زیادہ تر افراد کو زندگی میں کبھی نہ کبھی پٹھوں میں درد، کھچاؤ یا ان کی اکڑن کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ درد جسم کے کسی خاص حصے میں ہو سکتا ہے، اور پورے جسم کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اس کی شدت ہلکی سے شدید تک ہو سکتی ہے اور بعض اوقات جسمانی حرکت کو محدود کر دیتی ہے۔ پٹھوں کا درد (Muscle pain) اچانک شروع ہو سکتا ہے یا آہستہ آہستہ بڑھ سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ جسمانی سرگرمی کے بعد یا دن کے مخصوص اوقات میں زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اس دوران درد، کھچاؤ، اکڑن یا اینٹھن جیسے احساسات پیدا ہو سکتے ہیں۔
زیادہ تر کیسز میں یہ درد کچھ وقت بعد خود ہی ختم ہو جاتا ہے، تاہم بعض اوقات یہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ یہ جسم کے کسی بھی حصے مثلاً گردن، کمر، ٹانگوں، بازوؤں اور ہاتھوں میں ہو سکتا ہے۔
وجوہات
پٹھوں کے درد کی عام وجوہات میں ذہنی دباؤ، زیادہ جسمانی سرگرمی اور معمولی چوٹیں شامل ہیں۔ اس صورت میں درد عام طور پر چند پٹھوں یا جسم کے محدود حصے تک رہتا ہے۔
اگر پورے جسم میں درد ہو تو اس کی بڑی وجہ اکثر وائرل انفیکشن مثلاً فلو ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بیماریاں اور طبی مسائل بھی پٹھوں کے درد کا سبب بن سکتے ہیں۔ بعض ادویات کے استعمال سے بھی یہ درد بطور سائیڈ ایفیکٹ ظاہر ہو سکتا ہے۔
پٹھوں کے درد کی عام طبی وجوہات درج ذیل ہیں:
٭ زیادہ ورزش یا پٹھوں کا حد سے زیادہ استعمال جس سے تھکن اور درد ہو
٭ طویل مدتی تھکن اور کمزوری والا مرض (کرانک فیٹیگ سنڈروم)
٭ چلنے یا جسمانی سرگرمی کے دوران ٹانگوں میں درد ہونا
٭ پٹھوں کی سوزش والی بیماریاں جو درد اور کمزوری پیدا کرتی ہیں
٭ پٹھوں کا غیر معمولی کھچاؤ یا اکڑاؤ (ڈسٹونیا)
٭ پورے جسم میں درد اور حساسیت بڑھ جانا (فائبرو مائیالجیا)
٭ تھائی رائیڈ غدود کی کم کارکردگی
٭ فلو اور دیگر وائرل انفیکشنز
٭ وٹامن ڈی اور دیگر وٹامنز کی کمی
٭ مدافعتی نظام کی بیماریاں جیسے لوپس
٭ ٹِک کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری (لائم بیماری)
٭ کولیسٹرول کم کرنے والی کچھ ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس (سٹیٹنز)
٭ پٹھوں کی اینٹھن یا اچانک کھچاؤ
٭ پٹھوں اور ہڈی کو جوڑنے والے حصے کی چوٹ (سٹرین)
٭ جسم کے مخصوص حصوں میں مسلسل درد کی کیفیت
٭ جوڑوں اور پٹھوں میں سوزش والی بیماری (روماٹائیڈ آرتھرائٹس)
٭ موچ اور نرم ٹشوز کی چوٹیں
٭ جسم میں نمکیات (کیلشیم یا پوٹاشیم) کی کمی یا زیادتی
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
معمولی چوٹ، ہلکی بیماری، ذہنی دباؤ یا ورزش سے ہونے والا پٹھوں کا درد اکثر گھر پر دیکھ بھال سے بہتر ہو جاتا ہے۔ لیکن بعض صورتوں میں یہ سنگین ہو سکتا ہے۔ ایسے میں طبی امداد ضروری ہوتی ہے۔
فوری طور پر ایمرجنسی میں رابطہ کریں اگر:
٭ سانس لینے میں دشواری ہو یا چکر آئیں
٭ شدید جسمانی کمزوری ہو جس سے روزمرہ کے کام کرنا مشکل ہو جائے
٭ تیز بخار کے ساتھ گردن میں اکڑن بھی ہو
٭ شدید چوٹ جس سے حرکت ممکن نہ ہو یا خون بہہ رہا ہو
ڈاکٹر سے معمول کا وقت لیں، اگر:
٭ ٹک کے کاٹنے کا شبہ ہو
٭ جلد پر دانہ ہو، خاص طور پر لائم بیماری کا مخصوص بُلز آئی ریش
٭ ورزش کے دوران پنڈلیوں میں درد ہو جو آرام کرنے سے ٹھیک ہو جائے
٭ متاثرہ حصے میں سرخی یا سوجن ہو
٭ نئی دوا شروع کرنے یا مقدار بڑھانے کے بعد درد شروع ہو، خاص طور پر سٹیٹنز
٭ گھر پر علاج کے باوجود درد بہتر نہ ہو
سیلف کیئر
ورزش یا جسمانی سرگرمی کے دوران ہونے والا درد اکثر پٹھوں کے کھچاؤ یا سٹرین کی علامت ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں R.I.C.E اصول مددگار ہوتا ہے۔
آرام (Rest)
روزمرہ سرگرمی روک کر متاثرہ حصے کو آرام دیں اور بعد میں ڈاکٹر کے مشورے سے ہلکی سٹریچنگ شروع کریں
برف (Ice)
متاثرہ جگہ پر برف کی تھیلی یا ٹھنڈی چیز 20 منٹ تک دن میں تین بار لگائیں
دباؤ (Compression)
لچکدار پٹی یا بینڈیج سے سوجن کم کریں اور سپورٹ فراہم کریں
بلندی (Elevation)
متاثرہ حصے کو دل کی سطح سے اوپر رکھیں تاکہ سوجن کم ہو سکے
درد کم کرنے کے لیے بغیر نسخے والی ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ جلد پر لگانے والی کریمیں، جیل یا پیچز بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