Vinkmag ad

پروسٹیٹ کینسر

Doctor holding a blue prostate cancer awareness ribbon and prostate symbol

پروسٹیٹ مردانہ تولیدی نظام کا ایک چھوٹا غدود ہے، جو مادہ منویہ کے مائع حصے کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ مثانے کے نیچے واقع ہوتا ہے۔ پروسٹیٹ کینسر (Prostate cancer) ایسی بیماری ہے جس میں پروسٹیٹ غدود کے خلیے غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتے ہیں۔

علامات

زیادہ تر مریضوں میں بیماری اس وقت تشخیص ہوتی ہے جب کینسر صرف پروسٹیٹ تک محدود ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر علامات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں، تاہم بعض افراد میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

٭ پیشاب میں خون آنا، جس سے پیشاب گلابی، سرخ یا گہرے بھورے رنگ کا نظر آ سکتا ہے

٭ منی میں خون آنا

٭ بار بار پیشاب کی حاجت محسوس ہونا

٭ پیشاب شروع کرنے میں دشواری ہونا

٭ رات کے وقت بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا

ایڈوانسڈ پروسٹیٹ کینسر

اگر پروسٹیٹ کینسر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جائے تو اسے ایڈوانسڈ پروسٹیٹ کینسر کہا جاتا ہے۔ اس حالت میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

٭ پیشاب پر قابو نہ رہنا

٭ کمر میں مسلسل درد

٭ ہڈیوں میں درد

٭ عضوِ تناسل میں سختی پیدا کرنے میں دشواری

٭ غیر معمولی تھکن محسوس ہونا

٭ بغیر کسی وجہ کے وزن کم ہونا

٭ بازوؤں یا ٹانگوں میں کمزوری محسوس ہونا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آپ کو مذکورہ علامات میں سے کوئی علامت محسوس ہو یا پیشاب سے متعلق کوئی ایسی تبدیلی نظر آئے جو تشویش کا باعث ہو، تو بلا تاخیر ڈاکٹر یا مستند طبی ماہر سے رجوع کریں۔

وجوہات

٭ پروسٹیٹ کینسر کی اصل وجہ اکثر معلوم نہیں ہو پاتی۔

٭ یہ بیماری اس وقت شروع ہوتی ہے جب پروسٹیٹ کے خلیوں کے ڈی این اے میں تبدیلی آ جاتی ہے۔

خطرے کے عوامل

درج ذیل عوامل پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:

٭ 50 سال سے زیادہ عمر ہونا

٭ سیاہ فام نسل سے تعلق ہونا

٭ فیملی میں پروسٹیٹ کینسر کی ہسٹری ہونا

٭ خاندان میں ڈی این اے کی موروثی تبدیلیوں کی موجودگی

٭ موٹاپا

٭ تمباکو نوشی

٭ نقصان دہ کیمیائی مادوں کے مسلسل یا زیادہ رابطہ ہونا

پیچیدگیاں

پروسٹیٹ کینسر یا اس کے علاج کے نتیجے میں درج ذیل پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:

٭ کینسر کا ہڈیوں یا جسم کے دوسرے اعضا تک پھیل جانا

٭ پیشاب پر قابو نہ رہنا

٭ عضوِ تناسل میں سختی پیدا کرنے میں دشواری

بچاؤ

پروسٹیٹ کینسر سے مکمل طور پر بچاؤ کا کوئی یقینی طریقہ موجود نہیں، تاہم صحت مند طرزِ زندگی اس کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

٭ متوازن غذا اختیار کریں، جس میں پھل، سبزیاں اور ثابت اناج شامل ہوں۔ حیوانی چکنائی کا استعمال محدود رکھیں

٭ ہفتے کے زیادہ تر دن باقاعدگی سے ورزش کریں

٭ صحت مند وزن برقرار رکھیں

٭ تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کریں

٭ اگر آپ کو اس بیماری کا زیادہ خطرہ ہو تو خطرہ کم کرنے والی ادویات کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں

تشخیص

پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر علامات، جسمانی معائنہ اور مختلف طبی ٹیسٹوں کی مدد لیتے ہیں۔ ان ٹیسٹوں سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کینسر موجود ہے یا نہیں، اگر موجود ہے تو کس مرحلے میں ہے، کتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کے لیے کون سا علاج زیادہ مؤثر ہوگا۔

پروسٹیٹ کینسر کی سکریننگ

سکریننگ ایسے افراد میں کی جاتی ہے جن میں بیماری کی کوئی واضح علامت موجود نہ ہو۔ اس کا مقصد کینسر کو ابتدائی مرحلے میں دریافت کرنا ہے تاکہ بروقت علاج شروع کیا جا سکے۔

