اسقاط حمل (Miscarriage) سے مراد حمل کا 20 ہفتوں سے قبل اچانک ختم ہو جانا ہے۔ تقریباً 10 فیصد سے 20 فیصد معلوم حمل اسقاط پر ختم ہوتے ہیں۔ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ اکثر اسقاط حاملہ ہونے کا علم ہونے سے پہلے ہی ہو جاتے ہیں۔ زیادہ تر کیسز میں اسقاط حمل کی وجہ بچے کی درست نشوونما نہ ہونا ہوتی ہے۔
علامات
٭ اسقاط حمل زیادہ تر حمل کے پہلے 13 ہفتوں میں ہوتا ہے
٭ وجائنا سے خون آنا، درد کے ساتھ یا بغیر، جس میں ہلکا خون آنا (سپاٹنگ) بھی شامل ہے
٭ پیٹ یا کمر کے نچلے حصے میں درد یا مروڑ
٭ وجائنا سے سیال مادہ یا ٹشو خارج ہونا
٭ دل کی دھڑکن تیز ہونا
اگر ٹشو خارج ہو جائے تو اسے صاف برتن میں رکھیں اور معالج کے پاس لے جائیں تاکہ لیبارٹری اس کی تصدیق کر سکے۔ یاد رکھیں، پہلی سہ ماہی میں ہلکا خون آنے کے باوجود اکثر حمل معمول کے مطابق جاری رہتے ہیں۔ تاہم اگر خون زیادہ ہو یا درد کے ساتھ ہو تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔
وجوہات
غیر معمولی جینز یا کروموسومز
زیادہ تر اسقاط حمل اس لیے ہوتے ہیں کہ بچہ درست طریقے سے نشوونما نہیں پاتا۔ پہلی سہ ماہی میں نصف سے دو تہائی اسقاط حمل کا تعلق غیر معمولی یا اضافی کروموسومز سے ہوتا ہے۔ کروموسومز ہر خلیے میں موجود ہوتے ہیں اور جینز کی معلومات رکھتے ہیں، جو جسم کی ساخت اور افعال کا تعین کرتے ہیں۔ جب انڈہ اور سپرم ملتے ہیں تو دونوں کے کروموسومز مل کر بچے کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر کسی سیٹ میں کمی یا زیادتی ہو تو اسقاط حمل ہو سکتا ہے۔
کروموسوم کی غیر معمولی حالتیں
ایمبریو نہ بننا یا جذب ہونا: ایمبریو بنتا ہی نہیں یا بن کر جسم میں جذب ہو جاتا ہے
رحم کے اندر بچہ مر جانا: ایمبریو بنتا ہے مگر نشوونما رک جاتی ہے اور علامات ظاہر ہونے سے پہلے مر جاتا ہے
مولر حمل اور جزوی مولر حمل: مولر حمل میں بچہ نشوونما نہیں پاتا، عموماً جب دونوں کروموسوم والد سے آئیں۔ جزوی مولر حمل میں نشوونما ممکن ہوتی ہے مگر بچہ زندہ نہیں رہ پاتا
ماں کی صحت کے مسائل
کچھ طبی مسائل اسقاط حمل کا سبب بن سکتے ہیں، جیسے:
٭ ذیابیطس، جو کنٹرول میںنہ ہو
٭ انفیکشنز
٭ ہارمونل مسائل
٭ رحم یا سروکس کے مسائل
٭ تھائرائیڈ کی بیماری
٭ موٹاپا
روزمرہ سرگرمیاں اسقاط حمل کا سبب نہیں بنتیں، جیسے:
٭ صحت مند حالت میں ورزش، تاہم چوٹ لگنے والی سرگرمیوں سے گریز کریں
٭ جنسی تعلق
٭ حمل سے پہلے مانع حمل گولیاں لینا
٭ کام کرنا، بشرطیکہ نقصان دہ کیمیکلز یا ریڈی ایشن کا خطرہ نہ ہو
خطرے کے عوامل
کچھ عوامل اسقاط حمل کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں، جیسے:
٭ 35 سال سے زیادہ عمر
٭ ماضی میں اسقاط حمل ہونا
٭ طویل مدتی طبی مسائل
٭ رحم یا سروکس کے مسائل
٭ تمباکو نوشی، الکحل، کیفین اور منشیات کا استعمال
٭ کم یا زیادہ وزن
٭ جینیاتی مسائل
پیچیدگیاں
رحم میں باقی رہ جانے والا حمل کا ٹشو جراثیمی انفیکشن (سیپٹک اسقاط حمل) کا سبب بن سکتا ہے، جس کی علامات میں شامل ہیں:
