ملیریا (Malaria) ایک بیماری ہے جو مچھر کے کاٹنے سے انسانوں میں پھیلتی ہے۔ اس کا سبب پلازموڈیم پیراسائٹ ہوتا ہے۔ جن علاقوں میں ملیریا عام ہو، وہاں سفر سے پہلے، دوران اور بعد میں حفاظتی دوائیں لی جا سکتی ہیں۔ سفر کے دوران حفاظتی کپڑے، مچھر دانی اور مچھر مار ادویات آپ کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
علامات
ملیریا کی علامات میں شامل ہو سکتی ہیں:
٭ بخار
٭ کپکپی
٭ عمومی بے آرامی
٭ سر درد
٭ متلی اور قے
٭ دست
٭ پیٹ میں درد
٭ پٹھوں یا جوڑوں میں درد
٭ تھکن
٭ تیز سانس
٭ دل کی تیز دھڑکن
٭ کھانسی
ملیریا عام طور پر کپکپی اور سردی سے شروع ہوتا ہے، پھر شدید بخار آتا ہے، بعد میں پسینہ آتا ہے اور آخر میں درجہ حرارت معمول پر آ جاتا ہے۔ علامات عموماً مچھر کے کاٹنے کے چند ہفتوں بعد ظاہر ہوتی ہیں، لیکن کچھ پیراسائٹس ایک سال تک جسم میں خاموش رہ سکتے ہیں۔
وجوہات
ملیریا پلازموڈیم نامی پیراسائٹ کی وجہ سے ہوتا ہے اور متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے منتقل ہوتا ہے۔
مچھر کے ذریعے منتقلی
٭ غیر متاثرہ مچھر متاثرہ شخص کا خون پیتا ہے، جس سے وہ پیراسائٹ سے متاثر ہو جاتا ہے
٭ اگر یہ مچھر کسی اور شخص کو کاٹے تو پیراسائٹس منتقل ہو جاتے ہیں
٭ پیراسائٹس جگر میں پہنچ کر کچھ وقت کے لیے خاموش رہ سکتے ہیں
٭ پیراسائٹس خون کے سرخ خلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں اور علامات ظاہر ہوتی ہیں
٭ اگر اس وقت کوئی غیر متاثرہ مچھر اسے کاٹے تو وہ دوسروں کو ملیریا منتقل کر سکتا ہے
منتقلی کے دیگر طریقے
٭ ماں سے رحم مادر میں بچے کو
٭ خون کے منتقلی کے ذریعے
٭ سوئی یا انجیکشن شئیر کرنے سے
خطرے والے عوامل
٭ ملیریا کا سب سے بڑا خطرہ ایسے علاقوں میں رہنا یا وہاں سفر کرنا ہے جہاں بیماری عام ہے، خطرے کی شدت مقامی کنٹرول، موسمی تبدیلیاں اور حفاظتی اقدامات پر منحصر ہوتی ہے۔
زیادہ خطرہ رکھنے والے افراد
٭ چھوٹے اور شیر خوار بچے
٭ بزرگ افراد
٭ ایسے مسافر جو غیر وبائی علاقوں سے وبائی علاقوں میں آتے ہیں
٭ حاملہ خواتین اور ان کے بچے
٭ وبائی علاقوں میں رہنے والے افراد جزوی قوت مدافعت حاصل کر لیتے ہیں، جس سے مرض کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ تاہم غیر وبائی علاقوں میں جانے سے یہ اثر کم ہو سکتا ہے
پیچیدگیاں
ملیریا مہلک ہو سکتا ہے، اور بچوں میں خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ شدید پیچیدگیوں میں شامل ہیں:
٭ دماغی ملیریا، جس سے دماغ میں سوجن، دورے یا بے ہوشی ہو سکتی ہے
٭ پھیپھڑوں میں سیال جمع ہونا سانس لینے میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے
٭ گردے، جگر یا تلی کا نقصان یا پھٹنا، جو جان لیوا ہو سکتا ہے
٭ خون کی کمی، جو آکسیجن کی کمی پیدا کرتی ہے
٭ شدید ملیریا یا دوائیوں کی وجہ سے کم بلڈ شوگر، جس سے بے ہوشی یا موت ہو سکتی ہے
٭ کچھ پیراسائٹس سالوں تک جسم میں موجود رہ کر بیماری دوبارہ پیدا کر سکتے ہیں
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر آپ بخار محسوس کریں اور ملیریا والے علاقے میں رہتے ہیں یا وہاں سے واپس آئے ہیں تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ شدید علامات کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں۔
تشخیص
ڈاکٹر آپ کی میڈیکل ہسٹری، جسمانی معائنے اور بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے تشخیص کریں گے۔ خون کے ٹیسٹ سے معلوم ہوتا ہے:
٭ پیراسائٹ کی موجودگی
٭ پیراسائٹ کی قسم
٭ دوا کے خلاف مزاحمت
٭ پیچیدگیوں کی جانچ
نتائج چند منٹ سے لے کر چند دن میں آ سکتے ہیں۔ پیچیدگیوں کے تعین کے لیے اضافی ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں
علاج
ملیریا کا علاج نسخے کی دوائیوں سے کیا جاتا ہے، جس کا انتخاب پیراسائٹ کی قسم، علامات، عمر اور حمل کے مطابق ہوتا ہے۔
بچاؤ کی تدابیر
٭ جسم کے کھلے حصوں کو ڈھانپیں، لمبی آستین اور پتلون پہنیں
٭ معیاری مچھر مار لوشن یا کریم لگائیں
٭ مچھر دانی استعمال کریں
٭ سفر سے چند ماہ پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ کون سی دوائیں پہلے، دوران اور بعد میں لینی ہیں
٭ اگر ملیریا کا خطرہ ہو اور ویکسین دستیاب ہو تو اس سے استفادہ کریں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