بھولنے کی بیماری کو مت بھولیں

240

ماضی سے ہمارا رشتہ اور تعلق ےاداشت ہی کی وجہ سے قائم ہے۔ اسی کی بدولت ہم اپنوںغیروں،دوستوںاور دشمنوں مےں تمےز کرپاتے ہےں۔ اگر عمر میں اضافے‘ بیماری یا کسی حادثے وغیرہ کے نتیجے میں کسی کی یادداشت چلی جائے تو اسے نہ صرف تمام رشتے بیگانے لگتے ہیں بلکہ انتہائی صورتوں میں وہ اپنی پہچان بھی کھو بیٹھتا ہے ۔
یاداشت میں چھوٹی موٹی گڑ بڑ بڑھاپے میں ہی نہیں‘ ابتدائی عمرمےں بھی دیکھی جا سکتی ہے ۔ مثلاًروزمرہ زندگی میں مختلف طرح کے مسائل اورسوچوں میں گھرے ہونے کے باعث ہم گھر کی اشیاءکسی کونے کھدرے میں رکھ دیتے ہیںاور تھوڑی دیر بعد خود بھی یاد نہیں رہتاکہ وہ چیز کہاں رکھی تھی۔کبھی گھر کی چابیاں اور عینک وغےرہ کہیں رکھ کر بھول جاتے ہیںاور پھر انہیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ معمولات زندگی میں اس طرح کی بھول چوک وقتی طور پر ذہنی کوفت کا باعث تو بنتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بھولنے والا فردیادداشت کی کمی کے عارضے میں مبتلاہے ۔ حافظے کی خرابی کو اگر مرض کے طور پر لےا جائے تو وہ عموماً بڑھاپے یا کسی شدےد بیماری کے سبب ہی پیدا ہوتی ہے ۔
بھولنے کی بیماری ہے کیا ؟
الزائمرز(alzheimer’s) ایک لاعلاج دماغی مرض ہے‘ تاہم اس کی ابتدائی شکل ڈیمنشیا (dementia) کی اگر بروقت تشخیص ہوجائے اور علاج شروع کر دیا جائے تو بیماری کے بڑھنے کی رفتار کو کافی حد تک سست کیا جا سکتا ہے۔ ڈیمنشیا( عرف عام میں بھولنے کی بیماری) دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتا ہوا مرض ہے جس کے مریضوں کی تعداد تقریباً پانچ کروڑ ہے۔اگرچہ پاکستان میں اس مرض پر مصدقہ اعداد و شمار دستیاب نہیں، تاہم ذہنی صحت سے متعلق ماہرین کا اندازہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس کے شکار مریضوں کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہے۔یہ مرض موروثی بھی ہوسکتا ہے اور انسان کا طرز زندگی بھی اسے بڑھانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
مرض کی علامات
اس مرض کی ابتدائی علامات یہ ہیں کہ مریض کے معمولاتِ زندگی، مزاج اور رویے میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں آنے لگتی ہیں جن پر اگر توجہ نہ دی جائے تو آگے چل کر یہ مرض خطرناک صورت اختیار کرتے ہوئے نسیان میں تبدیل ہوجاتا ہے جو لاعلاج مرض ہے۔
اس کے علاوہ روز مرہ زندگی کے امور میں تبدیلیاں آنے لگتی ہےں۔مثلاً وہ آنے جانے کے معمول کے راستوں کو بھی بھولنے لگتا ہے۔ کچھ چیزیں جنہیں معمول کے مطابق خاص جگہ پر رکھتا تھا‘ اب انہیں وہاں رکھنا بھول جاتا ہے۔ وہ حساب کتاب اور لین دین میں غلطیاں کرنے لگتا ہے۔ اس کی شخصیت اورمزاج میں تبدیلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ کبھی وہ انتہائی خوش مزاج ہوتا ہے تو کبھی ایسا بدمزاج کہ اس شخص سے توقع ہی نہیں کی جا سکتی تھی ۔ کسی شخص میں ابتدائی علامات کے ظاہر ہوتے ہی معالج سے مشورہ کیا جانا ضروری ہے تاکہ مرض کی تشخیص اور بروقت علاج ہو سکے۔
