Vinkmag ad

بے چین ٹانگوں کا سنڈروم

Doctor examining a patient experiencing symptoms of restless legs syndrome during a medical consultation

بے چین ٹانگوں کا سنڈروم (Restless Legs Syndrome) ایک اعصابی کیفیت ہے جس میں ٹانگوں کو مسلسل حرکت دینے کی شدید اور بے قابو خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یہ خواہش عموماً ٹانگوں میں غیر آرام دہ اور پریشان کن احساس کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ علامات زیادہ تر شام یا رات کے وقت آرام کرنے یا لیٹنے پر ظاہر ہوتی ہیں۔ حرکت دینے سے وقتی طور پر سکون ملتا ہے، مگر کچھ دیر بعد علامات دوبارہ واپس آ جاتی ہیں۔ یہ کیفیت نیند کے معیار کو متاثر کرتی ہے اور روزمرہ زندگی میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اسے ولس-ایکبم بیماری (Willis-Ekbom Disease) بھی کہا جاتا ہے۔

علامات

اس مرض کی بنیادی علامت ٹانگیں حرکت دینے کی ناقابلِ مزاحمت خواہش ہے، جو عموماً اندرونی بے چینی اور غیر آرام دہ احساس کے ساتھ ہوتی ہے۔

٭ آرام کی حالت میں، خاص طور پر دیر تک بیٹھنے یا لیٹنے کے بعد ٹانگوں میں بے چین کرنے والا احساس شروع ہو جاتا ہے

٭ یہ کیفیت سفر کے دوران یا دیر تک ایک جگہ بیٹھنے جیسے حالات میں بھی ظاہر ہو سکتی ہے

٭ حرکت دینے سے فوری مگر عارضی آرام ملتا ہے اور علامات کم ہو جاتی ہیں

٭ علامات زیادہ تر شام اور رات کے وقت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہیں

٭ بعض افراد میں نیند کے دوران ٹانگوں کی غیر ارادی حرکات بھی دیکھی جاتی ہیں

مریض اس کیفیت کو کھچاؤ، دھڑکن، درد، خارش یا برقی رو دوڑنے جیسے احساسات کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ احساسات جلد پر نہیں بلکہ ٹانگ کے اندر محسوس ہوتے ہیں۔ اکثر دونوں ٹانگیں متاثر ہوتی ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں بازو بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ علامات کی شدت وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے، اور بعض اوقات یہ کچھ عرصے کے لیے ختم بھی ہو سکتی ہیں۔

اسباب

زیادہ تر کیسز میں اس بیماری کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی۔ ماہرین کے مطابق دماغی کیمیکل ڈوپامین کا عدم توازن اس کی اہم ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے، جو جسم کی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے۔

خاندانی رجحان

یہ بیماری بعض اوقات فیملیز میں پائی جاتی ہے، خاص طور پر جب علامات کم عمری میں شروع ہوں۔ تحقیق سے کچھ جینیاتی عوامل کی نشاندہی بھی ہوئی ہے جو اس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

حمل

حمل کے دوران ہارمونی تبدیلیاں علامات کو بڑھا سکتی ہیں۔ کچھ خواتین میں یہ کیفیت پہلی بار حمل کے آخری حصے میں ظاہر ہوتی ہے، تاہم عموماً پیدائش کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔

خطرے کے عوامل

یہ کیفیت کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے، لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ زیادہ عام ہو جاتی ہے اور خواتین میں نسبتاً زیادہ دیکھی جاتی ہے۔

٭ پیریفرل نیروپیتھی جو ذیابیطس یا الکحل کے زیادہ استعمال سے ہو سکتی ہے

٭ جسم میں آئرن کی کمی، جو خون بہنے، کم غذائیت یا زیادہ ماہواری کی وجہ سے ہو سکتی ہے

٭ گردے فیل ہونا، جس میں کیمیائی توازن بگڑنے سے علامات بڑھ سکتی ہیں

٭ ریڑھ کی ہڈی کے امراض یا چوٹ

٭ پارکنسن کی بیماری

پیچیدگیاں

یہ بیماری ہلکی علامات سے شروع ہو کر شدید شکل اختیار کر سکتی ہے اور نیند کے نظام کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ نیند کی مسلسل کمی دن کے وقت تھکن، چڑچڑےپن اور کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ بعض افراد میں یہ کیفیت ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر ٹانگوں میں مسلسل بے چینی، نیند میں واضح خلل یا دن کے وقت غیر معمولی غنودگی ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ بروقت تشخیص سے معیارِ زندگی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

تشخیص

تشخیص مریض کی علامات اور میڈیکل ہسٹری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس کے بنیادی نکات میں ٹانگیں حرکت دینے کی شدید خواہش، آرام کرتے ہوئے علامات کا بڑھنا، حرکت سے وقتی بہتری محسوس ہونا، رات کے وقت اس کی شدت، اور کسی دوسری بیماری سے اس کا بظاہر تعلق نہ ہونا شامل ہیں۔

خون کے ٹیسٹ خاص طور پر آئرن کی کمی کی جانچ کے لیے کیے جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں نیند کا خصوصی جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے۔

علاج

٭ اگر بنیادی وجہ آئرن کی کمی ہو تو اس کا علاج علامات میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔ آئرن سپلیمنٹس دیے جا سکتے ہیں، اور بعض صورتوں میں انجیکشن کے ذریعے بھی آئرن دیا جاتا ہے۔ کچھ مریضوں میں نرو سٹیمولیشن بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اگر واضح وجہ نہ ہو تو علاج طرزِ زندگی میں تبدیلیوں سے شروع کیا جاتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر ادویات شامل کی جاتی ہیں۔

ادویات

اگر ادویات کے بغیر علاج کافی نہ ہو تو ڈاکٹر مختلف ادویات تجویز کر سکتے ہیں۔

٭ اعصابی کیلشیم چینلز پر اثر کرنے والی ادویات پہلی ترجیح ہوتی ہیں لیکن یہ چکر، غنودگی اور تھکن پیدا کر سکتی ہیں

٭ ڈوپامین پر اثر کرنے والی ادویات ابتدا میں مؤثر ہوتی ہیں مگر وقت کے ساتھ علامات بڑھانے کا خطرہ رکھتی ہیں

٭ اوپیئڈز کم مقدار میں صرف اُن صورتوں میں استعمال ہوتے ہیں جب دیگر علاج ناکام ہو جائیں

کچھ ادویات مثلاً اینٹی ڈپریسنٹس، اینٹی سائیکوٹکس، اور الرجی یا نزلہ کی بعض ادویات علامات کو بڑھا سکتی ہیں، اس لیے ان کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔

گھریلو علاج اور طرزِ زندگی

٭ گرم پانی سے غسل اور ٹانگوں کی مالش پٹھوں کو آرام پہنچاتی ہے

٭ گرم یا ٹھنڈی ٹکور علامات میں وقتی کمی لا سکتی ہے

٭ باقاعدہ اور معتدل ورزش مفید ہے، مگر سخت ورزش علامات کو بڑھا بھی سکتی ہے

٭ کیفین والی اشیاء جیسے چائے، کافی، چاکلیٹ اور سافٹ ڈرنکس سے پرہیز فائدہ مند ہو سکتا ہے

٭ روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا بہتر نیند میں مدد دیتا ہے

٭ مخصوص فٹ ریپ یا وائبریٹنگ پیڈ استعمال کرنے سے بھی آرام مل سکتا ہے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

ایچ پی وی ٹیسٹ

Read Next

شیاٹیکا: عرق النساء کیا ہے؟

Leave a Reply

Most Popular