Vinkmag ad

جگر کی پیوندکاری سے متعلق اہم سوالات

جگر کی صحت کے ساتھ پورے جسم کی صحت اور اس کی بیماری کے ساتھ دیگر اعضاء کی بیماری وابستہ ہے۔ چربیلا جگر، ہیپاٹائٹس بی اور سی اس کی اہم بیماریاں ہیں۔ ابتدائی مرحلے پر ان کا علاج ادویات سے ہوتا ہے۔ دوسری صورت میں جگر کی پیوندکاری کرنا ہوتی ہے۔ اس سے متعلق تفصیلات جانیے جگر کی پیوندکاری کے ماہر ڈاکٹر فیصل سعود ڈار کے انٹرویو میں

جگر کا کیا کام ہوتا ہے؟

جگر جسم کے اندر موجود سب سے بڑا عضو ہے۔ یہ خوراک کو چھوٹے اجزاء میں تقسیم کر کے توانائی میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ پیٹ میں اوپر کی جانب دائیں طرف ہوتا ہے اور اس کے دو حصے ہیں۔ ان میں سے ایک کو دایاں اور دوسرے کو بایاں لوب کہتے ہیں۔ جگر کے بنیادی کاموں میں گلوکوز پیدا اور اسے ذخیرہ کرنا، غذا میں موجود چربی کو ہضم کرنے کے لیے تیزاب تیار کرنا اور خوراک کو آنتوں میں ہضم ہونے کے بعد توانائی کی شکل دے کر پورے جسم میں پھیلانا شامل ہیں۔ یہ جسم میں بننے والے زہریلے مادوں کو گردوں کے ذریعے خارج کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

جگر کی کون سی بیماریاں عام ہیں اور ان کا علاج کیا ہے؟

ان میں ہیباٹائٹس اے، بی، سی اور ای، چربیلا جگر، جگر کا سکڑنا، لیور کینسر اور جگر فیل ہونا شامل ہیں۔ پتے کی پتھریاں، پتے کا کینسر، جگر میں پیپ والے دانے اور غیر سرطان زدہ رسولیاں بھی کافی عام ہیں۔ جگر کے وہ تمام مسائل جن کا علاج دواؤں سے ممکن ہے وہ گیسٹروانٹرالوجسٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

ہیپاٹو پنکریاٹیکو بائلری سرجری میں جگر، معدے کے تیزاب کی نالی، پتے، لبلبے اور معدے کے تمام مسائل کا علاج کیا جاتا ہے۔ جگر کی نالیاں بند ہونے کی صورت میں انہیں کھولنا، پیٹ کی رسولیوں کا علاج اور گردے کی ان رسولیوں کا علاج بھی کیا جاتا ہے جو خون کی بڑی نالی میں چلی جاتی ہیں۔ وہ تمام مسائل جن کا علاج آپریشن یا پیوندکاری سے ممکن ہو، اس شعبے میں کیا جاتا ہے۔

جگر کی پیوندکاری کب کی جاتی ہے؟

جگر کسی بیماری کے باعث اس حد تک خراب ہو جائے کہ اپنے کام مکمل طور پر نہ کر سکے تو اسے صحت مند جگر سے بدل دیا جاتا ہے۔ میڈیسن کی زبان میں اسے جگر کی پیوندکاری کہتے ہیں۔ جگر آخری وقت تک اپنی مدد آپ کے تحت اپنی مرمت کا عمل جاری رکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جگر کے کینسر یا اس کے ناکارہ ہونے کی علامات ابتدا میں ظاہر نہیں ہوتیں۔ پھر جب وہ ظاہر ہوتی ہیں تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسے میں پیوندکاری کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہوتا۔

جگر ناکارہ ہونے کی علامات میں پیٹ کی اوپری دائیں طرف درد، دائیں کندھے میں درد، بھوک، وزن میں کمی، متلی اور خون کی الٹیاں آنا شامل ہیں۔ غنودگی ہونا یا بے ہوشی کے دورے پڑنا، پیٹ میں بالائی جانب گلٹیاں بننا، پیلا یرقان ہونا، کالے رنگ کا پاخانہ آنا، گردوں کا فیل ہو جانا اور پیٹ میں پانی پڑنا بھی اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جگر کے وہ تمام مسائل جن کا علاج دواؤں سے ممکن ہے وہ گیسٹروانٹرالوجسٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں

