اوفوریکٹومی (Oophorectomy) ایک سرجیکل پروسیجر ہے جس میں ایک یا دونوں بیضہ دانیاں نکالی جاتی ہیں۔ بیضہ دانیاں بادام نما اعضا ہیں جو رحم کے دونوں طرف پیلوک حصے میں واقع ہوتی ہیں۔ یہ انڈے پیدا کرتی ہیں اور ماہواری کو کنٹرول کرنے والے اہم ہارمونز بناتی ہیں۔
جب دونوں بیضہ دانیاں نکالی جائیں تو اسے دو طرفہ اوفوریکٹومی (bilateral oophorectomy) کہا جاتا ہے۔ صرف ایک بیضہ دانی نکالنے کو یک طرفہ اوفوریکٹومی کہا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں اس سرجری کے ساتھ قریبی فیلوپین ٹیوبز بھی نکالی جاتی ہیں، جسے سالپنگواوفوریکٹومی کہا جاتا ہے۔
اوفوریکٹومی بعض اوقات ہسٹرییکٹومی کے ساتھ بھی کی جاتی ہے، جس میں رحم نکالا جاتا ہے۔ تاہم ہر ہسٹرییکٹومی میں بیضہ دانیاں نکالنا ضروری نہیں ہوتا۔
کیوں کی جاتی ہے
اوفوریکٹومی علاج یا بیماری سے بچاؤ کے لیے کی جا سکتی ہے، خاص طور پر درج ذیل صورتوں میں:
٭ ٹیوبو-اووریئن ایبسیس، جس میں فیلوپین ٹیوب اور بیضہ دانی کے درمیان پیپ بھرا انفیکشن بن جاتا ہے
٭ اینڈومیٹریوسس، جس میں رحم کی اندرونی جھلی جیسا ٹشو باہر بڑھتا ہے اور بیضہ دانیوں پر سسٹس (اینڈومیٹریوما) بن سکتی ہیں
٭ غیر سرطانی سسٹ یا ٹیومر، جو پھٹ کر درد اور پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں
٭ اووریئن کینسر، جس کے علاج میں بیضہ دانیاں نکالنا شامل ہو سکتا ہے
٭ اووریئن ٹورشن، جس میں بیضہ دانی مڑ جاتی ہے اور اس کی خون کی فراہمی متاثر ہو جاتی ہے
٭ کینسر کے خطرے میں کمی، خاص طور پر ان افراد میں جن میں جینیاتی خطرہ زیادہ ہو۔ بعض اوقات فیلوپین ٹیوبز بھی نکالی جاتی ہیں کیونکہ کچھ کینسر وہاں سے شروع ہو سکتے ہیں
خطرات
اگرچہ یہ نسبتاً محفوظ سرجری ہے، پھر بھی کچھ خطرات موجود ہوتے ہیں:
٭ خون بہنا
٭ قریبی اعضا کو نقصان پہنچنا
٭ دونوں بیضہ دانیاں نکالنے کی صورت میں بانجھ پن
٭ انفیکشن
٭ بیضہ دانی کے کچھ خلیوں کا باقی رہ جانا، جو پیلوک درد جیسے مسائل پیدا کر سکتے ہیں
٭ سرجری کے دوران رسولی پھٹنے کی صورت میں کینسر کے خلیوں کا پھیلاؤ
اوفوریکٹومی کے بعد مینوپاز
اگر دونوں بیضہ دانیاں نکال دی جائیں تو ماہواری بند ہو جاتی ہے، جسے مینوپاز کہا جاتا ہے۔ اس کا سبب جسم میں ایسٹروجن اور پروجیسٹرون جیسے ہارمونز کی پیداوار کا رک جانا ہے۔
ہارمونز کی اچانک کمی سے درج ذیل مسائل ہو سکتے ہیں:
٭ ہاٹ فلیشز اور وجائنا کی خشکی
٭ ذہنی دباؤ یا بے چینی
٭ دل کی بیماری کا خطرہ
٭ یادداشت کے مسائل
٭ جنسی خواہش میں کمی
٭ ہڈیوں کی کمزوری (آسٹیوپوروسس)
