جوڑوں کی سوزش بچاؤ کیسے

65

انسانی جسم کو حرکت میں رکھنے میںجوڑوں کا کردار بہت اہم ہے۔اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو چھوٹے موٹے کاموں کی انجام دہی بھی مشکل ہوجاتی ہے ۔ انسانی جسم میں ہر جوڑ دو ہڈیوں سے مل کر بنتا ہے جن کے درمیان ایک جھلی نما چیزہوتی ہے جسے نرم یا کرکری ہڈی (cartilage) کہتے ہیں۔ اس میں سے قدرتی طور پر ایک رطوبت نکلتی ہے جس سے جوڑ چکنا ہوجاتا اور باآسانی حرکت کرتا ہے۔ اگر اس نرم ہڈی کو نقصان پہنچے تو رطوبت کا اخراج متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے جوڑ ٹھیک طرح سے حرکت نہیں کرپاتا۔اس کے علاوہ جوڑوں میں سوزش (inflammation) بھی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے وہ سوج جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو آرتھرائٹس (arthritis) کہتے ہیں۔
یہ مرض ہے کیا؟
اس کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے ایک جوڑوں کا پتھرانا یا گنٹھیا نما ورم مفاصل (rheumatoid arthritis) بھی ہے۔ یہ جوڑوں کی وہ سوزش ہے جس میں ہاتھوں‘ پائوں اور کہنیوں وغیرہ کے چھوٹے جوڑزیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کروایا جائے تو گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے جوڑ بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اسے عام زبان میں سوزش والا آرتھرائٹس بھی کہتے ہیں۔
اس بیماری کا سبب جسم کے مدافعتی نظام کا خوداپنے ہی جسم پر حملہ آور ہونا ہے۔ عام الفاظ میں اسے یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جسم کا مدافعتی نظام، اس سے متعلق خلیے اور ٹشوز اپنے ہی جسم کے خلاف کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس نقص یا خرابی کی حقیقی وجہ ابھی تک دریافت نہیں ہوپائی۔
یہ مرض مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس میں عمر کی کوئی قید نہیں یعنی یہ بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے کچھ حصوں میں یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے جن میں کشمیر اور سوات کے علاقے سرِفہرست ہیں۔ اس کی وجوہات میں ان کا مخصوص موسم، رہن سہن کے طریقے اورخاندان میں شادیوں کا تسلسل نمایاں ہیں۔
مرض کی علامات
اس میں سب سے عام علامت جوڑوں ‘خصوصاً ہاتھوں اور پیروں کے چھوٹے جوڑوں میں اچانک درد شروع ہوجانا اور جوڑوں میں سوزش ہے۔ ایسے مریضوں کوعموماًصبح اٹھتے وقت اپنے جوڑ اکڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور ان میں درد بھی زیادہ ہوتا ہے۔ دن میں یہ ٹھیک ہوجاتے ہیں اور شام ہوتے ہی دردوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ مزید علامات میں بخار ہونا،تھکاوٹ کا بڑھ جانااور جسمانی کمزوری کا محسوس ہونا شامل ہے۔
احتیاطی تدابیر
اس بیماری سے مکمل بچاؤ کا کوئی طریقہ ابھی تک دریافت نہیں ہوسکا‘ البتہ بروقت علاج سے اسے بڑھنے سے روکا بھی جا سکتا ہے اور جوڑوں کو ٹوٹنے یا ٹیڑھاہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اور اگر علاج میں تاخیر کی جائے تو اس کا علاج مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے جتنا جلدی ممکن ہو‘ کسی اچھے معالج سے علاج کروائیں۔ اگرمرض کی جلد تشخیص ہوجائے اور علاج شروع کرادیا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ بیماری مکمل طور پر ٹھیک ہوجائے۔
تشخیص ‘علاج
اس کی تشخیص مریض کی فیملی ہسٹری اور ظاہری حالت کو دیکھ کر باآسانی کی جا سکتی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اس مرض کا تعلق وٹامن ڈی یا کیلشیم کی کمی سے ہے۔ دیگر نمکیات اور وٹامنز کی طرح یہ عناصر بھی جسم کے لئے ضروری ہیں تاہم ان کااس مرض سے براہ راست تعلق نہیں‘ اس لئے کہ یہ بیماری جسم کے مدافعتی نظام کے اپنے جسم کے خلاف کام کرنے کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔
علاج کے ضمن میں صرف دوائیں ہی نہیں‘ جوڑوں کی مالش‘ ورزشیں، نیم گرم پانی سے ٹکور اورفیزیو تھیراپی میں استعمال ہونے والی دیگر تکنیکیں بھی شامل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دوائیں وقت پر اور ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق لیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو جوڑ ٹیڑھے ہوجاتے ہیں۔ ایسے میںان کی شکل بگڑ جاتی ہے جسے واپس لاناممکن نہیںہوتا۔
’’پرہیز علاج سے بہتر‘‘ کا فارمولا یہاں بھی بہترین حکمت عملی ہے۔متوازن خوراک کھانے‘ اپنی عمومی صحت کا خیال رکھنے اور روزانہ30 سے60 منٹ تک ورزش کرنا اس سے بچائو میں مدد دیتا ہے۔ لوگوں کوچاہئے کہ اپنا وزن مناسب حد سے زیادہ نہ ہونے دیں، تمباکو نوشی سے پرہیز کریں، فاسٹ فورڈ اورکولا مشروبات کا استعمال کم سے کم کریں اور اپنے جوڑوں پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالیں۔ اگر آپ کا ذریعہ معاش ایسا ہے جس میں جوڑ زیادہ استعمال ہوتے ہیں تو چیزیں اٹھانے کا صحیح طریقہ سیکھیں تاکہ جوڑ وں کی تکلیف اور بیماریوں سے بچا جا سکے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x