ڈینگی: بچاؤ کیسے کریں

14

اس سے بچائو کی نہ تو ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص دواموجود ہے۔ مریض کومحض معاون علاج فراہم کیا جاتاہے‘ اسے پانی یادیگر مشروبات زیادہ پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور اگر ضروری ہو تواسے ڈِرپ بھی لگادی جاتی ہے۔لہٰذا اس وقت اس سے بچائو کا واحد راستہ مچھر سے بچائو ہے ۔ اس کے لئے درج ذیل احتیاطیں اہم ہیں:

٭دروازوں اور کھڑکیوں پر جالی لگوائیں ۔ انہیں خاص طور پر صبح اور شام کے وقت بند رکھیں۔
٭ مچھر دانیوں کا استعمال اس سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے۔
٭بچوں کو چاہیے کہ باہر کھیلتے ہوئے احتیاط کریں۔پانی والی جگہ یا کسی جوہڑ کے قریب کھیلنے اور بیٹھنے سے اجتناب کریں۔
٭ مچھروں کے موسم اور ماحول میں ایسا لباس پہنیں جو جسم کو زیادہ سے زیادہ ڈھانپ کر آپ کو ان سے محفوظ رکھ سکے ۔
٭ گھر کے آس پاس موجود پانی کے گڑھے مٹی سے بھر دیں یا ان پر تیل چھڑک دیں تاکہ مچھر وہاں بیٹھنے نہ پائیں
٭بدن کے کھلے حصوں پر مچھر بھگانے والی دوائیں استعمال کریں۔
٭ اپنے اردگرد کا ماحول صاف رکھیں تاکہ نہ صرف ڈینگی بلکہ مچھروں سے پھیلنے والی مزید کئی بیماریوں سے بھی بچ سکیں ۔

ڈینگی کی صورت میں ایسی خوراک استعمال کریں جس میں غذائیت کے ساتھ ساتھ وٹامنز (مثلاً وٹامن بی‘کے اور سی)بھی شامل ہوں۔ اس مرض میں ہرے پتوں والی سبزیاں‘ مالٹے‘پپیتا‘ناریل کا پانی‘ تربوز، اور امرود مفید ہیں۔ خوراک میں دلیہ یا نرم غذا کا استعمال فائدہ مند ہے۔تلی ہوئی اور چٹ پٹی خوراک سے مکمل پرہیز کریں۔ ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘ تمام بیماریوں میں ایک بہتر اور قابل عمل حکمت عملی ہے جبکہ ڈینگی کے تناظر میں تو یہ واحد حل ہے ۔ اس لئے اس پر لازماً عمل کریں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of