پاکستان اور ترکیہ نے ویکسین کی مقامی تیاری اور ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجی سمیت صحت کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کا فیصلہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور اعلیٰ سطح کے ترک تکنیکی وفد کی ملاقات میں ہوا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پاکستان نے پہلی بار نیشنل ویکسین پالیسی تشکیل دی ہے۔ قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کی جاتی ہیں. تاہم یہ تمام ویکسین بیرون ملک سے درآمد ہوتی ہیں۔
وزیر صحت کے مطابق ویکسین کے لیے بین الاقوامی مالی تعاون 2030 یا 2031 تک ختم ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بعد پاکستان کو ویکسین کی ضروریات پر سالانہ تقریباً 1.2 ارب ڈالر کے اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک انڈونیشیائی بایوفارماسیوٹیکل کمپنی سے معاہدے بھی کیے گئے ہیں۔