مرےض کی دیکھ بھال
جب لوگوں کو بھولنے کی بیماری لگ جائے تو ان کی عزت میں کمی آنے لگتی ہے اور لوگ ان کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔دیگر لوگوں کی طرح ان مریضوں کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی عزت و توقےر اسی طرح کی جائے جےسے ماضی مےں کی جاتی تھی ۔ یہ ان کا حق ہے جو انہیں ملنا چاہئے ۔ان کے رشتہ دار اور دوست احباب درج ذےل طرح سے ان کی مدد کر سکتے ہےں:
٭ان کے سامنے لچکدار روےہ اپنائےں۔
٭ان کی بات غور سے سنےں اور ان سے باقاعدگی سے بات چیت کرےں۔انہےں احساس دلائےں کہ ان سے بات کر کے آپ فرحت محسوس کرتے ہےں ۔
٭ایسے کام تلاش کرےں جو آپ اور وہ مل کر کر سکتے ہوں۔
٭ڈیمینشیاکے مرےض کو ان ناموں اور اس انداز سے پکارےں جنہےں وہ پہچانتے اور ترجیح دیتے ہوں۔دوست احباب اگر پہلے نام یا عرف سے پکارےں تو انہیں اچھا لگے گا۔اسی طرح نوعمر‘ اجنبی اور جونےئرلوگ انہیں رسمی طور پرمخاطب کریں۔
٭ کسی اور شخص کے ساتھ مرےض کے انداز‘ رسم ورواج اور پسند و ناپسند کا اظہار مرےض کی موجودگی مےں کرےں تاکہ وہ اس کے مطابق برتاﺅ کرسکیں۔
٭مرےض کی دےکھ بھال مےں شفقت کا رویہ اختیار کریں اور ایسے پہلو تلاش کرتے رہیں جن کے ذریعے انہیں گزری ہوئی باتیں یاد آ سکیں یا وہ خود کا ان سے تعلق محسوس کر سکیں۔ بات کرتے وقت انہیں یہ محسوس نہ کرائیں کہ آپ ان سے کسی طرح بالاتر ہیں۔ان کے سامنے اس طرح بات نہ کریں گویا وہ وہاں موجودنہیں ۔خاص طو رپر اگرآپ ان کے بارے میں بات کررہے ہیں توانہیں گفتگو میں لازماًشریک کیجئے۔
٭ان پر تنقید یانکتہ چینی کرنے سے گریز کریں۔
٭ان کے الفاظ کے پیچھے چھپے مطلب کو تلاش کیجئے‘خواہ بظاہر ان کا کچھ مطلب نہ ہو۔
٭ ان کو بھی دوسروں کی طرح تخلئے کا حق حاصل ہے۔ٹوائلٹ جانے مےں مدد ضرور دیں مگر ایسے میں ان کے احساسات مجروح مت ہونے دےں۔
٭ ڈیمینشیاکے مرےض کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے ان کی اہلیتوں‘ دلچسپیوں اور ترجیحات کو ذہن میں رکھاجائے۔یہ چیزیں ڈیمینشیامےں اضافے کے ساتھ تبدیل بھی ہوسکتی ہیں۔ان تبدیلیوں کے مطابق عمل کرنا مشکل کام ضرور ہے لےکن ایسا کرنے کی کوشش لازماًکیجئے۔
لاعلاج مرض کیوں؟
طب کے میدان میں ترقی کے باوجو د ماہرین نہ تو اس مرض کی وجوہات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہہ سکے ہیں اور نہ ہی اس کے علاج میں کوئی خاطر خواہ کامیابی ہوئی ہے۔ تاہم چند اےسی ادویات ضرور تیار ہو گئی ہےں جو مرض کے ابتدائی یا درمیانی مرحلے مےں کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچاتی ہیں یا کم از کم خرابی کی رفتار سست کر دےتی ہےں ۔
کہنے کو یہ لاعلاج ہے لیکن بروقت تشخیص ،علاج ،اہل خانہ کا اچھا رویہ اور محبت مریض میں بہتری لاسکتی ہے۔ ان کا سہارا بنیں تاکہ وہ خود کو تنہا اور بے بس محسوس نہ کریں۔