• Home
  • فیچر
  • کم بیٹھیں ‘چست رہیں کرسی ‘ نادان دوست

کم بیٹھیں ‘چست رہیں کرسی ‘ نادان دوست

2

جسمانی خوبصورتی کے جو معیارات اس وقت رائج ہیں‘ ان میں سے ایک جسم کا سڈول اور مناسب حد تک دبلاہونا بھی ہے ۔ اس کے برعکس موٹے افراد کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت اپنے اضافی وزن کو کم کرنے کی خواہشمند نظر آتی ہے۔
ہماری نظر جب کسی موٹے شخص پرپڑتی ہے توعموماً پہلا خیال ذہن میں یہی آتا ہے کہ وہ زیادہ اور مرغن غذائیں کھاتا ہوگا۔ اگرچہ یہ بات کچھ زیادہ غلط نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ موٹاپے میں زیادہ بڑا کردار کرسی‘ یعنی بیٹھے رہنے کی عادت کا ہے۔ماضی بعید ہی نہیں‘ قریب ہی کی بات ہے کہ ہمارے بڑے اوربزرگ دیسی خوراکیں اور حلوے مانڈے بڑے شوق سے کھاتے تھے لیکن ان میں سے اکثر موٹاپے اور موجودہ زمانے کی بیماریوں سے بہت دور تھے۔ اس کی بڑی وجہ ان کا متحرک طرز زندگی تھا جس میں جسمانی سرگرمیوں کا کردار زیادہ اور بیٹھے رہنے کا نہ ہونے کے برابر تھا۔
اس کے برعکس آج کل ہماری زندگی میں کرسی مرکزی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔لوگوں‘ خصوصاً شہروں میں بسنے والوں کی اکثریت کا معمول یہ ہے کہ صبح بستر کو چھوڑتے ہیں تو واش روم کا رخ کرتے ہیں۔ اب تو وہاں بھی کموڈ کی سہولت دستیاب ہو گئی ہے جس پر بیٹھ کر وہ حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتے ہیں۔ اس کے بعدوہ ڈائننگ ٹیبل کے پاس رکھی کرسی کا رخ کرتے ہیں جہاں ناشتہ ان کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔پھر وہ گاڑی کی آرام دہ سیٹ پر بیٹھ کر سکول‘ کالج‘ یونیورسٹی یا دفتر/دکان جاتے ہیںجہاں ایک اور کرسی ان کی منتظر ہوتی ہے ۔ دن کا بڑا حصہ اس کی نذر کرنے کے بعد واپسی پھر گاڑی کی سیٹ پر ہوتی ہے۔ گھر پہنچ کر وہ ’’تھکے ہارے‘‘صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے ہیں‘ایک اور کرسی پر بیٹھ کر تادیرانٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں‘ دوسری کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور پھر بستر پر چلے جاتے ہیں۔
امریکہ کی ریاست ٹینشی (Tennessee) کے شہر ناشویلی(Nashville) کی وینڈربِلٹ یونیورسٹی (Vanderbilt University) کی 2008ء میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 55فی صد امریکی زیادہ دیر بیٹھے رہنے کی عادت کا شکار ہیں اورروزانہ 24گھنٹوں میں سے7.7گھنٹے بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ اگرچہ یہ اعدادوشمار امریکہ کے ہیںجہاں کے حالات ہم سے مختلف ہیں لیکن دنیا کے گلوبل ویلج کی شکل اختیار کرلینے کے بعد ہمارے ہاں بھی معاملات کی نوعیت کچھ ایسی ہی ہوتی جا رہی ہے۔ اس لئے یہ اعدادو شمار ہمارے لئے بھی تشویشناک ہونے چاہئیں ۔
زیادہ بیٹھنا‘بیماریوں کی جڑ
زیادہ بیٹھنے کی عادت چونکہ بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے لہٰذا اسے بذات خود ایک بیماری (sitting disease) بھی کہا جارہا ہے اور یہ اصطلاح اب عام استعمال ہو رہی ہے ۔ اس عادت کا
سب سے بڑا نقصان دل کو پہنچتا ہے ۔ جبشفا انٹر نیشنل ہسپتال فیصل آباد کے ماہر امراض قلب ڈاکٹر نعیم اصغر سے پوچھا گیا کہ دل کی بیماریوں کا کرسی سے کیا تعلق ہے تو ان کا کہنا تھا:

’’دل کے امراض کی شرح میں اضافے کی اصل وجہ غیر متحرک طرززندگی ہی ہے ۔ آج کل لوگ اپنی مصروفیات کے باعث جسمانی سرگرمیاں نہیں کرپاتے جس کی وجہ سے ابتدائی درجے میں وہ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں اور بعد میں دل کے مریض بن جاتے ہیں۔ ‘‘
ڈاکٹر نعیم کا مزید کہنا تھا کہ بیٹھے رہنے کے باعث دل کی شریانوں کی بیماری عام ہے ۔اس میں شریانوں کی دیواروں پر کولیسٹرول کی تہہ جم جاتی ہیجس سے وہ سکڑ جاتی ہیں اور خون کی گردش میں دقت کی وجہ سے اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر پاتی ہیں۔اسے اکلیلیشریان کی بیماری (Coronary Artery Disease) کہتے ہیں ۔اس وجہ سے دل کے دورے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔‘‘
شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں پاخانے کے امراض کے ماہر (colon and rectal surgeon)ڈاکٹر قمر حفیظ کیانی سے جب پوچھا گیا کہ مسلسل بیٹھنے سے بڑی آنت کو کن مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے تو ان کا کہنا تھا:
’’ دفتروں اور دکانوں میں ایک ہی جگہ پرزیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کرنے والے لوگوں یا کم کام کاج کرنے والی گھریلو خواتین میں قبض کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے ۔ایسے لوگ بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیںجو باقاعدگی سے ورزش نہیں کرتے یا جن کی زندگی میں جسمانی مشقت کی کمی ہوتی ہے ۔‘‘
ڈاکٹر قمر کا مزید کہنا تھا کہ کچھ پیشے ایسے ہیں جن کے ساتھ وابستہ افراد کو زیادہ دیر تک ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنا ہوتا ہے ۔ ان لوگوں میں مقعد(anus)کے بالوں کے باعث ہونے والے زخم عام پائے جاتے ہیں۔ مثلاً لمبے روٹ پر چلنے والے ڈرائیور حضرات میں یہ مرض عام ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ گاڑی میںمسلسل زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے اور کولہوں کے مسلسل حرکت کرتے رہنے سے اس حصے کے بالوں کو رگڑ لگتی ہے اور وہ ٹوٹ کر جلد کے اندر داخل ہوتے رہتے ہیں ۔ ‘‘
شفا انٹرنیشنل اسلام آباد کے ماہر امراض غدود(شعبہ ذیا بیطس کا تعلق اسی سے ہے ) ڈاکٹر اسامہ اشتیاق سے جب پوچھا گیا کہ زیادہ بیٹھے رہنے کا ذیابیطس سے کیا تعلق ہے تو ان کا کہنا تھا:
’’زیادہ بیٹھنے اور جسمانی مشقت نہ ہونے کے باعث جو خوراک ہم کھاتے ہیں‘ اس سے حاصل شدہ کیلوریز کو خرچ نہیں کر پاتے ۔ایسے میں وہ چربی کی شکل میں جمع ہو کر موٹاپے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ بڑھے ہوئے جسم کی اضافی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے انسولین بھی زیادہ مقدار میں درکار ہوتی ہے ۔ ایسے میں لبلبے کواپنی بساط سے بڑھ کر کام کرنا پڑتا ہے اورپھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ تھک جاتا ہے۔ اس کے ٹھیک طرح سے کام نہ کرنے کی وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار بڑ ھ جاتی ہے اور فرد کو ذیابیطس کا شکار ہوجاتا ہے ۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا کہجب ہم جسمانی سرگرمیاں کرتے ہیں تو کیلوریز زیادہ استعمال ہوتی ہیں اور چربی کی شکل میں جمع نہیں ہوپاتیں لہٰذاشوگر بھی کنٹرول میں رہتی ہے ۔اس لئے شوگر کے مریضوں کو خاص طور پر واک اور ورزش کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
کرنے کے کام
ماہرین کی آراء کے مطابق مندرجہ ذیل اقدامات متحرک طرززندگی کی طرف قدم بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں :
٭ایسا طرز زندگی اپنائیں جس میں جسمانی سرگرمیاں قدرتی انداز میں آپ کے معمولات میں شامل ہوجائیں۔مثلاً اگر دفتر جانے کے لئے آپ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں تو اپنے سٹاپ سے ذرا پہلے گاڑی سے اتر جائیں اور وہاں سے پیدل گھر آئیں۔ نماز گھر میں پڑھنے کی بجائے مسجدمیں ادا کریں۔ گھر کے سودا سلف کے لئے قریبی مارکیٹ تک جانا ہو تو موٹرسائیکل یا گاڑی کے استعمال کی بجائے وہاں تک پیدل جائیں۔
٭ باقاعدہ ورزش کو اپنے روزانہ کے معمول میں شامل کریں۔روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ کوئی نہ کوئی جسمانی سرگرمی ضرور کریں ۔ مثلاً تیز قدمی ، تیراکی،دوڑنا،رسی ٹاپنا،سائیکل چلانا یا اپنی پسند کا کوئی بھی ایساکھیل منتخب کیا جا سکتا ہے جس میں آپ کوجسمانی طور پر متحرک ہونا پڑے۔
٭ کرسی سے اٹھنے کے لئے ’’20۔20۔20‘‘ کا اصول اپنائیں۔ اس کا مطلب یہ کہ ہر 20 منٹ کے بعد 20 فٹ کی دوری پر پڑی چیز پر 20 سیکنڈ تک نظر ڈالیں اور 20قدم اٹھائیں تاکہ جسم میں خون کی گردش بہتر ہو ۔
٭گھر یا دفتر میں زیادہ تر کام کھڑے ہو کر کرنے کو ترجیح دیں۔مثلاً دفتر میں قابل حرکت ٹیبل لگوائیں اور زیادہ تر کھڑے ہوکر کام کریں۔گھریلو خواتین اپنے کچن کے کام کھڑے ہو کے اور چل پھر کر کریں۔
٭ اگر سیڑھیاں اور لفٹ‘ دونوں میسر ہوں تو سیڑھیوں کو ترجیح دیں۔
٭دفتر یا گھر میں دوسروں کو کام کہنے کے بجائے اپنے چھوٹے موٹے کام خود کریں۔آج کل لوگ ایک گھر میں ہوتے ہوئے بھی دوسرے سے موبائل فون پر بات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے اجتناب کیا جائے۔ موبائل فون پر بات کرتے ہوئے بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہونے کو ترجیح دیں۔
٭دوستوں کے ساتھ گپ شپ بیٹھ کرکرنے کی بجائے چہل قدمی کرتے ہوئے کرنے کو ترجیح دیں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of