مقعد کا معائنہ

اس معائنے میں ڈاکٹر دستانہ پہن کر اور چکنا مادہ استعمال کرتے ہوئے انگلی کے ذریعے پروسٹیٹ کا معائنہ کرتا ہے۔ اس سے پروسٹیٹ کے سائز، سختی اور کسی غیر معمولی تبدیلی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

پروسٹیٹ اسپیسفک اینٹی جن (پی ایس اے) ٹیسٹ

یہ خون کا ٹیسٹ ہے جس میں پی ایس اے نامی پروٹین کی مقدار ناپی جاتی ہے۔ اس پروٹین کی زیادہ مقدار پروسٹیٹ کی کسی بیماری، بشمول کینسر، کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

پروسٹیٹ الٹراساؤنڈ

اس ٹیسٹ میں پروسٹیٹ کی تصاویر حاصل کی جاتی ہیں تاکہ اس کی ساخت اور ممکنہ غیر معمولی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

ایم آر آئی

پروسٹیٹ کینسر کی بہتر تشخیص کے لیے مختلف اقسام کی ایم آر آئی کی جا سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ کنٹراسٹ اینہانسڈ ایم آر آئی

٭ اینڈوریکٹل کوائل کے ساتھ ایم آر آئی

٭ ملٹی پیرامیٹرک ایم آر آئی

پروسٹیٹ بائیوپسی

بایوپسی میں پروسٹیٹ سے ٹشو کا ایک چھوٹا نمونہ لے کر خوردبین کے ذریعے اس کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ پروسٹیٹ بایوپسی کی عام اقسام میں شامل ہیں:

٭ ٹرانس ریکٹل پروسٹیٹ بایوپسی

٭ پرینیئل پروسٹیٹ بایوپسی

گلیسن سکور اور گریڈ گروپ

پروسٹیٹ کینسر کے خلیوں کا گریڈ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ صحت مند خلیوں سے کتنے مختلف ہیں۔ جتنی زیادہ یہ تبدیلی ہو گی، کینسر کے تیزی سے بڑھنے کا امکان بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔

بائیومارکر ٹیسٹ

بائیومارکر ایسے حیاتیاتی اشارے ہیں جنہیں جسم میں شناخت کیا جا سکتا ہے۔ پروسٹیٹ کینسر میں یہ ٹیسٹ مختلف فیصلوں میں مدد دیتے ہیں۔

٭ یہ جانچنے کے لیے کہ بائیوپسی کی ضرورت ہے یا نہیں

٭ ابتدائی مرحلے کے پروسٹیٹ کینسر کے لیے مناسب علاج کا انتخاب کرنے کے لیے

٭ ایڈوانسڈ پروسٹیٹ کینسر کے علاج کا فیصلہ کرنے کے لیے

کینسر کے پھیلاؤ کا جائزہ لینے والے امیجنگ ٹیسٹ

اگر شبہ ہو کہ کینسر پروسٹیٹ سے باہر پھیل چکا ہے تو مختلف امیجنگ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ جب کینسر جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچ جائے تو اسے میٹاسٹیٹک، چوتھے مرحلے کا یا ایڈوانسڈ پروسٹیٹ کینسر کہا جاتا ہے۔ استعمال ہونے والے اہم امیجنگ ٹیسٹ یہ ہیں:

٭ بون سکین

٭ سی ٹی سکین

٭ ایم آر آئی سکین

٭ پی ای ٹی سکین

٭ پی ایس ایم اے پی ای ٹی سکین

پروسٹیٹ کینسر کے مراحل

پروسٹیٹ کینسر کو چار مراحل میں تقسیم کیا جاتا ہے:

مرحلہ 1: کینسر بہت چھوٹا ہوتا ہے اور صرف پروسٹیٹ تک محدود رہتا ہے۔ اس مرحلے میں مکمل صحت یابی کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔

مرحلہ 2: کینسر اب بھی پروسٹیٹ تک محدود ہوتا ہے، لیکن اس کا سائز یا شدت پہلے مرحلے سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

مرحلہ 3: کینسر پروسٹیٹ سے باہر قریبی ٹشوز تک پھیلنا شروع کر دیتا ہے، لیکن جسم کے دور دراز حصوں تک نہیں پہنچتا۔

مرحلہ 4: کینسر جسم کے دوسرے اعضا، مثلاً ہڈیوں یا لمف نوڈز، تک پھیل چکا ہوتا ہے۔

علاج

پروسٹیٹ کینسر کا علاج مریض کی عمر، عمومی صحت، کینسر کے مرحلے، اس کی بڑھنے کی رفتار اور ذاتی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر منتخب کیا جاتا ہے۔ ہر مریض کے لیے علاج کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔

