گھر پر بنائیں کھٹا‘میٹھا اچار

33

اچار کا نام سنتے ہی منہ میں پانی بھرآتا ہے۔ یہ برصغیر کے کھانوں کی قدیم ترین روایات میں سے ایک ایسی روایت ہے جس کی مقبولیت میں آج تک کمی نہیں آئی۔ سائیڈ ڈش کے طور پر استعمال ہونے والا یہ ایسا سنیک ہے جس میں مصالحوں کا چٹ پٹاامتزاج کھانے کا ذائقہ دوبالا کر دیتا ہے۔ اس کو بھوک بڑھانے والے عامل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کھانے کو جلد ہضم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتاہے۔
اچار بنیادی طور پرکھانے کو محفوظ کرنے کاایک قدیم طریقہ ہے۔اس کے شواہد 5000سال پہلے کے ہندوستان میں ملتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب کھانا محفوظ کرنے کے لئے ریفریجریٹر جیسی ٹیکنالوجی موجود نہ تھی۔ اس لئے موسمی، بدیسی یا کمیاب پھلوں اور سبزیوں کو اس طریقے سے محفوظ کر لیا جاتا تھا تاکہ پورا سا ل اس کے مزے لئے جاسکیں۔
اچار بنانے کے لئے نمک، تیل اور لال مرچ پائوڈرکا استعمال عام ہے ۔ اسے بنانے کے دوران اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہئے کہ اس کے تمام اجزاء اور استعمال ہونے والے برتن صاف اور خشک ہوں‘ ورنہ اچار خراب ہوجائے گا۔
اچار اور صحت
صحت کے حوالے سے اچار کے بہت سے فوائد ہیں۔اس میں کچے پھل اور سبزیاں پکائے بغیر اصل حالت میں محفوظ کر لئے جاتے ہیں لہٰذا اس میں بہت سے اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوتے ہیں جو صحت کے لئے مفید ہیں ۔اچار کے حوالے سے ایک اہم فائدہ مفید ’’پروبیاٹک بیکٹیریا‘‘ کی فراہمی ہے۔یہ وہ بیکٹیریا ہیں جو کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔تبھی تو حاملہ خواتین بھی اچار کے استعمال سے کھانا باآسانی کھا پاتی ہیں۔ اس کے ساتھ کچھ ایسے کھانے جو ہمیں لذیذ نہیں لگتے ‘ اچار کی مدد سے باآسانی کھائے جاتے ہیں ۔اینٹی بائیوٹکس کے بکثرت استعمال سے مذکورہ بالا بیکٹیریا مر جاتے ہیں جس سے ہمارا ہاضمے کا نظام متاثر ہوتا ہے ۔ سرکے کے بغیر اچار کا استعمال ان بیکٹیریا کی نشونما کے لئے ضروری ہے۔
غذائی اجزاء
اچار میں مخصوص پھلوں، سبزیوں، مصالحہ جات اور جڑی بوٹیوں (herbs) کے استعمال سے انسانی جسم کو بہت سے اہم وٹامنز اور منرلز ملتے ہیں۔ ان غذائی اجزاء میں وٹامن اے‘ سی ‘ کے ، فولیٹ اور منرلز مثلاً آئرن، کیلشیم اور پوٹاشیم شامل ہیں جو قوت مدافعت بڑھانے کے علاوہ ہڈیوں کی مضبوطی، نظر کی حفاظت، خون کی کمی اور بہت سے دوسرے اہم کاموں کے لئے بھی مفید ہیں۔
سرکے کا اچار ہیموگلوبن لیول کو بڑھادیتا ہے جس سے ذیابیطس کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ہائی بلڈپریشر سے متاثرہ افراد اچار کھاتے ہوئے احتیاط برتیں‘ اس لئے کہ اس میں نمک زیادہ استعمال ہوتا ہے ۔
مختلف ممالک کے اچار
بہترین ذائقے اور صحت بخش اجزاء سے بھرپور اس سائیڈ ڈش کو ہر تہذیب نے نئے رنگ سے اپنایا ۔
ہندوستانی اچار
