Vinkmag ad

شخصیت کے عوارض

A grunge-textured conceptual illustration of multiple human head profiles, layered and overlapping, representing personality disorders

شخصیت کے عوارض (Personality Disorders) ایسی ذہنی کیفیات ہیں جن میں فرد اپنے بارے میں سوچنے اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے مستقل طور پر غیر موافق انداز کا شکار ہوتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے جذبات کو سمجھنا، انہیں برداشت کرنا اور حالات کے مطابق درست ردعمل دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کے تعلقات، تعلیم، ملازمت اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

انسانی شخصیت مختلف خصوصیات کے پیچیدہ امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ خصوصیات اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ فرد خود کو اور اپنے اردگرد کی دنیا کو کیسے دیکھتا اور اس کے ساتھ کیسے برتاؤ کرتا ہے۔ شخصیت ابتدائی زندگی میں تشکیل پاتی ہے اور اس پر دو بنیادی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں:

٭ جینیاتی عوامل، جنہیں مزاج بھی کہا جاتا ہے اور جو والدین سے منتقل ہو سکتے ہیں

٭ ماحولیاتی عوامل، جن میں خاندانی تعلقات، تجربات اور اردگرد کے حالات شامل ہوتے ہیں

علامات

بعض افراد کو اپنے عارضے کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ ان کا رویہ انہیں معمول کا محسوس ہوتا ہے، اور وہ اپنے مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال سکتے ہیں۔

شخصیتی امراض کو تین بڑے گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے جنہیں کلسٹر کہا جاتا ہے۔ ہر گروپ میں مخصوص خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

گروپ اے (عجیب یا مشکوک رویے)

یہ گروپ ایسے افراد پر مشتمل ہوتا ہے جو دوسروں پر کم اعتماد کرتے ہیں یا سماجی طور پر الگ تھلگ رہتے ہیں۔

شک کرنے والی شخصیت

٭ دوسروں کے ارادوں پر غیر ضروری شک کرنا

٭ وفاداری اور اعتماد پر بار بار سوال اٹھانا

٭ معلومات شیئر کرنے سے گریز کرنا

٭ معمولی باتوں کو ذاتی حملہ سمجھنا

٭ رنجشیں طویل عرصے تک رکھنا

٭ بغیر وجہ شریکِ حیات پر بے وفائی کا شک کرنا

تنہائی پسند شخصیت

٭ سماجی تعلقات میں عدم دلچسپی

٭ زیادہ تر وقت تنہائی کو ترجیح دینا

٭ جذبات کا محدود اظہار

٭ اجتماعی سرگرمیوں میں کم دلچسپی

٭ سماجی اشاروں کو سمجھنے میں مشکل

٭ قریبی تعلقات یا جنسی وابستگی میں کم رغبت

غیرمعمولی خیالات والی شخصیت

٭ غیر معمولی خیالات اور عقائد

٭ عجیب تجربات یا آوازیں سننے کا احساس

٭ جذباتی اظہار کی کمی یا غیر معمولی ردعمل

٭ سماجی تعلقات میں شدید اضطراب

٭ خیالات کے ذریعے واقعات پر اثر انداز ہونے کا یقین

٭ عام واقعات میں خفیہ معنی تلاش کرنا

گروپ بی (جذباتی اور غیر متوقع رویے)

شدید جذباتی عدم استحکام والی شخصیت

٭ اکیلے رہ جانے یا چھوڑ دیے جانے کا شدید خوف

٭ اندرونی خالی پن کا احساس

٭ غیر مستحکم تعلقات اور شناخت

٭ موڈ میں تیزی سے تبدیلیاں

٭ خود کو نقصان پہنچانے یا خودکشی کے خیالات

٭ شدید غصہ اور جذباتی بے قابو پن

٭ خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ رویے

توجہ کی شدید طلب والی شخصیت

٭ مسلسل توجہ حاصل کرنے کی کوشش

٭ حد سے زیادہ ڈرامائی یا جذباتی رویہ

٭ سطحی جذبات جو تیزی سے بدل جائیں

٭ ظاہری شخصیت اور کشش پر زیادہ توجہ

٭ تعلقات کو حقیقت سے زیادہ قریبی سمجھنا

٭ کم معلومات کے ساتھ مضبوط رائے دینا

خود پسندی اور احساس برتری والی شخصیت

٭ خود کو غیر معمولی طور پر اہم سمجھنا

٭ طاقت اور کامیابی کے خیالات

٭ دوسروں کے جذبات کو نظر انداز کرنا

٭ مسلسل تعریف اور توجہ کی خواہش

٭ اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا

٭ دوسروں پر برتری کا احساس

سماج مخالف رجحانات والی شخصیت

٭ دوسروں کے حقوق کا احترام نہ کرنا

٭ جھوٹ، دھوکہ دہی اور جعل سازی

٭ قانون کی بار بار خلاف ورزی

٭ جارحانہ اور پرتشدد رویہ

٭ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کی پرواہ نہ کرنا

٭ اپنے اعمال پر ندامت کا فقدان

گروپ سی (اضطرابی اور خوف زدہ رویے)

