پھیپھڑوں میں پانی

ہمارے پھیپھڑوں کے اندر چھوٹی چھوٹی ہوا کی تھیلیاں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات یہ ہوا کے بجائے مائع سے بھر جاتی ہیں جس کے باعث سانس لینے میں مشکل ہوتی اور کچھ دیگر علامات کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کیفیت کو عام بول چال میں پھیپھڑوں میں پانی پڑنا جبکہ طبی اصطلاح میں پلمونری ایڈیما کہتے ہیں۔

پھیپھڑوں میں پانی کیوں پڑتا ہے

وجوہات کی بنا پر اسے دو کیٹگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلی کیٹگری میں وہ تمام عوامل شامل ہیں جن کا تعلق دل سے ہے۔ مثلاً کورونری آرٹری ڈیزیز، والو کے مسائل اور ہائپر ٹینشن وغیرہ۔

دوسری کیٹگری کے عوامل کا تعلق دل سے نہیں ہوتا۔ مثلاً کچھ ادویات کا ری ایکشن، بار بار بلڈ ٹرانسفیوژن کروانا، اے آر ڈی ایس Acute respiratory distress syndrome اور زیادہ مقدار میں منشیات لینا وغیرہ۔ پھیپھڑوں میں خون کا لوتھڑا ہونا، پانی میں ڈوبنا اور سانس کے ذریعے زہریلے مادوں کا پھیپھڑوں میں داخل ہونا بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ دھواں اور اونچائی (عموماً 8000 فٹ سے زیادہ بلندی) پر جانا بھی اس کا سبب بن سکتا ہے۔

علامات کیا ہیں

یہ مرض اچانک اور کم وقت (acute) کے لئے ہو تو یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں:

٭سانس لینے میں دشواری یا سانس کی شدید کمی ہوتی ہے جو کسی سرگرمی سے مزید بڑھ جاتی ہے۔

٭لیٹے ہوئے سانس بند ہونے یا ڈوبنے کا احساس ہوتا ہے۔

٭کھانسی کے ساتھ جھاگ والی اور خون کی حامل تھوک آتی ہے۔

٭دھڑکن بے قاعدہ ہو جاتی ہے۔

٭جلد ٹھنڈی ہوتی ہے اور اس میں چپچپاہٹ ہوتی ہے۔

٭سانس پھولتا ہے یا سانس لیتے ہوئے خرخراہٹ کی آواز آتی ہے۔

سانس میں کمی- پھیپھڑوں میں پانی کی علامت-شفانیوز

یہ دائمی(chronic) ہو تو بھی خرخراہٹ کے ساتھ سانس آتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ مسائل ہوتے ہیں:

٭کھانسی اور دم گھٹنے کے احساس کے ساتھ رات کو آنکھ کھل جاتی ہے۔ یہ کیفیت بیٹھنے سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔

٭تھکاوٹ ہوتی ہے۔

٭جسمانی سرگرمیاں کرتے ہوئے معمول سے زیادہ سانس کی کمی ہوتی ہے۔ لیٹے ہوئے بھی سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے۔

٭کھانسی مزید بگڑ جاتی ہے۔

٭تیزی سے وزن بڑھنے لگتا ہے۔

٭پاؤں اور ٹانگوں میں سوجن ہو جاتی ہے۔

اس کا سبب اونچائی پرجانا ہو تو سر درد ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں متاثرہ شخص معمول جتنی ورزش بھی نہیں کر پاتا۔ ابتدائی طور پر خشک کھانسی ہوتی ہے پھر اس کے ساتھ جھاگ والی اور گلابی رنگ کی تھوک آتی ہے۔ اس میں خون بھی ہو سکتا ہے۔ کمزوری، سینے میں درد اور کم درجے کا بخار بھی اس صورت میں ہو سکتا ہے۔

کم درجے کا بخار-پھیپھڑوں میں پانی کی علامت-شفانیوز

مرض کی تشخیص اور علاج

اس کی تشخیص کے لئے چھاتی کا ایکسرے، سی ٹی سکین، پلس آکسی میٹری، خون کے کچھ ٹیسٹ، ایکوکارڈیوگرام، ای سی جی اور الٹراساؤنڈ وغیرہ کیا جاتا ہے۔

ایکیوٹ پلمونری ایڈیما کے لئے سب سے پہلے ماسک یا ٹیوب کے ذریعے مریض کو آکسیجن فراہم کی جاتی ہے۔ سانس کے عمل کو بہتر کرنے کے لئے وینٹی لیٹر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مرض کی شدت اور وجہ کی بنیاد پر علاج کے لئے یہ آپشنز استعمال کیے جاسکتے ہیں:

٭پیشاب آور ادویات دی جاتی ہیں۔
٭بلڈ پریشر کو نارمل سطح پر برقرار رکھنے کے لئے ادویات دی جاتی ہیں۔

٭دل کے خون پمپ کرنے کے عمل کو بہتر بنانے کے لئے دوائیں دی جاتی ہیں۔

٭سانس کی تکلیف اور اینگزائٹی کو دور کرنے کے لئے بھی کچھ دوائیں دی جاتی ہیں۔

٭اونچائی پر جانے سے یہ مسئلہ ہوا ہو تو نیچے آنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

٭جسمانی سرگرمیوں کو روکنے اور جسم کو گرم رکھنے کی تجویز بھی دی جاتی ہے۔

زیادہ تر صورتوں میں اس مسئلے کا سبب دل سے جڑا کوئی عامل ہوتا ہے۔ ایسے میں دل کی صحت کا خیال رکھنے سے اس مسئلے کے امکانات بھی کم ہو سکتے ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

پھلبہری یا برص کیسی بیماری ہے

Read Next

چکر کیوں آتے ہیں

Leave a Reply

Most Popular