٭ 104 ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ بخار
٭ شدید سردی لگنا
٭ پیٹ میں درد
٭ وجائنا سے بدبودار مادے کا اخراج
٭ وجائنا سے خون آنا
وجائنا سے زیادہ خون بہنا بھی ایک اہم پیچیدگی ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ دل کی تیز دھڑکن، چکر آنا اور کمزوری کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں فوری طبی امداد ضروری ہے۔
تشخیص
تشخیص کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:
خون کے ٹیسٹ: حمل کے ہارمون کی سطح چیک کرنا
سروکس کا معائنہ: سروکس کھلا ہے یا نہیں
الٹراساؤنڈ: بچے کی دل کی دھڑکن اور نشوونما کا جائزہ
کروموسوم کے ٹیسٹ: بار بار اسقاط حمل کی صورت میں
خارج شدہ ٹشو کا معائنہ
علاج
اسقاط حمل کا خطرہ
٭ ابتدائی خون آنے کی صورت میں آرام کی ہدایت دی جاتی ہے
٭ نرم ٹشو یا پیڈ استعمال کریں اور جنسی تعلق سے اجتناب کریں
اسقاط حمل کی صورت میں علاج
٭ اگر انفیکشن نہ ہو تو حمل کو قدرتی طور پر مکمل ہونے دیا جاتا ہے، جو عموماً چند ہفتوں میں ہو جاتا ہے
٭ رحم سے باقی ٹشو خارج کرنے کے لیے مخصوص ادویات دی جاتی ہیں
٭ رحم کی صفائی (ڈی اینڈ سی) یا یوٹرائن ایسپائریشن کے ذریعے ٹشو نکالا جاتا ہے، خاص طور پر شدید خون بہنے کی صورت میں
٭ اگر آپ کا خون آر ایچ نیگٹو ہے تو آئندہ حمل محفوظ رکھنے کیلئے دوا دی جاتی ہے۔
جسمانی بحالی
زیادہ تر افراد چند گھنٹوں سے چند دنوں میں جسمانی طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
زیادہ خون آنا، بخار یا شدید درد کی صورت میں فوری طبی مدد لیں۔
عام طور پر اسقاط حمل کے دو ہفتے بعد حیض آ جاتا ہے۔
1-2 ہفتے تک جنسی تعلق یا اندرونی استعمال کی اشیا سے اجتناب کریں تاکہ انفیکشن سے بچا جا سکے۔
مستقبل کے حمل
اسقاط حمل کے بعد دوبارہ حاملہ ہونا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر تیار ہونا ضروری ہے۔ زیادہ تر خواتین ایک اسقاط حمل کے بعد کامیابی سے حمل مکمل کرتی ہیں۔ دو بار مسلسل اسقاط حمل کے امکانات 2 فیصد اور تین بار کے تقریباً 1 فیصد ہوتے ہیں۔ اگر بار بار اسقاط حمل ہو تو رحم، کروموسوم، خون جمنے یا مدافعتی نظام کے مسائل کی جانچ مفید ہوتی ہے۔ تین اسقاط حمل کے بعد بھی کامیاب حمل کا امکان 60 فیصد سے 80 فیصد تک برقرار رہتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
زیادہ تر صورتوں میں اسقاط حمل کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم درج ذیل اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
٭ حمل کے دوران ماہرِ امراضِ نسواں سے باقاعدہ رابطہ رکھیں
٭ تمباکو نوشی، الکحل اور منشیات سے پرہیز کریں
٭ روزانہ ملٹی وٹامن استعمال کریں
٭ سابقہ اسقاط حمل کی صورت میں معالج سے کم مقدار اسپرین کے بارے میں مشورہ کریں
٭ کیفین کی مقدار محدود رکھیں، عام طور پر 200 ملی گرام روزانہ سے زیادہ نہ لینے کی ہدایت دی جاتی ہے
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