پیٹ کے کیڑے

0

پیٹ کے کیڑے

 بچہ جب ماں کی گود میں یا بستر پر رہتا ہے تووہ جراثیم اور طفیلیوں سے نسبتاً زیادہ محفوظ رہتاہے۔ جب وہ چلنا شروع کرتا ہے توآغاز میں ننگے پاؤں فرش پر چلتا ہے اور جو چیز ہاتھ لگے اٹھا کرمنہ میں ڈال لیتا ہے۔اس وجہ سے بچے کے معدے میں مسائل پیدا ہونا شروع ہو  جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال پیٹ کے کیڑوں کی ہے۔

 یہ ترقی پذیر ممالک میں عمومی شکایت ہے اور خصوصاً بچوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ عموماً پانچ سے نو سال تک کے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں لیکن یہ اس سے چھوٹے بچوں میں بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کیڑوں کی تین بڑی اقسام چلونے ، کیچوے  اور کدو دانے ہیں۔

چلونے

باریک دھاگے کی طرح کے چلونے کیڑوں کی لمبائی بالعموم چوتھائی انچ سے ایک انچ تک ہو سکتی ہے ۔ یہ رنگت میں سفید ہوتے ہیں اور زیادہ تر انتڑیوں اورپاخانے کی جگہ یعنی مقعد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ تیزی سے حرکت کرتے ہیں ۔ جس فرد کے پیٹ میں یہ کیڑے ہوں‘ ان میں زیادہ بھوک، دانت پیسنا، ناک کھجانا، مسلسل بے چینی محسوس کرنا اور مقعڈ کے آس پاس خارش ہونا جیسی علامات پائی جاتی ہیں۔

کیچوے

یہ کیڑے لمبائی میں عموماً4 انچ سے 15 انچ تک بڑے اور موٹائی میں تقریباً سوا انچ ہوتے ہیں ۔ یہ بالعموم آنتوں اور معدے میں پائے جاتے ہیں۔ یہ عام طور پر قے آنے کی صورت میں یا پاخانے کے راستے خارج ہو تے ہیں۔ان کی موجود گی میں پیٹ میں درد اور سوزش، زرد رنگت،  بدبو اور اسہال ، منہ سے رال ٹپکنا اور دانت پیسنا جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

کدو دانے

یہ کیڑے ایک انچ سے 50فٹ تک لمبے ہو سکتے ہیں۔ ان کی رہائش کا مقام چھوٹی آنت ہے لیکن بعض دفعہ ان کا کوئی ٹکڑا کٹ کر پاخانے کے راستے خارج ہو جاتا ہے۔ ان کا سر آنت کے ساتھ چپکا رہتا ہے ۔ یہ کیڑے پیٹ میں بوجھ، ناف والی جگہ سے پیٹ بڑھنے کا باعث بنتے ہیں

مندرجہ بالابتائی گئی علامات ابتدائی نوعیت کی ہیں۔ اگر پیٹ میں موجود ان کیڑوں کی بروقت تشخیص اورپھر علاج نہ کیا جائے توپیٹ میں مستقل اورشدید درد کا مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے۔ یہ کیڑے انسانی خون پر پلتے ہیں لہٰذا ان کی موجودگی سے انسانی جسم میں خون کی کمی سمیت کئی طرح کی بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔

Intestinal worms, types, location, damage caused by them

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x