انڈیا میں کچی املی، لیموں، ککڑی، کریلے، گاجر، پھول گوبھی، لہسن، ادرک، پیاز اور چکوترے کا اچار بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ وہاں اچار کے لئے زیادہ ترایک ہی سبزی کا انتخاب کیا جاتا ہے تاہم کبھی کبھار دو یا دو سے زیادہ سبزیوں کو ملا کر بھی اچار تیار کر لیا جاتا ہے۔ وہاں لوگ گھر میں بنااچار بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ اچار بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ سال بھر خراب نہ ہو۔ زیادہ تر پھلوں اور سبزیوں کا اچار کھانے والے ملک میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نان ویجی ٹیرین اچارمثلاً گوشت، مچھلی، چکن، پران وغیرہ کا اچار بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔
چینی اچار
اس ڈش نے جن ایشیائی ممالک میں مقبولیت حاصل کی ‘ان میں چین بھی شامل ہے جہاں یہ ہزاروں سال سے تیار کیا جا رہا ہے ۔ یہاں زیادہ تر بند گوبھی، سلاد کے پتے، سرخ پیاز، کھیرا، گاجر، سیب اور انناس کا اچار کھایا جاتا ہے۔ اس کی تیاری کے لئے نمک، چینی، سرکہ، سویا ساس اور مخصوص پھلیوں کی پیسٹ جیسے اجزاء کا استعمال کیا جاتا ہے۔
کوریائی اچار
کوریا میں مختلف طرح کی موسمی سبزیوں کی اقسام اور دیگر مصالحہ جات مثلاً سویا بین، مچھلی پیسٹ، اویسٹر وغیرہ سے تیار کردہ سپائسی اور کھٹا اچار بے حد مقبول ہے۔یہاں اچار کی شروعات چین کے طرز پر ہوئی مگر وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اچار بنانے کے طریقوں میں علاقائی ذائقوں اور اجزاء کی مناسبت سے ردوبدل کر لیا ہے۔وہاں عام طور پر دو قسم کے اچار بنائے جاتے ہیں۔ پہلی قسم میں مرچ پیسٹ اور دیگر مصالحہ جات کے ساتھ اچاری سبزیوں یا پھلوں کو تخمیر کیا جاتا ہے۔ دوسرے طریقے میں نمک ملے پانی کے ساتھ اچار تیار کیا جاتا ہے۔
جاپانی اچار
کہا جاتا ہے کہ جاپانی کھانوں کے تین بڑے حصے چاول، سوپ اور اچار ہیں۔ کھانوں کے حوالے سے یہاں کے کلچر میں رنگ اور ذائقے کے امتزاج کو اہمیت حاصل ہے ۔ اسے تسوکیمونو (Tsukemono) کہا جاتا ہے۔یہ کھانے میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس ترقی یافتہ ملک میں پائی جانے والی اچار کی اقسام میں گاری(جو لہسن سے تیار کیا جاتا ہے)‘تاکوان(جاپانی مولی سے تیار کردہ)‘ اوموبوشی(جاپانی آلو بخارہ سے تیار کردہ)‘ بینی شوگا(ادرک سے تیار کردہ)، شیبا زوک(بینگن اور کھیرے سے تیار کردہ) ، کیوری زوک( کھیرے سے تیار کردہ) اور فوکد جنزوک (جاپانی مولی، بینگن، کھیرے اور کنول کے پھول سے تیار کردہ) شامل ہیں۔
مغربی طرزکا اچار
مغربی سٹائل کا اچار برصغیرکے تیکھے ذائقوں کی بجائے میٹھے، کھٹے یا نمکین ذائقوں کا ہوتا ہے۔ اچار کی تیاری کے لئے سبزیوں میں زیادہ تر کھیرا اور ککڑی جبکہ پھلوں میں سیب، ناشپاتی اور آڑو کا استعمال کیا جاتا ہے۔(ص‘ن)

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x