پاکستان میں گزشتہ دو سال کے دوران بعض ادویات کی قلت شدت اختیار کر گئی تھی۔ اب تقریباً 200 ’غائب ادویات‘ میں سے 160 دوبارہ مارکیٹ میں دستیاب ہو گئی ہیں۔ پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے مطابق مریضوں کی بیشتر ادویات تک رسائی اب مسئلہ نہیں رہا۔
پی پی ایم اے کے مطابق ادویات کی قلت کی بنیادی وجہ ان کی پیداواری لاگت کا ریٹیل قیمت سے زیادہ ہو جانا تھا۔ اس کے نتیجے میں ٹی بی، کینسر، ذیابیطس، امراض قلب اور نفسیاتی امراض کی دوائیں متاثر ہوئیں۔
سابق چیئرمین توقیر الحق کے مطابق باقی 40 ادویات اگلے تین سے چار ماہ میں مارکیٹ میں آئیں گی۔ تاہم ان کی پیداوار درآمدی خام مال کی دستیابی پر منحصر ہے۔ فارما انڈسٹری کے مطابق قیمتوں کی ڈی ریگولیشن سے پیداوار اور سپلائی چین مکمل طور پر بحال ہوئی ہے۔
Tags: ادویات کی قلت