جگر کی پیوندکاری کے لیے جگر کہاں سے آتا ہے؟

جگر کی پیوندکاری کی دو اقسام ہیں۔ پہلی میں ان لوگوں کا جگر استعمال ہوتا ہے جو کسی حادثے میں یا طبعی طور پر فوت ہو جائیں اور مرنے سے قبل انہوں نے اپنا جگر عطیہ کر دیا ہو۔ اس میں یہ ضرور دیکھا جاتا ہے کہ انہیں کوئی ایسی بیماری نہ ہو جو مریض کو منتقل ہو سکتی ہو۔ اس قسم کی پیوندکاری میں فوت ہونے والے شخص کا مکمل جگر مریض کو لگا دیا جاتا ہے۔

دوسری قسم میں زندہ ڈونر کے جگر کا ایک حصہ کاٹ کر مریض کے جگر میں پیوند کیا جاتا ہے۔ عموماً جگر کی دائیں طرف بڑی ہوتی ہے لہٰذا یہ بڑے اور بزرگ مریضوں کو عطیہ کی جاتی ہے۔ جگر کی بائیں طرف چھوٹی ہوتی ہے لہٰذا یہ بچوں کو لگائی جاتی ہے۔ جگر میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ دوبارہ نشونما پا سکتا ہے۔ اس لیے لگائی گئی ایک لوب کچھ عرصے میں مکمل جگر کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

کون لوگ جگر عطیہ کر سکتے ہیں؟

ایسا فرد جو اپنے جسم کا کوئی عضو، ٹشو یا خون عطیہ کرے اسے ڈونر کہتے ہیں۔ جگر کے ڈونر کی عمر کم از کم 18 سال اور بلڈ گروپ وہی ہونا چاہیے جو مریض کا ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹوں سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ڈونر کا جگر مکمل فعال ہے یا نہیں اور اس کا مریض کی صحت پر کوئی برا اثر تو نہیں پڑے گا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ڈونر جگر عطیہ کرنے کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرے۔ صرف قریبی رشتہ داروں کا عطیہ دینا ضروری نہیں لیکن پاکستانی قانون کے مطابق یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے قریبی رشتہ دار ہی اس کا عطیہ کریں۔ ان رشتہ داروں میں مریض کے بھائی بہن، والدین، بیوی اور بچے شامل ہیں۔

ڈونر کتنے عرصے میں مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتا ہے؟

ڈونر کو ہسپتال میں 8 سے 10 دن گزارنے ہوتے ہیں اور تقریباً ایک ہفتے تک درد کی ادویات کھانی ہوتی ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنے روزمرہ کے کام کر سکتا ہے۔

جگر آخری وقت تک اپنی مرمت کا عمل جاری رکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جگر کے کینسر یا اس کے ناکارہ ہونے کی علامات ابتدا میں ظاہر نہیں ہوتیں

ڈونر کے لیے آپریشن کے بعد کی احتیاطیں کیا ہیں؟

اگرکوئی خاص پیچیدگی نہ ہو تو انہیں یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ آپریشن کے بعد پہلے تین ماہ تک وزن اٹھانے، مشقت والی وزرشیں کرنے، اور گاڑی چلانے سے پرہیز کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی قسم کے کھچاؤ کی وجہ سے زخم کے ٹانکے نہ ٹوٹیں اور کوئی انفیکشن نہ ہو۔ ان کے لیے کھانے پینے میں کوئی خاص احتیاط ضروری نہیں۔

جگر کی پیوندکاری سے پہلے مریض کے لیے کیا احتیاطیں ہوتی ہیں؟

مریض کی پیوندکاری کے لیے صحیح وقت کا انتخاب نہایت ضروری ہے۔ اس میں تاخیر سے دیگر اعضاء مثلاً گردے اور پھیپھڑے وغیرہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں جگر کی پیوندکاری کچھ زیادہ سودمند نہیں ہوتی۔ مریض میں اتنے بڑے آپریشن کو برداشت کرنے کی ہمت نہ ہو تو اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

آپریشن کا طریقہ کار کیا ہے؟

سب سے پہلے مریض کا معائنہ کرکے یہ پتا لگایا جاتا ہے کہ مریض کو پیوندکاری کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ دوسری بات یہ کہ کیا مریض میں اتنی طاقت ہے کہ وہ آپریشن کی سختی برداشت کر سکے۔ اس کے بعد سرکاری ادارے سے اجازت کے بعد آپریشن کا دن مقرر کیا جاتا ہے۔ عموماً پیوندکاری سے ایک دن پہلے عطیہ دینے اور لینے والے، دونوں کو ہسپتال میں داخل کیا جاتا ہے۔

