثرات زیادہ ہوتے ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟
٭٭اگر آپ معدے کی درستگی کے لئے دوا لیں گے تو اس کا فائدہ ہی ہو گا ‘ نقصان نہیں ۔ البتہ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا‘ دواﺅں کا کچھ نہ کچھ منفی اثر معدے پر ہوتا ہے‘اس لئے ان کے غیرضروری استعمال سے بچنا چاہئے۔ یہ کہنا کہ حکیمی ادویات زیادہ بہتر ہیں شاید دست نہ ہو‘اس لئے کہ ان کے بارے میں تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں کیا اجزاءاستعمال ہوئے ہیں جبکہ ایلوپیتھک ادویات کے لیبل پر اس کے تمام اجزاءلکھے ہوتے ہیں۔ ہمیں جدیدسائنس کی ترقی سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور جو بھی مسئلہ ہو‘ اس کی بروقت تشخیص کرانی چاہئے ۔میں خاص طور پریہ کہنا چاہوں گاکہ اگر کسی شخص کے پاخانے میں خون آتا ہو تو اسے چاہئے کہ لازماً اوربروقت معالج سے رابطہ کرے ۔معالج اس بات کا جائزہ لے گا کہ اس کا سبب معدے میں کوئی زخم یا السرتو نہیں ۔ اگر وجہ جانے بغیر خون روکنے کی کوشش کی گئی تو اصل مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔یہاں لوگوں کے پاخانے میں مہینوں خون آتا رہتا ہے لیکن وہ اسے نظرانداز کرتے رہتے ہیں اور چیک نہیں کراتے۔ایسے میں معاملہ بگڑ جاتا ہے ۔

٭یہ بتائیے ہم معدے کو کیسے صحت مند رکھ سکتے ہیں؟
٭٭اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم ہائی جین یعنی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔اس کے علاوہ پانی ہمیشہ ابال کر پئیں‘ متوازن غذا، متوازن مقدار میں کھائیں۔ غیر ضروری طور پر اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات نہ لیں‘ اس لئے کہ وہ معدے کو بری طرح سے متاثر کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

چقندر ہرے پتوں والی سرخ سبزی ہے جو سردیوں کی خاص سوغات ہ

بہت سی مائیں اس بات پر فکرمند رہتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں ک

Doctors in this segment shed light on their specialties to give you awareness about your common prob