Vinkmag ad

مارننگ سکنس: دورانِ حمل متلی اور قے

A pregnant woman wearing a blue sweater kneels on a bathroom floor, leaning over a toilet and holding a cloth to her forehead while experiencing morning sickness.

متلی ایک عام کیفیت ہے جس میں قے آنے جیسا احساس ہوتا ہے۔ یہ مختلف وجوہات، مثلاً معدے کی خرابی، سفر یا بیماری کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ مارننگ سکنس (Morning sickness)  اسی متلی (اور بعض اوقات قے) کو کہا جاتا ہے جو خاص طور پر حمل کے دوران ہارمونز کی تبدیلی کے باعث ہوتی ہے۔ یعنی ہر مارننگ سکنس میں متلی شامل ہوتی ہے، جبکہ ہر متلی مارننگ سکنس نہیں ہوتی۔ نام میں ”صبح” کے الفاظ کے باوجود یہ مسئلہ دن یا رات کے کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔

زیادہ تر خواتین کو یہ شکایت حمل کے پہلے تین مہینوں میں ہوتی ہے، تاہم کچھ میں یہ پورے حمل کے دوران برقرار رہتی ہے۔ دن میں تھوڑا تھوڑا کھانا کھانا اور ادرک والا مشروب پینا اس میں فائدہ دے سکتا ہے۔ بغیر نسخے کی ادویات بھی متلی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

علامات

حمل کے دوران متلی، چاہے قے ہو یا نہ ہو، ایک عام علامت ہے۔ اکثر اوقات یہ کیفیت مخصوص بو یا کھانے سے شروع ہو جاتی ہے۔ یہ مسئلہ عموماً حمل کے پہلے تین مہینوں میں ظاہر ہوتا ہے، اور اکثر نو ہفتوں سے پہلے اس کا آغاز ہو جاتا ہے۔ علامات عام طور پر دوسرے تین مہینوں کے وسط یا آخر تک بہتر ہو جاتی ہیں۔

اسباب

مارننگ سکنس کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہے، تاہم ہارمونز میں تبدیلی اس کا ایک ممکنہ سبب ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھار غیر متعلق طبی مسائل بھی شدید متلی پیدا کر سکتے ہیں۔ تھائی رائیڈ یا پتے کی بیماریاں اس کی کچھ مثالیں ہیں۔

خطرے کے عوامل

مارننگ سکنس کسی بھی حاملہ خاتون کو ہو سکتی ہے، لیکن آپ کو اس کا خطرہ زیادہ ہے اگر:

٭ حمل سے پہلے بھی متلی یا قے کا مسئلہ رہا ہو

٭ پچھلے حمل میں یہ مسئلہ ہو چکا ہو

٭ جڑواں یا ایک سے زیادہ بچوں کا حمل ہو

کبھی کبھار یہ کیفیت شدید ہو کر ہائپریمیسس گریویڈیرم بن جاتی ہے۔ اس میں جسم میں پانی کی شدید کمی یا وزن میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ہسپتال میں علاج کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ہائپریمیسس گریویڈیرم کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے، اگر:

٭ گر بچے کی جنس لڑکی ہو تو خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے

٭ خاندان میں یہ بیماری موجود ہو

٭ پہلے حمل میں یہ مسئلہ ہو چکا ہو

پیچیدگیاں

ہلکی متلی اور قے عموماً نقصان دہ نہیں ہوتی۔ اگر علاج نہ کیا جائے تو شدید متلی جسم میں پانی کی کمی پیدا کر سکتی ہے، جسے ڈی ہائیڈریشن کہا جاتا ہے۔ یہ جسم میں نمکیات مثلاً خون میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی سطح کے توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ شدید قے سے پیشاب کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔ اس بات پر تحقیق میں اختلاف ہے کہ آیا یہ حالت بچے کے وزن پر اثر انداز ہوتی ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

٭ پیشاب نہ آئے یا بہت کم اور گہرے رنگ کا ہو

٭ پانی یا دیگر مشروبات جسم میں برقرار نہ رکھ سکیں

٭ کھڑے ہونے پر چکر آئیں یا کمزوری محسوس ہو

٭ دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر تیز ہو

بچاؤ کی تدابیر

مارننگ سکنس سے مکمل بچاؤ کا کوئی یقینی طریقہ موجود نہیں، تاہم حمل سے پہلے اور دورانِ حمل وٹامن کا استعمال مفید ہو سکتا ہے۔

تشخیص

مارننگ سکنس کی تشخیص عموماً علامات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگر شدید حالت کا شبہ ہو تو مزید ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں جسمانی معائنہ، پیشاب اور خون کے ٹیسٹ شامل ہیں۔

علاج

علاج میں وٹامن بی-6، ادرک اور ڈوکسیلامین جیسی ادویات شامل ہوتی ہیں۔ اگر علامات برقرار رہیں تو متلی کم کرنے والی نسخے کی ادویات دی جا سکتی ہیں۔ قے کی وجہ سے پانی کی کمی اور نمکیات کا توازن متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے درمیانی یا شدید حالت میں اضافی پانی اور ادویات دی جاتی ہیں۔

شدید صورت میں ہسپتال میں رگ کے ذریعے پانی اور ادویات دی جا سکتی ہیں۔ کبھی کبھار وزن میں مسلسل کمی پر خوراک کی نالی لگانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس لیے حمل کے دوران کوئی بھی دوا لینے سے پہلے معالج سے مشورہ ضروری ہے۔

طرزِ زندگی اور گھریلو تدابیر

٭ خوراک احتیاط سے منتخب کریں۔ پروٹین والی، کم چکنائی والی اور زود ہضم غذا لیں۔ چکنائی اور مصالحہ دار کھانوں سے پرہیز کریں۔ ہلکی غذا جیسے کیلا، چاول اور ٹوسٹ مفید رہتے ہیں۔ ادرک والی چیزیں بھی مددگار ہوتی ہیں۔

٭ تھوڑا تھوڑا کھائیں۔ صبح اٹھنے سے پہلے بسکٹ یا خشک ٹوسٹ لیں۔ دن بھر کم مقدار میں کھاتے رہیں۔ خالی یا بہت بھرا پیٹ متلی کو بڑھا سکتا ہے۔

٭ زیادہ مائع جات لیں۔ پانی، ادرک والا مشروب یا ادرک کی چائے پئیں۔ روزانہ 6 سے 8 گلاس بغیر کیفین مشروبات لینے کی کوشش کریں۔

٭ متلی کے محرکات سے بچیں، ایسی خوراک یا بو سے دور رہیں جو متلی کو بڑھاتی ہو

٭ وٹامن لیتے وقت احتیاط کریں۔ اگر متلی ہو تو وٹامن کھانے کے ساتھ یا سونے سے پہلے لیں۔ چبانے والے یا جیلی وٹامن بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ضرورت ہو تو معالج سے متبادل کے بارے میں پوچھیں۔

٭ قے کے بعد منہ صاف کریں۔ معدے کا تیزاب دانتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اس لیے پانی اور بیکنگ سوڈا سے کلی کرنا دانتوں کی حفاظت میں مدد دیتا ہے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

پٹھوں کا درد

Read Next

ذیابیطسی نیوروپیتھی

Leave a Reply

Most Popular