پیپٹک السر (Peptic ulcer) معدے اور چھوٹی آنت کے اوپری حصے کی اندرونی تہہ میں بننے والے کھلے زخم ہیں۔ ان کی سب سے عام علامت معدے میں درد ہے۔ ان کی اقسام میں شامل ہیں:
٭ معدے کے السر، جو معدے کے اندر بنتے ہیں
٭ وہ السر جو چھوٹی آنت کے ابتدائی حصے میں بنتے ہیں
پیپٹک السر کی نمایاں وجوہات میں ایچ پائلوری جراثیم اور این ایس اے آئی ڈی ایس کا طویل استعمال شامل ہے۔ ذہنی دباؤ اور مصالحہ دار غذائیں السر پیدا نہیں کرتیں، لیکن علامات کو بڑھا سکتی ہیں۔
علامات
بہت سے افراد میں پیپٹک السر کی واضح علامات نہیں ہوتیں۔ علامات ظاہر ہونے پر ان میں شامل ہو سکتی ہیں:
٭ ہلکا یا جلنے جیسا معدے کا درد، جو اکثر کھانے کے دوران یا رات کے وقت زیادہ محسوس ہوتا ہے
٭ پیٹ بھرا یا پھولا ہوا محسوس ہونا
٭ ڈکار آنا
٭ سینے میں جلن
٭ متلی
اگر السر سے خون بہنے لگے تو یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
٭ خون کی قے، جو سرخ یا سیاہ ہو سکتی ہے
٭ سیاہ یا تارکول جیسا پاخانہ
٭ چکر آنا یا بے ہوشی
وجوہات
پیپٹک السر اس وقت بنتا ہے جب معدے کا تیزاب اندرونی تہہ کو نقصان پہنچاتا ہے، جس سے دردناک زخم بن سکتا ہے اور بعض اوقات خون بھی بہتا ہے۔
ہاضمے کی نالی میں موجود بلغم عام طور پر معدے کے تیزاب سے حفاظت کرتا ہے، لیکن جب تیزاب اور بلغم کے درمیان توازن خراب ہو جائے تو السر بن سکتا ہے۔
عام وجوہات میں شامل ہیں:
٭ ایچ پائلوری جراثیم، جو معدے کی تہہ میں سوزش پیدا کر کے السر کا سبب بنتا ہے، اور آلودہ خوراک یا پانی کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے
٭ درد کم کرنے والی ادویات، جیسے اسپرین اور این ایس اے آئی ڈی ایس کا طویل استعمال
خطرے کے عوامل
درج ذیل عوامل پیپٹک السر کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:
٭ 60 سال سے زیادہ عمر
٭ ماضی میں پیپٹک السر ہونا
٭ زیادہ مقدار یا ایک سے زیادہ درد کم کرنے والی ادویات کا استعمال
دیگر ادویات کے ساتھ استعمال بھی خطرہ بڑھاتا ہے، جیسے سٹیرائیڈز، خون پتلا کرنے والی ادویات اور کچھ اینٹی ڈپریسنٹس۔
وہ عوامل جو السر پیدا نہیں کرتے مگر حالت خراب کر سکتے ہیں:
٭ تمباکو نوشی
٭ الکحل کا استعمال
٭ ذہنی دباؤ
٭ مصالحہ دار غذائیں
پیچیدگیاں
اگر علاج نہ کیا جائے تو پیپٹک السر سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے:
٭ معدے میں خون بہنا
٭ معدے کی دیوار میں سوراخ ہونا
٭ ہاضمے کی نالی میں رکاوٹ
٭ معدے کے کینسر کا خطرہ بڑھ جانا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر خون کی قے ہو، پاخانے میں سیاہ خون ہو یا شدید چکر آئیں تو بلا تاخیر طبی مدد حاصل کریں۔
اگر عام ادویات سے وقتی آرام ملے مگر درد دوبارہ ہو جائے تو معائنہ ضروری ہے۔
تشخیص
تشخیص کے لیے ڈاکٹر میڈیکل ہسٹری لیتے اور معائنہ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں:
٭ ایچ پائلوری کے لیے خون، پاخانے یا سانس کا ٹیسٹ
٭ اینڈوسکوپی، جس میں معدے کا اندرونی معائنہ کیا جاتا ہے
٭ اوپری نظامِ ہاضمہ کا ایکسرے
علاج
علاج کا مقصد جراثیم کا خاتمہ اور زخم کو بھرنا ہوتا ہے۔ استعمال ہونے والی ادویات میں شامل ہیں:
٭ اینٹی بائیوٹکس
٭ پروٹون پمپ انہیبیٹرز
٭ تیزاب کم کرنے والی ادویات
٭ اینٹاسیڈز
٭ معدے کی حفاظتی ادویات
زیادہ تر مریضوں میں علاج سے السر ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر علامات برقرار رہیں تو مزید معائنہ کیا جاتا ہے۔
مزاحم السر
اگر السر ٹھیک نہ ہو تو اسے مزاحم السر کہا جاتا ہے۔ اس کی وجوہات میں شامل ہیں:
٭ ادویات درست طریقے سے نہ لینا
٭ جراثیم کی مزاحمت
٭ درد کم کرنے والی ادویات کا مسلسل استعمال
کم صورتوں میں اس کی وجہ زیادہ تیزاب یا دیگر بیماری بھی ہو سکتی ہے۔
بچاؤ کی تدابیر
پیپٹک السر سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری ہے:
٭ درد کم کرنے والی ادویات احتیاط سے استعمال کریں اور کھانے کے ساتھ لیں
٭ تمباکو نوشی ترک کریں
٭ ذہنی دباؤ کم کریں
٭ الکحل سے پرہیز کریں
٭ درد کی دوا تبدیل کرنے کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کریں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