Vinkmag ad

ہر دوسری پاکستانی عورت بانجھ پن کےخطرے سے دوچار

ماہرین صحت کے مطابق ہر دوسری پاکستانی عورت بانجھ پن کےخطرے سے دوچار ہے۔ اس کا سبب ایک مرض پولی سسٹک اووری سنڈروم (پی سی او ایس) ہے۔ یہ ہارمونز سے متعلق مرض ہے جو بیضہ دانی کے کام میں خلل ڈال سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ دیگر مسائل کے علاوہ بانجھ پن کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔ ایسے میں انہیں آئی وی ایف جیسی معاون تولیدی ٹیکنالوجیز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار ماہرین صحت نے پاکستان کی پہلی بین الاقوامی پی سی او ایس سربراہی کانفرنس میں کیا۔ اسلام آباد میں منعقدہ اس کانفرنس میں متعدد مقامی اور بین الاقوامی ماہرین امراض نسواں نے شرکت کی۔

پاکستان عورت بانجھ پن کی شکار کیوں

ماہرین نے بتایا کہ تولیدی عمر کی 70 فیصد خواتین میں اس کی تشخیص ہی نہیں ہوتی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ بنیادی سبب ڈھونڈنے کے بجائے دیگر ٹوٹکے آزماتی رہتی ہیں۔ انہوں نے سکول اور کالج کی لڑکیوں میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرض خواتین کے لیے سماجی اور نفسیاتی مسائل کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نگہداشت صحت کے نظام پر دباؤ کا بھی باعث ہے.

بے قاعدہ ماہواری ایک نمایاں علامت

معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ثاقب صدیق نے کہا کہ پی سی او ایس کی کوئی ایک حتمی وجہ نہیں ہے۔ کچھ عوامل کو اس مرض کے ساتھ وابستہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ ان میں موروثیت، چینی اور کاربوہائیڈریٹس کا زیادہ استعمال اورجسمانی  سرگرمیوں کی کمی نمایاں ہیں۔ موروثیت ہمارے بس میں نہیں، تاہم باقی امور ہماری دسترس میں ہیں۔ ان پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بے قاعدہ ماہواری اس کی ایک نمایاں علامت ہے۔ اس کے علاوہ خواتین مہاسوں، چہرے پر بالوں اور مردانہ طرز کے گنجے پن کی شکار بھی ہو سکتی ہیں۔ انہیں ماہرین امراض جلد سے زیادہ گائناکالوجسٹ کی ضرورت ہوتی یے۔

غذائی احتیاطیں اور وزن کنٹرول کریں

سینئر گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر شمسہ رضوان کے مطابق  پی سی او ایس  والی بہت سی خواتین کو وزن بڑھنے اور اسے کم کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں انسولین کے خلاف مزاحمت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ مزاحمت ٹائپ 2 ذیابیطس کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ اپنے طرز زندگی کو صحت مندانہ بنائیں۔ زیادہ پروٹین والی غذائیں کھائیں۔ کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی سے بھرپور غذاؤں سے پرہیز کریں۔ نو عمر لڑکیاں وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کروائیں۔ اس کی کمی ہو تو اس کا علاج کرائیں اور دھوپ سے فائدہ اٹھائیں۔ اس کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں

سینئر گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر رضوانہ چوہدری نے کہا کہ پی سی او ایس  کا کوئی علاج نہیں۔ جو علاج کیا جاتا ہے وہ زیادہ تر علامات کو کنٹرول کرنے اور پیچیدگیوں سے نپٹنےتک محدود ہوتا ہے۔ ہر دوسری پاکستانی عورت بانجھ پن کے خطرے سے دوچار ہو تو اسے سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے مرض سے بچاؤ کے لیے صحت بخش غذا، باقاعدہ ورزش اور وزن کو حد میں رکھنا بہت ضروری ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

Body aches and joint pain

Read Next

MYTH: Sleeping without pillow is good for posture

Leave a Reply

Most Popular