گردوں کی پتھری

گردوں کی پتھری

گردوں میں پتھری تکلیف دہ ہونے کے علاوہ پیشاب کی نالی میں رکاوٹ اورگردوں کی مستقل خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر10 میں سے ایک فرد یا تواس کا شکار ہے یا پھرخطرے کی زد میں ہے۔ پتھری کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے زیادہ عام کیلشیم ‘آگزلیٹ (oxalate)اوریورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث بننے والی پتھریاں ہیں۔ ان کے نتیجے میں کمر کے نچلے حصے میں شدید درد،پیٹ میں درد، پیشاب میں خون، متلی اورقے، بخاراورٹھنڈ، پیشاب میں جھاگ اوربوجیسی علامات سامنےآتی ہیں۔

وجوہات کیا ہیں

مردوں کے گردوں میں پتھری کے امکانات 19 جبکہ خواتین میں9 فی صد ہوتے ہیں۔ ان صورتوں میں اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں

٭خاندان میں مرض کی موجودگی۔

٭کم پانی پینے یا زیادہ پسینہ آنے کی وجہ سے پانی کی کمی ہونا۔

٭نمکیات ، شوگراورجانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین کا زیادہ استعمال۔

٭موٹاپے، ہائی بلڈ پریشریا ذیابیطس کا شکارہونا۔

٭ہاضمے کی بیماریوں یا وزن کم کرنے والی سرجری کے باعث جسم میں کیلشیم اورپانی کے جذب ہونے کا عمل متاثرہونا۔

حفاظتی اقدامات

٭یوں توہر فرد کی پانی کی ضرورت مختلف ہوتی ہے تاہم دن میں کم ازکم 8 سے 12 گلاس پانی ضرورپئیں۔

٭زیادہ پسینہ آنا پیشاب کی مقدارمیں کمی اورنتیجتاً پتھری کا سبب بنتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے دھوپ میں جانے یا سخت کام کرنے سے گریزکریں۔ جن لوگوں کے لئے ایسا پرہیزممکن نہ ہو وہ زیادہ مشروبات پئیں تاکہ پسینہ آبھی رہا ہو تو جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔

٭خوراک میں نمک کی مقدار کم رکھیں۔

٭آگزلیٹ کے حامل کھانے مثلاً شکر قندی، چاکلیٹ، گری دارمیوے، پالک اورمونگ پھلیاں وغیرہ کم استعمال کریں۔

٭کیلشیم کے حامل کھانوں کا استعمال اعتدال سے کریں۔

٭کیلشیم اورآگزلیٹ کے حامل کھانوں کو بیک وقت کھائیں۔ ایسے یہ معدے اور آنتوں میں ہی مل جائیں گے اور پتھریوں کے امکانات کم ہوجائیں گے۔

٭سرخ گوشت، کلیجی، آنتوں اوردیگر اعضاء کے گوشت میں پیورین نامی کیمیائی مادے کی مقدارزیادہ ہوتی ہے۔ یہ یورک ایسڈ اورنتیجتاً پیشاب میں تیزابیت کی مقدارکوبڑھا کر پتھری کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا پیورین کے حامل کھانے اورالکوحل سے پرہیزکریں۔

٭پھل، سبزیوں، سالم اناج اورکم چکنائی والے دودھ سے بنی اشیاء کا استعمال زیادہ کریں۔

پتھریاں سائزمیں چھوٹی ہوں توانہیں نکالنے کے لئے سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ زیادہ مقدار میں پانی پینے سے پیشاب کے راستے ازخود خارج ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹرپیشاب میں تیزابیت کو کم کرنے کے لئے دوائیں دیتے ہیں۔ اگر پتھریاں زیادہ بڑی ہوں، انفیکشن کی علامات ظاہرہوں یا پیشاب کی نالی اورپیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ ہورہی ہوتو انہیں نکالنے کے لئے مختلف آپشنز استعمال کیے جاتے ہیں۔ان میں لتھوٹرپسی(شعاعوں سے علاج ) اورسرجری نمایاں ہیں۔

causes of kidney stones, tips to prevent kidney stones

Vinkmag ad

Read Previous

سردیوں میں جلد کی دیکھ بھال

Read Next

کیا ٹھنڈ سے لقوہ ہوتا ہے؟

Leave a Reply

Most Popular