دونوں کا آپریشن ایک ہی وقت میں دو مختلف آپریشن تھیٹر میں ہورہا ہوتا ہے۔ ڈونر کے آپریشن پر پانچ سے چھ گھنٹے لگتے ہیں جبکہ مریض کے آپریشن کا دورانیہ اوسطاً نو گھنٹے ہوتا ہے۔ آپریشن کے بعد دونوں کو ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں بھجوا دیا جاتا ہے۔ وہاں ڈونر دو دن اور مریض پانچ سے سات دن تک رہتا ہے۔ پھر انہیں وارڈ میں منتقل کیا جاتا ہے۔

ڈونر کو ہسپتال میں 8 سے 10 دن گزارنے ہوتے ہیں اور تقریباً ایک ہفتے تک درد کی ادویات کھانی ہوتی ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنے روزمرہ کے کام کر سکتا ہے

مریض کے لیے آپریشن کے بعد کی احتیاطیں کیا ہیں؟

ہمارے جسم کا مدافعتی نظام اندر داخل ہونے والے کسی بھی بیرونی جسم کو ناکارہ بنا دیتا ہے۔ پیوند کیے گئے جگر کو اس سے بچانے کے لیے مریض کو قوت مدافعت کمزور کرنے والی دوائیں دی جاتی ہیں۔ وقت گزرنے اور مریض کی حالت میں بہتری کے ساتھ ان ادویات کی مقدار کم کر دی جاتی ہے۔ مریض کو ڈاکٹر کے ساتھ رابطے میں رہنا ہوتا ہے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ جگر کی کارکردگی اور دواؤں کے اثرات پر نظر رکھ سکے۔

جگر کی پیوندکاری کے بعد کیا پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں؟

مدافعتی نظام جسم کو مختلف بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ چونکہ پیوندکاری کے مریضوں کی قوت مدافعت کو ادویات سے کمزور کر دیا جاتا ہے لہٰذا ان میں انفکشنز کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ان مریضوں کو انفکشنز سے خاص طور پر بچنا ہوتا ہے۔ انہیں ہجوم میں جانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر جانا ضروری ہو تو ماسک استعمال کرنا چاہیے۔ اپنی اور اپنے گھر کی صفائی کا خاص خیال رکھیں، کھانے پینے میں احتیاط کریں اور بالخصوص باہر کی اشیاء سے مکمل پرہیز کریں۔ ان احتیاطوں پر پہلے چھ ماہ سختی سے عمل کرنا ہوتا ہے۔ پھر جیسے جیسے مریض بہتر ہوتا ہے، ان پابندیوں میں کمی آ جاتی ہے۔

جسم پیوند کردہ عضو کو قبول نہ کرے تو کیا کیا جاتا ہے؟

ایک یا دو فیصد صورتوں میں جسم پیوند کردہ عضو کو شدت سے مسترد کر دیتا ہے یا دیگر اعضاء متاثر ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں دوبارہ پیوندکاری کی جاتی ہے ورنہ مریض کی جان جا سکتی ہے۔

پیوندکاری کے لیے صحیح وقت کا انتخاب نہایت ضروری ہے۔ اس میں تاخیر کی صورت میں دیگر اعضاء مثلاً گردے اور پھیپھڑے وغیرہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں

کیا جسم سے جگر نکالنے کے بعد اسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟

جگر کو جسم سے نکالنے کے بعد ایک خاص محلول میں تقریباً چار ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ اسے صرف چھ سے بارہ گھنٹے تک ہی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ فعال نہیں رہتا۔

جگر کو صحت مند رکھنے والی غذائیں کون سی ہیں؟

جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے انڈے، مچھلی، مرغی کا گوشت اور لوبیا نہایت مفید ہیں۔ چقندر، شکرقندی، پھول گوبھی، پیاز، لیموں، دالیں، اناج، ناریل کا تیل اور السی کے بیج بھی فائدہ مند ہیں۔ گنے کا رس نکالنے میں صفائی کا خیال رکھا گیا ہو تو یہ بھی بہت کارآمد ہے۔ اس کے ساتھ پھلوں اور تازہ سبزیوں کو اپنے معمول میں ضرور شامل کریں۔

بہتر ہے کہ خوراک کو ابال کر، بھاپ دے کر اور گرِل کر کے استعمال کریں۔ کیفین والے مشروبات، چاکلیٹ، کافی، پروسیسڈ فوڈز، مصنوعی مٹھاس، منجمد خوراک، سافٹ ڈرنکس اور جنک فوڈ کا استعمال کم سے کم کریں۔ فائبر یا ریشے والی غذائیں کھائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چہل قدمی یا ورزش کی عادت ڈالیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

اسلام آباد میں عالمی معیار کا ہیلتھ ٹاور تعمیر کرنے کا اعلان

Read Next

Dental floss | How to floss your teeth properly? | Shifa News

Leave a Reply

Most Popular