اُلو کیسا پرندہ ہے

جب کبھی کسی جانور اور کسی انسان میں کوئی مشترک خصوصیت نظر آئے تو لوگ اسے اسی نام سے پکارنے لگتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی کا قد زیادہ لمبا ہو تو اسے اونٹ یا زرافے وغیرہ سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ اسی طرح اُلو دن کو سوتا اور رات کو جاگ کر شکار کرتا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی انسان رات کو دیر تک جاگتا ہو تو اسے یہ نام دے دیا جاتا ہے۔ اُلو کیسا پرندہ ہے، آئیے جانتے ہیں۔

کسی معاشرے میں اُلوؤں کو خوش قسمتی یا دانائی کی تو کچھ میں انہیں کم عقلی اور بد قسمتی کی علامات سمجھا جاتا ہے۔ جہاں یہ بے وقوفی کا استعارہ ہو، وہاں کسی کی کم عقلی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اسے الو کہہ دیا جاتا ہے۔

خصوصیات

٭ان کے سر بڑے اور گول جبکہ چہرے چپٹے ہوتے ہیں۔ تاہم کچھ قسمیں (barn owls) ایسی بھی ہیں جن کے چہرے دل کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔

٭ان کے دانت نہیں ہوتے۔ یہ اپنے شکار کو پورا نگل لیتے ہیں۔ جو ہڈیاں یا پنکھ وغیرہ ہضم نہیں ہوتے انہیں منہ کے ذریعے نکال دیتے ہیں۔

٭ان کی چونچوں اور پاؤں پر کچھ پر ہوتے ہیں جن کی مدد سے یہ اپنے قریب موجود چیز کو محسوس کر سکتے ہیں۔

٭اُلو طوطے اور کوے کے مقابلے میں زیادہ ہوشیار یا ذہین نہیں ہوتا۔

٭ان کا سائز 15 سے 70 سنٹی میٹر تک ہوتا ہے۔ دنیا کے سب سے چھوٹے اُلو (elf owl) کی لمبائی چھ انچ ہے۔ یہ ایک چڑیا کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

دنیا کا سب سے چھوٹا الو-شفانیوز

اُلو کی اقسام

ان کی مختلف قسمیں ہیں جن کے رنگ اور سائز مختلف ہوتے ہیں۔ تاہم ان میں ایک مشترک خصوصیت یہ ہے کہ ان سب کے پنجے تیز اور چونچیں نیچے کی طرف مڑی ہوتی ہیں۔ یہ خصوصیات انہیں عقاب اور ایسے دیگر شکاری پرندوں کی طرح شکار کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

آنکھیں اور کان

٭ان پرندوں کی آنکھیں ایک ٹیوب کی طرح ہوتی ہیں جو اپنی ساکٹ میں حرکت نہیں کر سکتیں۔ اس لیے انہیں اِردگرد دیکھنے کے لئے گردن کو گھمانا پڑتا ہے۔ ان کی گردن 270 ڈگری پر مڑ سکتی ہے۔

٭ان کی آنکھوں کا وزن ان کے جسم کے وزن کے تین فی صد کے برابر ہے۔

٭ان کی قریب کی نظر کمزور جبکہ دور کی تیز ہوتی ہے۔ یہ اپنی آنکھوں سے کچھ سنٹی میٹر دور چیز کو زیادہ واضح طور پر نہیں دیکھ پاتے۔

٭ان کے کان ان کے سر کی سائیڈز پر اور پروں کے نیچے ہوتے ہیں۔ دونوں سائیڈز پر ان کی جگہ اور سائز مختلف ہوسکتا ہے۔ اسی خاصیت کے باعث انہیں یہ پتا لگانے میں آسانی ہوتی ہے کہ کوئی آواز کس جگہ سے آرہی ہے۔

٭رات کے وقت ان کی آنکھوں پر روشنی ڈالی جائے تو یہ نارنجی یا سرخ رنگ کی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کا سبب ان کی آنکھ کے پردے کے پیچھے موجود ٹشو ہے جو روشنی کو منعکس کرتا ہے۔ اسی کی مدد سے یہ اندھیرے میں بھی اچھی طرح دیکھ پاتے ہیں۔

الوؤں کا جوڑا-شفانیوز

رہن سہن

٭زیادہ تر اُلو زمین کے اوپر رہتے ہیں تاہم ان کی کچھ قسمیں زمین کے اندر بِل بنا کر رہتی ہیں۔

٭یہ بعض اوقات اپنی خوراک چٹانوں کے پیچھے یا اس جگہ چھپا دیتے ہیں جہاں بہت سی گھاس اکٹھی ہو۔ پھر ضرورت پڑنے پر اسے نکال لیتے ہیں۔

٭مادہ کا سائز نر سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے۔ ایک بار میں وہ 14 انڈے دیتی ہے۔ دونوں ساتھی کسی درخت یا گھونسلے پر بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

٭انہیں خاموش شکاری بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے پروں کی ساخت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ اڑتے ہوئے ان کی آواز نہیں آتی۔ لہٰذا یہ با آسانی شکار کر لیتے ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

وزن گھٹانے کے لئے چکنائیوں سے مکمل پرہیز ضروری ہے؟

Read Next

کیا اسپغول فائدہ مند ہے؟

Leave a Reply

Most Popular