کم عمر میں سرجری، خاص طور پر 45 سال سے پہلے، ان خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔ بعض مریضوں میں محدود مقدار میں ہارمون تھراپی 50 سال کی عمر تک ان اثرات کو کم کر سکتی ہے۔ اس کے اپنے خطرات بھی ہوتے ہیں، اس لیے طبی مشورہ ضروری ہے۔
سرجری کی تیاری
اوفوریکٹومی سے پہلے عام طور پر یہ ہدایات دی جاتی ہیں:
٭ استعمال ہونے والی تمام ادویات، وٹامنز اور سپلیمنٹس کی مکمل معلومات فراہم کرنا
٭ خون پتلا کرنے والی ادویات جیسے اسپرین عارضی طور پر روکنا
٭ سرجری سے پہلے کھانے پینے کی ہدایات پر عمل کرنا
٭ ضروری ٹیسٹ کروانا، جیسے الٹراساؤنڈ یا خون کے ٹیسٹ
حمل سے متعلق منصوبہ بندی
اگر دونوں بیضہ دانیاں نکال دی جائیں تو قدرتی طور پر حمل ممکن نہیں رہتا۔ اگر آپ مستقبل میں بچے چاہتے ہیں تو سرجری سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ بعض صورتوں میں متبادل تولیدی طریقے ممکن ہوتے ہیں، اور فرٹیلیٹی سپیشلسٹ سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔
آپریشن کے دوران اور بعد میں
سرجری عام طور پر جنرل اینستھیزیا کے تحت کی جاتی ہے، جس میں مریض نیند جیسی حالت میں ہوتا ہے۔ سرجن پیٹ میں کٹ لگا کر بیضہ دانیوں تک رسائی حاصل کرتا ہے۔
کبھی یہ پروسیجر بڑے کٹ (اوپن سرجری یا لیپروٹومی) تو کبھی چھوٹے کٹس کے ذریعے (لیپروسکوپک سرجری) کیا جاتا ہے جس میں کیمرہ اور چھوٹے آلات استعمال ہوتے ہیں۔ بعض صورتوں میں روبوٹک سرجری بھی کی جاتی ہے۔
چھوٹے کٹس والی سرجری میں صحت یابی عموماً تیز ہوتی ہے اور درد کم ہوتا ہے، تاہم ہر مریض کے لیے یہ طریقہ مناسب نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سرجری کے دوران طریقہ تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔
سرجری کے دوران بیضہ دانیاں خون کی سپلائی اور اردگرد کے ٹشوز سے الگ کر کے نکال دی جاتی ہیں۔ اگر منصوبہ شامل ہو تو فیلوپین ٹیوبز یا رحم بھی نکالے جا سکتے ہیں۔ آخر میں ٹانکوں سے کٹ کو بند کر دیا جاتا ہے، جو وقت کے ساتھ خود بخود گھل جاتے ہیں۔
سرجری کے بعد
٭ مریض کو اینستھیزیا کے اثرات ختم ہونے تک ریکوری روم میں رکھا جاتا ہے
٭ بعد میں وارڈ یا ریکوری ایریا میں منتقل کیا جا سکتا ہے
٭ جلد حرکت شروع کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ صحت یابی بہتر ہو
زیادہ تر افراد اسی دن گھر واپس جا سکتے ہیں اور رات کو ہسپتال میں رہنا ضروری نہیں ہوتا۔
نتائج اور صحت یابی
صحت یابی کا وقت مریض کی حالت، سرجری کی وجہ اور طریقہ کار پر منحصر ہوتا ہے۔ عام طور پر زیادہ تر افراد 2 سے 4 ہفتوں میں اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں واپس آ سکتے ہیں۔ حتمی رہنمائی کے لیے اپنے معالج سے مشورہ ضروری ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=ob-gyne