Vinkmag ad

ہپنوسس

A female patient with closed eyes during a guided hypnosis session in a clinical therapy

ہپنوسس (Hypnosis) شعور کی ایک تبدیل شدہ حالت ہے جس میں ذہنی سکون اور توجہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے ارتکاز بہتر ہو جاتا ہے۔ اسے ہپنو تھراپی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً کسی تربیت یافتہ ہیلتھ پروفیشنل کی نگرانی میں زبانی رہنمائی اور ذہنی تصورات کے ذریعے انجام دی جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران زیادہ تر افراد گہرا سکون اور آرام محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں وہ رویے کی تبدیلی سے متعلق تجاویز کو زیادہ آسانی سے قبول کرنے لگتے ہیں۔

ہپنوسس لوگوں کو ان عادات اور رویوں پر قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے جنہیں وہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اضطراب اور درد کی بہتر مینجمنٹ میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ واضح رہے کہ ہپنوسس کے دوران انسان اپنی مرضی اور کنٹرول سے محروم نہیں ہوتا، بلکہ مکمل طور پر باخبر رہتا ہے۔

کیوں کیا جاتا ہے

ہپنوسس ذہنی دباؤ اور اضطراب کو کم کرنے کا ایک مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے، خصوصاً میڈیسن یا ڈنٹسٹری کے پروسیجر سے قبل پیدا ہونے والی بے چینی میں کمی کے لیے۔ ہپنوسس درج ذیل حالات میں بھی مددگار ہو سکتا ہے:

پین مینجمنٹ: جلنے، کینسر، زچگی، اریٹیبل باؤل سنڈروم، فائبرومائیلجیا، جبڑے کے مسائل، دانتوں کے علاج اور سر درد میں درد کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے

ہاٹ فلیشز: مینوپاز کے دوران ہونے والی گرمی کی شدت کو کم کر سکتا ہے

رویے میں تبدیلی: نیند کی خرابی، بستر گیلا کرنے، تمباکو نوشی اور زیادہ کھانے جیسی عادات کے علاج میں مددگار ثابت ہوا ہے

کینسر کے علاج کے مضر اثرات: کیموتھراپی اور ریڈی ایشن تھراپی کے ضمنی اثرات کو کم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے

ذہنی صحت کے مسائل: خوف اور فوبیا سے وابستہ اضطراب میں کمی لا سکتا ہے

خطرات

تربیت یافتہ معالج کے ذریعے کیا گیا ہپنوسس عمومی طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم شدید ذہنی امراض میں مبتلا بعض افراد کے لیے یہ مناسب نہیں ہوتا۔ اس کے ممکنہ منفی اثرات کم ہی دیکھے جاتے ہیں، لیکن ان میں شامل ہو سکتے ہیں:

٭ چکر آنا

٭ سر درد

٭ متلی

٭ شدید غنودگی

٭ اضطراب یا ذہنی بے چینی

٭ نیند میں خلل

اگر ہپنوسس کو ماضی کے تکلیف دہ تجربات سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ بعض افراد میں شدید جذباتی ردعمل پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے احتیاط ضروری ہے۔ ایسے معاملات میں کاگنیٹو بیہیوریل تھراپی (سی بی ٹی) زیادہ مؤثر اور محفوظ متبادل ہو سکتی ہے۔

تیاری کیسے کریں

ہپنوسس کے لیے کسی خاص تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم آرام دہ لباس پہننا اور مکمل آرام کی حالت میں ہونا مفید ہے تاکہ سیشن کے دوران نیند نہ آئے۔ ایک مستند اور تربیت یافتہ ماہر کا انتخاب ضروری ہے۔

طریقہ کار

ابتدائی مرحلے میں معالج ہپنوسس کے عمل کی وضاحت کرتا ہے اور علاج کے مقاصد طے کرتا ہے۔ اس کے بعد نرم اور پُرسکون انداز میں گفتگو شروع کی جاتی ہے۔ اس میں ایسے ذہنی مناظر پیش کیے جاتے ہیں جو سکون اور تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں۔

جیسے جیسے مریض گہری آرام دہ حالت میں جاتا ہے، معالج اسے مثبت تجاویز دیتا ہے۔ ان کا مقصد درد میں کمی، عادات کی اصلاح یا خواہشات پر قابو پانا ہوتا ہے۔ بعض اوقات مریض کو اپنے مقاصد کے حصول کی ذہنی تصویر بنانے میں بھی مدد دی جاتی ہے۔

سیشن کے اختتام پر مریض خود بھی نارمل حالت میں واپس آ سکتا ہے یا معالج آہستہ آہستہ اسے ہوش کی مکمل حالت میں واپس لاتا ہے۔ عام تصور کے برعکس ہپنوسس کے دوران انسان اپنا کنٹرول نہیں کھوتا اور پورے عمل کو یاد رکھتا ہے۔

وقت کے ساتھ کچھ افراد خود ہپنوسس سیکھ لیتے ہیں، جس میں بغیر معالج کے بھی سکون کی کیفیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ طریقہ طبی یا سرجری سے پہلے اضطراب کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

نتائج

ہپنوسس درد، ذہنی دباؤ اور اضطراب میں کمی کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، تاہم طبی ماہرین اکثر اسے سی بی ٹی جیسے دیگر علاج کے ساتھ یا اس سے پہلے تجویز کرتے ہیں۔ یہ تمباکو نوشی چھوڑنے یا وزن کم کرنے جیسے پروگراموں کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔

یہ ہر فرد پر یکساں طور پر مؤثر نہیں ہوتا، کیونکہ کچھ افراد مکمل طور پر اس کیفیت میں داخل نہیں ہو پاتے۔ جن افراد میں سکون اور ارتکاز کی کیفیت جلد پیدا ہو جاتی ہے، ان میں ہپنوسس کے کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=psychiatrist

Vinkmag ad

Read Previous

ہولٹر مانیٹر

Leave a Reply

Most Popular