فعال نگرانی

ہر مریض کو فوری علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر کینسر ابتدائی مرحلے میں ہو، آہستہ بڑھ رہا ہو اور علامات پیدا نہ کر رہا ہو تو ڈاکٹر صرف اس کی باقاعدہ نگرانی کرتے ہیں۔

سرجری

پروسٹیٹ کینسر کی سرجری میں عموماً پورا پروسٹیٹ غدود نکال دیا جاتا ہے۔ اس آپریشن کو پروسٹیٹیکٹومی کہا جاتا ہے۔ یہ علاج زیادہ تر ان مریضوں کے لیے مؤثر ہوتا ہے جن میں کینسر صرف پروسٹیٹ تک محدود ہو۔ بعض صورتوں میں اگر کینسر قریبی لمف نوڈز تک پہنچ چکا ہو تو بھی سرجری کی جا سکتی ہے۔

پروسٹیٹیکٹومی کی عام اقسام میں شامل ہیں:

٭ لیپروسکوپک پروسٹیٹیکٹومی

٭ روبوٹک پروسٹیٹیکٹومی

٭ اوپن پروسٹیٹیکٹومی

بیرونی شعاعی ریڈی ایشن تھراپی

ریڈی ایشن تھراپی میں طاقتور شعاعوں کے ذریعے کینسر کے خلیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بیرونی شعاعی ریڈی ایشن تھراپی میں ایک مخصوص مشین جسم کے باہر سے پروسٹیٹ پر شعاعیں ڈالتی ہے تاکہ کینسر کے خلیوں کو تباہ کیا جا سکے۔

بریکی تھراپی

بریکی تھراپی ریڈی ایشن تھراپی کی ایک قسم ہے، جس میں تابکار مادہ پروسٹیٹ کے اندر یا اس کے قریب رکھا جاتا ہے۔ اس طریقے سے کینسر کے خلیوں پر براہِ راست اثر ڈالا جاتا ہے، جبکہ اردگرد کے صحت مند ٹشوز کو نسبتاً کم نقصان پہنچتا ہے۔

ابلیشن تھراپی

ابلیشن میں علاج براہِ راست کینسر کے خلیوں پر کیا جاتا ہے تاکہ انہیں تباہ کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ پروسٹیٹ کینسر کا معمول کا علاج نہیں، لیکن بعض مخصوص مریضوں میں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

ہارمون تھراپی

پروسٹیٹ کینسر کی افزائش میں ٹیسٹوسٹیرون اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہارمون تھراپی کا مقصد اس ہارمون کی پیداوار روکنا یا اسے کینسر کے خلیوں تک پہنچنے سے روکنا ہوتا ہے۔

کیموتھراپی

کیموتھراپی میں طاقتور ادویات استعمال کی جاتی ہیں جو کینسر کے خلیوں کو ختم یا ان کی افزائش کو سست کرتی ہیں۔ بعض مریضوں میں یہ علاج ہارمون تھراپی کے ساتھ بھی دیا جاتا ہے۔

ٹارگٹڈ تھراپی

ٹارگٹڈ تھراپی میں ایسی ادویات استعمال کی جاتی ہیں جو کینسر کے خلیوں میں موجود مخصوص جینیاتی یا کیمیائی تبدیلیوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

امیونوتھراپی

امیونوتھراپی جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے تاکہ وہ کینسر کے خلیوں کو پہچان کر ختم کر سکے۔

ریڈیوفارماسیوٹیکل علاج

ریڈیوفارماسیوٹیکل ایسی ادویات ہیں جن میں تابکار مادہ شامل ہوتا ہے۔ یہ دوا جسم میں جا کر براہِ راست کینسر کے خلیوں کو نشانہ بناتی ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا پروسٹیٹ کینسر مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتا ہے؟

اگر بیماری ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو مناسب علاج سے زیادہ تر مریض مکمل صحت یاب ہو سکتے ہیں۔

کیا ہر مریض کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے؟

نہیں۔ اگر کینسر آہستہ بڑھ رہا ہو اور علامات پیدا نہ کر رہا ہو تو بعض مریضوں میں صرف باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے۔

پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے بعد کون سی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں؟

علاج کے بعد بعض مریضوں میں پیشاب پر قابو نہ رہنا، عضوِ تناسل میں سختی پیدا کرنے میں دشواری یا تھکن جیسی شکایات ہو سکتی ہیں۔ یہ مسائل علاج کی نوعیت اور مریض کی صحت کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔

کیا پروسٹیٹ کینسر سے بچاؤ ممکن ہے؟

اس بیماری سے مکمل بچاؤ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، تاہم متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب وزن برقرار رکھنا اور تمباکو نوشی سے پرہیز خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=urologist

Vinkmag ad

Read Previous

پھیپھڑوں کا کینسر

Read Next

سیریبرل پالسی

Leave a Reply

Most Popular