Vinkmag ad

گیسٹرک بائی پاس

A bariatric surgeon explaining the gastric bypass (Roux-en-Y) procedure using a stomach and digestive system model

گیسٹرک بائی پاس (Gastric bypass) وزن کم کرنے کی ایک سرجیکل تکنیک ہے۔ اس میں معدے کا سائز کم کر کے ایک چھوٹا سا پاؤچ بنایا جاتا ہے۔ یہ پاؤچ عموماً انڈے کے سائز کا ہوتا ہے اور اپنے اندر بہت کم خوراک رکھ سکتا ہے۔ اسے براہ راست چھوٹی آنت سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خوراک معدے کے بڑے حصے اور چھوٹی آنت کے ابتدائی حصے کو بائی پاس کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔

یہ طریقہ موٹاپے کی سرجریوں میں سب سے زیادہ عام اور مؤثر مانا جاتا ہے۔ یہ ان افراد کے لیے تجویز کیا جاتا ہے جن میں غذا اور ورزش کے باوجود وزن کم نہ ہو رہا ہو، یا موٹاپے کی وجہ سے سنگین طبی مسائل پیدا ہو چکے ہوں۔

کیوں کیا جاتا ہے

گیسٹرک بائی پاس کا بنیادی مقصد وزن میں کمی اور موٹاپے سے جڑی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنا ہے۔ اس کے ذریعے درج ذیل مسائل میں بہتری ممکن ہے:

٭ تیزابیت

٭ دل کی بیماری

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ کولیسٹرول

٭ نیند کے دوران سانس رکنے کا عارضہ (اوبسٹریکٹو سلیپ ایپنیا)

٭ ٹائپ 2 ذیابیطس

٭ جگر کی چربی کی بیماری

٭ سٹروک

٭ بعض اقسام کے کینسر

٭ بانجھ پن

٭ پیشاب پر قابو نہ رہنا

٭ جوڑوں کا درد

یہ سرجری عام طور پر اس وقت کی جاتی ہے جب مریض طرزِ زندگی میں تبدیلیوں اور ورزش کے ذریعے وزن کم کرنے میں ناکام ہو جائے۔

اہلیت اور انتخاب کے معیار

یہ سرجری ہر مریض کے لیے نہیں ہوتی۔ عمومی طور پر یہ آپشن ان افراد کے لیے ہوتا ہے:

٭ جن کا باڈی ماس انڈیکس 40 یا اس سے زیادہ ہو

٭ جن کا بی ایم آئی 35 سے 39.9 کے درمیان ہو اور ساتھ موٹاپے سے متعلق کوئی سنگین بیماری جیسے ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر موجود ہو

٭ اگر شدید طبی مسائل موجود ہوں تو بعض حالات میں بی ایم آئی 30 سے 34 والے افراد بھی اہل ہو سکتے ہیں

اس کے لیے مکمل طبی جانچ اور سکریننگ ضروری ہوتی ہے۔ مریض کو مستقل طور پر صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار ہونا پڑتا ہے۔ طویل مدتی فالو اپ، غذائی نگرانی اور طرزِ زندگی کی تبدیلیاں اس کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔

ممکنہ خطرات اور پیچیدگیاں

ہر بڑی سرجری کی طرح اس عمل میں بھی خطرات موجود ہوتے ہیں۔ فوری پیچیدگیوں میں شامل ہیں:

٭ خون بہنا

٭ انفیکشن

٭ اینستھیزیا پر منفی ری ایکشن

٭ خون کے کلاٹ بننا

٭ نظامِ ہاضمہ سے متعلق اعضاء میں لیکیج

٭ اسہال

طویل مدتی پیچیدگیوں میں شامل ہو سکتی ہیں:

٭ آنتوں کی رکاوٹ

٭ ڈمپنگ سنڈروم جس میں متلی، اسہال اور قے کا سامنا ہو سکتا ہے

٭ پتے یا گردے کی پتھری

٭ ہرنیا

٭ بلڈ شوگر کم ہونا

٭ غذائی کمی

٭ معدے میں سوراخ

٭ السر

٭ بار بار قے

نایاب صورتوں میں یہ پیچیدگیاں جان لیوا بھی ہو سکتی ہیں۔

تیاری کا مرحلہ

سرجری سے قبل مریض کو جسمانی سرگرمی بڑھانے اور تمباکو نوشی ترک کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔ آپریشن سے پہلے خوراک، پانی اور ادویات پر مخصوص پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ مریض کو گھر پر بحالی کے لیے پیشگی انتظامات کرنے چاہییں تاکہ بعد از آپریشن مشکلات کم ہوں۔

سرجری کا طریقہ کار

یہ عمل ہسپتال میں جنرل اینستھیزیا کے تحت کیا جاتا ہے تاکہ مریض بے ہوش اور آرام دہ حالت میں رہے۔ زیادہ تر کیسز میں لیپروسکوپک یا روبوٹک طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔

سرجن معدے کے اوپری حصے کو الگ کر کے ایک چھوٹا پاؤچ بناتا ہے۔ پھر چھوٹی آنت کا ایک حصہ اس پاؤچ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد خوراک براہ راست چھوٹے پاؤچ اور پھر آنت میں منتقل ہوتی ہے۔ اس سے نظام انہضام کا بڑا حصہ بائی پاس ہو جاتا ہے۔ یہ عمل چند گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے، جس کے بعد مریض کو ریکوری روم میں نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔

سرجری کے بعد بحالی

ابتدائی طور پر مریض کو صرف مائع غذا دی جاتی ہے۔ خوراک بتدریج نرم اور پھر ٹھوس شکل میں دی جاتی ہے۔ خوراک کی مقدار اور اقسام پر سخت کنٹرول رکھا جاتا ہے۔ عام طور پر وٹامن اور منرل سپلیمنٹس جیسے آئرن، کیلشیم اور وٹامن بی 12 کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے۔

ابتدائی مہینوں میں باقاعدہ طبی معائنہ ضروری ہوتا ہے۔ تیزی سے وزن کم ہونے کے دوران جسم میں کچھ تبدیلیاں آ سکتی ہیں:

٭ جسم میں درد

٭ تھکن، جیسے فلو میں ہوتی ہے

٭ سردی محسوس ہونا

٭ جلد کی خشکی

٭ بالوں کا جھڑنا

٭ موڈ میں تبدیلیاں

نتائج

گیسٹرک بائی پاس سے وزن میں طویل مدتی اور نمایاں کمی ممکن ہوتی ہے۔ دو سال کے اندر اضافی وزن کا تقریباً 70 فیصد یا اس سے زیادہ کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ کئی بیماریوں میں بہتری آتی ہے، اور بعض اوقات ان کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔ ان میں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں اور سلیپ ایپنیا شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ معمولات اور مجموعی معیارِ زندگی میں بہتری آتی ہے۔

ناکامی یا وزن دوبارہ بڑھنا

کچھ افراد کا وزن مناسب حد تک کم نہیں ہوتا یا وقت کے ساتھ وزن دوبارہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر اگر صحت مند طرزِ زندگی اختیار نہ کیا جائے۔ زیادہ کیلوری والی خوراک اور غیر صحت مندانہ عادات وزن دوبارہ بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس لیے مستقل غذا، ورزش اور فالو اپ اپوائنٹمنٹس انتہائی ضروری ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=general-surgeon

Vinkmag ad

Read Previous

ہپنوسس

Read Next

گھٹنے کی تبدیلی

Leave a Reply

Most Popular