سماجی خوف والی شخصیت

٭ تنقید اور رد کیے جانے کا شدید خوف

٭ سماجی سرگرمیوں سے گریز

٭ خود اعتمادی کی کمی

٭ تنہائی کو ترجیح دینا

٭ نئی سرگرمیوں اور لوگوں سے اجتناب

٭ شرمندگی اور تضحیک کا خوف

دوسروں پر انحصار کرنے والی شخصیت

٭ دوسروں پر حد سے زیادہ انحصار

٭ فیصلوں میں مستقل رہنمائی کی ضرورت

٭ اکیلے رہنے کا خوف

٭ خود اعتمادی کی کمی

٭ اختلاف رائے ظاہر کرنے میں مشکل

٭ تعلق ختم ہونے پر فوری نیا تعلق قائم کرنا

اوسی ڈی پی شخصیت کا عارضہ

٭ اصولوں، ترتیب اور تفصیلات پر حد سے زیادہ توجہ

٭ کمال پسندی کی وجہ سے کام مکمل نہ کرنا

٭ کنٹرول کی شدید ضرورت

٭ دوسروں پر کام چھوڑنے میں مشکل

٭ سخت اخلاقی اور رویے کے اصول

٭ غیر ضروری اشیاء نہ پھینکنا

یہ عارضہ او سی ڈی سے مختلف ہے

اکثر افراد میں ایک سے زیادہ شخصیتی عوارض کی علامات پائی جا سکتی ہیں اور ان کی شدت مختلف ہو سکتی ہے۔

اسباب

یہ عوارض جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کے امتزاج سے پیدا ہوتے ہیں۔ بعض حالات میں زندگی کے منفی تجربات ان کے آغاز کا سبب بنتے ہیں۔

خطرے کے عوامل

٭ غیر مستحکم یا غیر محفوظ بچپن

٭ جذباتی، جسمانی یا جنسی زیادتی

٭ خطرہ مول لینے یا حد سے زیادہ احتیاط کا رجحان

٭ کمزور خود کنٹرول

پیچیدگیاں

یہ امراض تعلقات، تعلیم اور ملازمت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ نشے، ذہنی بیماریوں اور قانونی مسائل کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

تشخیص

٭ جسمانی معائنہ اور میڈیکل ہسٹری

٭ ذہنی صحت کا تفصیلی جائزہ

٭ معیاری نفسیاتی ٹیسٹ اور سوالنامے

٭ DSM-5-TR معیار سے موازنہ

٭ بعض صورتوں میں نیورو سائیکالوجیکل ٹیسٹنگ

ڈاکٹر سے رجوع کب کریں

اگر رویے یا جذباتی مسائل زندگی کو متاثر کریں تو ماہرِ ذہنی صحت سے رجوع ضروری ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں تعلقات، کام اور ذہنی کیفیت مزید خراب ہو سکتی ہے۔

علاج

علاج کا انحصار حالت کی شدت پر ہوتا ہے اور اکثر طویل مدتی ٹیم اپروچ ضروری ہوتا ہے۔

ڈائلیکٹیکل بیہیویئر تھراپی (ڈی بی ٹی)

یہ بنیادی تھراپی ہے جو خطرناک رویوں، جذباتی بے توازن اور خود نقصان کے رجحانات کو کم کرتی ہے۔ اس میں ان امور کی تربیت شامل ہے:

٭ جذبات پر قابو پانا

٭ ذہنی دباؤ کا مقابلہ

٭ مائنڈ فلنیس

٭ مؤثر سماجی تعلقات

ادویات

٭ اینٹی ڈپریسنٹس

٭ موڈ سٹیبلائزرز

٭ اینٹی سائیکوٹک ادویات

٭ اینٹی اینگزائٹی ادویات

شدید حالت میں ہسپتال داخلہ ضروری ہو سکتا ہے۔

طرزِ زندگی اور احتیاط

٭ علاج کے تسلسل کو برقرار رکھنا

٭ ادویات باقاعدگی سے لینا

٭ بیماری سے متعلق آگاہی حاصل کرنا

٭ جسمانی سرگرمی جاری رکھنا

٭ نشہ آور اشیاء سے پرہیز

٭ باقاعدہ طبی معائنہ کروانا

نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ صحت کے معاملات میں ہمیشہ مستند معالج سے رجوع کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

درد کے ساتھ ماہواری

Read Next

پیپٹک السر: معدے کے کھلے زخم

Leave a Reply

Most Popular