Vinkmag ad

گھٹنے کی تبدیلی

Orthopedic surgeon examining a patient after knee replacement surgery

گھٹنے کی تبدیلی (Knee Replacement) ایک سرجیکل پروسیجر ہے جس میں گھٹنے کے متاثرہ یا گھسے ہوئے جوڑ کو مصنوعی دھاتی اور پلاسٹک کے حصوں سے بدل دیا جاتا ہے۔ اس عمل کو گھٹنے کی آرتھوپلاسٹی بھی کہا جاتا ہے۔ سرجری کے دوران متاثرہ ہڈی اور کارٹلیج کو ہٹا کر مصنوعی پرزے نصب کیے جاتے ہیں تاکہ جوڑ کی فعالیت بحال ہو سکے۔

یہ سرجری بنیادی طور پر درد میں کمی اور حرکت بہتر بنانے کے لیے کی جاتی ہے۔ سرجن مریض کے گھٹنے کی حرکت، مضبوطی اور استحکام کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے۔ ایکس رے سے نقصان کی شدت واضح کی جاتی ہے۔ مصنوعی جوڑ اور سرجیکل تکنیک کا انتخاب مریض کی عمر، وزن، جسمانی سرگرمی اور مجموعی صحت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

کیوں کی جاتی ہے

گھٹنے کی تبدیلی کا سب سے عام سبب آرتھرائٹس کی وجہ سے ہونے والا شدید درد اور روزمرہ سرگرمیوں میں رکاوٹ ہے۔ اس وجہ سے مریض کو چلنے، سیڑھیاں چڑھنے اور کرسی سے اٹھنے میں نمایاں مشکل پیش آتی ہے۔

اگر گھٹنے کا صرف ایک حصہ متاثر ہو تو جزوی تبدیلی کی جاتی ہے، جبکہ پورا جوڑ متاثر ہونے کی صورت میں مکمل گھٹنا تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں ران اور پنڈلی کی ہڈی کے سروں کو نئی شکل دے کر مصنوعی جوڑ کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

لیگامنٹس جوڑ کو استحکام فراہم کرتے اور ہڈیوں کو اپنی جگہ برقرار رکھتے ہیں۔ اگر یہ کمزور ہوں تو ایسے مصنوعی امپلانٹس استعمال کیے جاتے ہیں جو جوڑ کو مزید مضبوطی سے جوڑے رکھیں۔

خطرات اور پیچیدگیاں

کسی بھی بڑی سرجری کی طرح گھٹنے کی تبدیلی میں بھی کچھ خطرات شامل ہوتے ہیں:

٭ خون کے کلاٹ بننا جو ٹانگوں سے پھیپھڑوں تک جا کر خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں

٭ اعصابی نقصان جس سے سن ہونا، کمزوری یا مسلسل درد پیدا ہو سکتا ہے

٭ انفیکشن جو سطح پر یا گہرے ٹشوز میں بھی ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں دوبارہ سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے

مصنوعی جوڑ عام طور پر دیرپا ہوتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ڈھیلے ہو سکتے یا گھس سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں دوبارہ سرجری (ریویژن سرجری) کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

آپریشن سے پہلے تیاری

سرجری سے قبل ڈاکٹر کچھ ادویات یا سپلیمنٹس بند کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے۔ مریض کو سرجری سے پہلے عموماً آدھی رات کے بعد کچھ کھانے پینے سے منع کیا جاتا ہے۔

بحالی کے مرحلے کے لیے پہلے سے انتظام ضروری ہوتا ہے کیونکہ مریض کو کچھ ہفتوں تک واکر یا بیساکھی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ گھر میں سہولت اور حفاظت کے انتظامات کرنا بحالی کو آسان بناتا ہے۔

گھر کو محفوظ بنانے کے اقدامات میں شامل ہیں:

٭ ایک ہی منزل پر رہائش کا انتظام تاکہ سیڑھیاں کم استعمال ہوں

٭ باتھ روم میں حفاظتی ہینڈلز اور مضبوط سہارے لگانا

٭ سیڑھیوں کی ریلنگ کو مضبوط بنانا

٭ آرام دہ اور مضبوط کرسی کے ساتھ فٹ سٹول رکھنا

٭ اونچی ٹوائلٹ سیٹ استعمال کرنا

٭ شاور کے لیے محفوظ بینچ یا کرسی رکھنا

٭ فرش سے ڈھیلے قالین اور تاریں ہٹانا

آپریشن کے دوران

مریض کو ہسپتال میں مخصوص لباس پہنایا جاتا ہے، اور اینستھیزیا دیا جاتا ہے۔ کچھ صورتوں میں اعصاب کے گرد انجیکشن کے ذریعے درد کم کرنے والی دوا دی جاتی ہے تاکہ بعد از آپریشن تکلیف میں کمی آ سکے۔

سرجری کا عمل

گھٹنے کی تبدیلی کا آپریشن عموماً ایک سے دو گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے۔ سرجن گھٹنے پر کٹ لگاتا ہے، خراب ہڈی اور کارٹلیج کو ہٹاتا ہے اور مصنوعی جوڑ کے حصے نصب کرتا ہے۔

سرجری کے بعد

آپریشن کے بعد مریض کو کچھ وقت ریکوری روم میں رکھا جاتا ہے۔ ہسپتال میں قیام کا دورانیہ مریض کی حالت پر منحصر ہوتا ہے۔ بعض افراد اسی دن گھر جا سکتے ہیں۔

خون کے کلاٹس سے بچاؤ کے لیے یہ اقدامات مفید ہیں:

٭ جلدی چلنا اور حرکت شروع کرنا

٭ کمپریشن سٹاکنگ یا ایئر پریشر سلیوز کا استعمال

٭ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ادویات کا استعمال

سانس کی مشقیں اور فزیوتھراپی بحالی کا لازمی حصہ ہیں۔ فزیوتھراپسٹ مریض کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ گھٹنے کو درست طریقے سے کیسے حرکت دینی ہے۔ گھر پر باقاعدہ مشقیں جاری رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

نتائج

زیادہ تر مریضوں میں اس سرجری کے بعد درد میں واضح کمی آتی ہے، اور حرکت بھی بہتر ہو جاتی ہے۔ مصنوعی جوڑ عام طور پر 15 سے 20 سال تک مؤثر رہتا ہے۔

بحالی کے بعد مریض کم اثر والی سرگرمیاں جیسے چلنا، تیراکی، اور سائیکلنگ کر سکتے ہیں۔ تاہم دوڑنے، چھلانگ لگانے یا شدید جسمانی دباؤ والی سرگرمیوں سے پرہیز ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic

Vinkmag ad

Read Previous

گیسٹرک بائی پاس

Read Next

لیور فنکشن ٹیسٹ

Leave a Reply

Most Popular