platelets کا کمال ….ٹپکے گا تو جم جائے گا

4

فریحہ فضل
آپ نے ساحرلدھیانوی کا یہ شعر اکثر سنا ہوگا:
ظلم پھر ظلم ہے‘ بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے‘ ٹپکے گا تو جم جائے گا
اس شعر کے دوسرے مصرعے میں خون کے ٹپکنے کے بعد جمنے کی جس صلاحیت کا ذکر ہے‘اس میں ایک سائنسی پہلو بھی کارفرما ہے‘ اور یہی آج کا موضوع ہے ۔ابھی چند روز قبل مجھے ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا تو انتظارگاہ میں میری ملاقات اپنی پرانی ہمسائی سے ہوئی۔چونکہ ہم بڑے عرصے کے بعد مل رہے تھے لہٰذا وہ پرتپاک انداز سے ملیں۔ان کے ساتھ ان کی بیٹی نمرہ بھی تھی جس کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی اور اب وہ حاملہ تھی۔وہ اپنی بیٹی کی وجہ سے کافی پریشان تھیں۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اسے تھرامبوسائٹوپینیا) (Thrombocytopeniaہے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا بلا ہے تو بولیں کہ اس میں خون میں موجود کچھ خاص ذروں پلیٹ لیٹس( platelets) کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔

اس کے بارے میں جاننے کا تجسس مجھے شیخ زید میڈیکل کالج کی اسسٹنٹ پروفیسراور میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر سعدیہ نوید کے پاس لے گیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ ’’پلیٹ لیٹس‘‘ کیا چیز ہیں تو انہوں نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ خون مختلف قسم کے خلیوں سے بنتا ہے جو ایک محلول میں تیرتے رہتے ہیں جس کو پلازمہ کہا جاتا ہے۔ ان کے بقول اس میں تین قسم کے ذرات یا خلئے نمایاں ہیں جنہیں سرخ خلیے یا آر بی سی(Red Blood Cell)، سفید خلیے یا ڈبلیو بی سی (White Blood Cell) اور پلیٹ لیٹس کہتے ہیں۔ سرخ خلیوں کا کام آکسیجن کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچانا‘ سفید خلیوں کا جراثیم کے خلاف لڑنا اور پلیٹ لیٹس( platelets) کا کام خون کو جمنے میں مدد دینا ہے۔
ڈاکٹر سعدیہ نے بتایا کہ پلیٹ لیٹسڈسک کی شکل کے بے رنگ خوردبینی ذرات ہیں جن کے گرد جھلی ہوتی ہے۔ جب ہمیں کوئی زخم ہوتا یا کٹ لگتا ہے تو یہ فوراً متاثرہ جگہ پر پہنچ کر اپنا کام سرانجام دینے لگتے ہیں۔یہ ہڈیوں کے گودے کے اندر سفید اور سرخ خون کے خلیوں کے ساتھ بنتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صحت مند شخص میں ان کی تعداد 150,000سے450,000فی مائیکرولیٹر ہوتی ہے۔اگر ان کی تعداد کم ہوجائے تو خون آسانی سے نہیں جمتا ۔ایسے لوگوں کو ناک اور مسوڑھوں سے کثرت سے خون کا آتا ہے ۔ خون کے ایک سادہ سے ٹیسٹ سی بی سی (Complete Blood Count)کے ذریعے ان کی تعداد معلوم کی جا سکتی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی تعداد کم کیوں ہوجاتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات کوئی چیز خون میں شامل ہو کر پلیٹ لیٹس بنانے سے روکتی ہے اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا دفاعی نظام بیماریوں کے خلاف درست طور پرکام نہیں کرتا۔ایسے میں وہ اینٹی باڈیز جن کا کام جراثیم پر حملہ آور ہو کر انہیں ختم کرنا ہوتا ہے‘ غلطی سے پلیٹ لیٹس کو تباہ کرنا شروع کردیتی ہیں۔اس کی دیگر وجوہات میں بعض ادویات کے منفی اثرات‘حمل‘ انفیکشنز‘ مورثیت ‘مختلف قسم کے کینسر مثلاً لیوکیمیا‘ گردوں کا انفیکشن یا گردوں کا درست کام نہ کرنا شامل ہیں۔مزیدبرآں
وٹامن بی12 یا فولیٹ کی کمی‘کثرت شراب نوشی اورتِلی کے بڑھ جانے کی صورت میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
’’تھرامبوسائٹوپینیا ‘‘ کے برعکس ایک کیفیت بھی پیدا ہو جاتی ہے جسے تھرامبوسائٹوسس(Thrombocytosis)کہا جاتا ہے۔ اس میں پلیٹ لیٹس کی تعداد بڑھ جاتی ہے ۔اس کی وجوہات دل کا دورہ‘ مختلف کینسر‘آرتھرائٹس‘انفیکشن‘ آئرن کی کمی‘ سوزش اور کچھ ادویات کا ردعمل ہو سکتی ہیں۔ اس کی علامات میں سر میں درد ‘ چھاتی میں درد‘ غنودگی یا ہاتھوں/پائوںمیں سنسناہٹ (tingling) محسوس ہونا شامل ہیں ۔اکثر صورتوں میں یہ کوئی سنگین صورت حال نہیں ہوتی اور حالت بہتر ہونے پر یہ تعداد نارمل ہوجاتی ہے۔
ڈاکٹر فرحت سعیدایک ماہر زچہ بچہ(گائناکالوجسٹ) ہیں اور آج کل سعودی عرب میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس کیفیت کا تعلق حمل کے ساتھ بھی ہے جسے دوران حمل
پلیٹ لیٹس کی کمی (Gestational thrombocytopenia)کہا جاتا ہے۔ اسی کی بدولت بعض خواتین کو دوران حمل مسوڑھوں سے خون آتا ہے۔یہ مسئلہ بالعموم تیسری سہہ ماہی میں پیش آتا ہے اور ہر 10میں سے ایک حاملہ خاتون اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔جونہی بچے کی ولادت ہوجاتی ہے تو پلیٹ لیٹس کی تعداد بھی نارمل ہوجاتی ہے۔
دوران حمل اس کیفیت سے نپٹنے کے لئے گائناکالوجسٹ مریضہ کو اس کی کیفیت کے مطابق سٹیرائیڈزتجویز کرتی ہے‘ بلڈ پروٹین گلوبولن(globulin) کی انفیوژن (infusion)دی جاتی ہے اور بعض اوقات پلیٹ لیٹس بھی لگائے جاتے ہیں۔ علاج کا دارومدار علامات کی شدت اور نوعیت پر ہوتا ہے۔ایسپرین اور بروفن (Ibuprofen) خون کو جمنے سے روکتی ہیں۔ اگر پلیٹ لیٹس کم ہوں تو ان دونوں کا استعمال روک دیا جاتا ہے ۔ اگر ہم پرہیز یعنی مسئلے کوپیدا ہونے سے پہلے تدارک کی بات کریں توفولیٹ‘ وٹامن بی 12،وٹامن سی‘ ڈی اور کے اور فولاد کی حامل غذائیں اورفوڈسپلی منٹس اس سلسلے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ امریکی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق ایک بالغ فردکو یومیہ کم از کم400مائیکروگرام جبکہ حاملہ خاتون کو600مائیکروگرام فولک ایسڈکی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ ہرے پتوں والی سبزیوں مثلاًپالک وغیرہ‘ بڑے گوشت (بیف) کے جگر‘ سفید لوبیا‘ چاول‘خمیر اور مالٹے میں بکثرت پایا جاتا ہے۔اسی طرح یہ دالوں ‘ گوشت اورکدو کے بیجوںمیں بھی پایاجاتا ہے۔
پی ڈی ایس اے(Platelet Disorder Support Association) کے مطابق متوازن غذا اور صحت مندطرز زندگی سے پلیٹ لیٹس کی پیداوار بھی بہتر ہوتی ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ڈبہ بند (canned)اور پروسیسڈ (processed)خوراک ‘چینی‘ سفید آٹا اور چاولوں کا استعمال کم کرنا چاہئے۔اسی طرح سرخ انگور‘لہسن‘ پیاز ‘ ادرک اور ٹماٹر کے اندر بھی بہتے خون کو روکنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے ۔
زندگی میں مثبت رویہ اپنائیے خواہ وہ رہن سہن میں ہو‘ماحول میں یا پھر سوچ اور عمل میں ۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ کی زندگی صحت مند بھی ہو گی اور پرسکون بھی ۔ہمارے ہاں برفین اور اسپرین کا بغیر ڈاکٹری مشورے کے استعمال بہت زیادہ ہے جو نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ خودعلاجی سے حتی الامکان بچیں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of