آئیلیواینل ایناسٹوموسس سرجری (Ileoanal anastomosis surgery) عموماً مختلف مراحل میں کی جاتی ہے۔ سرجن بیمار کولون اور ریکٹم نکال کر آئیلیم سے ایک تھیلی بناتا ہے۔ پھر اس تھیلی کو مقعد سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ ان دونوں حصوں کو سرجری کے ذریعے ملانے کے عمل کو ایناسٹوموسس کہتے ہیں۔
جسم کے اندر بنائی گئی یہ تھیلی فضلے کو جمع کرتی ہے۔ اس کے بعد فضلہ مقعد کے راستے جسم سے خارج ہوتا ہے۔ اس سرجری کے ذریعے بعض مریضوں کو پیٹ کی دیوار میں مستقل سوراخ بنوانے اور باہر لگے بیگ میں فضلہ جمع کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اقسام
جے پاؤچ سرجری ایک، دو یا تین مراحل میں کی جا سکتی ہے۔ مراحل کی تعداد مریض کی صحت، بیماری کی تشخیص، سرجری کی فوری ضرورت اور سرجن کے طریقۂ کار پر منحصر ہوتی ہے۔
بعض مراحل میں چھوٹی آنت کو پیٹ میں بنائے گئے سوراخ کے ذریعے باہر لایا جاتا ہے۔ اس عمل کو آئیلیوسٹومی کہتے ہیں۔ اس کے ذریعے فضلہ جسم سے خارج ہو کر ایک بیگ میں جمع ہوتا ہے۔ پیٹ کی دیوار میں بنائے گئے اس سوراخ کو اسٹوما کہتے ہیں۔
٭ ایک مرحلے کی سرجری: سرجن بڑی آنت اور ریکٹم نکال دیتا ہے۔ اس کے بعد آئیلیوسٹومی بنائے بغیر جے پاؤچ تیار کیا جاتا ہے
٭ دو مراحل کی سرجری : پہلے مرحلے میں سرجن بڑی آنت اور ریکٹم نکال کر جے پاؤچ بناتا ہے۔ اس کے بعد عارضی آئیلیوسٹومی بنائی جاتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں جے پاؤچ کے ٹھیک ہونے کے بعد آئیلیوسٹومی بند کر دی جاتی ہے
دو مراحل پر مشتمل سرجری کا ایک ترمیم شدہ طریقہ بھی ہے۔ اس میں پہلے بڑی آنت نکال کر آئیلیوسٹومی بنائی جاتی ہے۔ بعد کی سرجری میں ریکٹم نکال کر جے پاؤچ بنایا جاتا ہے
٭ تین مراحل کی سرجری: پہلے مرحلے میں بڑی آنت نکال کر آئیلیوسٹومی بنائی جاتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں سرجن ریکٹم نکال کر جے پاؤچ بناتا ہے اور عارضی آئیلیوسٹومی بھی برقرار رکھتا ہے۔ آخری مرحلے میں آئیلیوسٹومی بند کر دی جاتی ہے
کیوں کی جاتی ہے
آئیلیواینل ایناسٹوموسس سرجری عموماً السرٹیو کولائٹس کے علاج کے لیے کی جاتی ہے، جب ادویات سے بیماری پر قابو پانا ممکن نہ ہو۔ یہ ان موروثی بیماریوں میں بھی کی جاتی ہے جن میں بڑی آنت اور ریکٹم کے کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں فیملیئل ایڈینوماٹس پولیپوسس (ایف اے پی) بھی شامل ہے۔
بعض اوقات آنت میں ایسی تبدیلیوں کی صورت میں بھی یہ سرجری کی جاتی ہے جو کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ بڑی آنت اور ریکٹم کے کینسر کے علاج میں بھی یہ طریقہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جے پاؤچ سرجری مستقل آئیلیوسٹومی کے متبادل کے طور پر کی جا سکتی ہے۔ مستقل آئیلیوسٹومی میں فضلہ جسم کے باہر لگے بیگ میں جمع ہوتا ہے۔ اپنے علاج کے لیے موزوں سرجری اور ذاتی ترجیحات کے بارے میں اپنی طبی ٹیم سے مشورہ کریں۔
تیاری کیسے کریں
آپ کی طبی ٹیم سرجری سے پہلے تیاری کے بارے میں ہدایات دے گی۔ ان میں کھانا پینا کب بند کرنا ہے، معمول کی ادویات کیسے لینی ہیں اور ہسپتال کیا لے کر جانا ہے، شامل ہو سکتا ہے۔
کیفین، الکحل، تمباکو یا دیگر نشہ آور اشیا کے استعمال کے بارے میں اپنے معالج کو بتائیں۔ سرجری سے پہلے یا بعد میں ان کا استعمال زخم بھرنے اور صحت یابی کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔
اگر آپ مستقبل میں حمل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو سرجری سے پہلے اپنی طبی ٹیم سے بات کریں۔ جے پاؤچ سرجری سے بچے کی پیدائش کا طریقہ لازماً متاثر نہیں ہوتا، لیکن سرجری کے بعد بننے والے داغ حمل ٹھہرنے میں مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔ سرجری کے دوران اعصاب کو نقصان پہنچنے سے عضوِ تناسل میں تناؤ پیدا ہونے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
سرجری سے پہلے
سرجری سے پہلے طبی عملہ پیٹ پر اس جگہ کا نشان لگاتا ہے جہاں عارضی آئیلیوسٹومی بنائی جائے گی۔ اس جگہ کا انتخاب مختلف عوامل کو مدِنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ درست جگہ کا انتخاب سرجری کے بعد آئیلیوسٹومی کی دیکھ بھال آسان بناتا ہے۔
سرجری کے دوران
جے پاؤچ سرجری ایک بڑا آپریشن ہے۔ طبی ٹیم آپ کو آپریشن تھیٹر لے جاتی ہے اور جنرل اینستھیزیا دیتی ہے، جس سے آپ گہری بے ہوشی جیسی حالت میں چلے جاتے ہیں۔ اس دوران آپ کو درد محسوس نہیں ہوتا۔
ممکن ہو تو سرجن کم سے کم چیرا لگانے والے طریقے استعمال کرتے ہیں، جنہیں لیپروسکوپک سرجری کہتے ہیں۔ اکثر روبوٹک تکنیک بھی استعمال کی جاتی ہے۔ ان طریقوں میں پیٹ پر بڑا چیرا لگانے کے بجائے چھوٹے چیرے لگائے جاتے ہیں۔
سرجن ان چیرے کے ذریعے جراحی کے آلات اندر داخل کرتا ہے۔ ان میں ایک لمبی، باریک نلکی بھی شامل ہوتی ہے، جس کے سرے پر کیمرا لگا ہوتا ہے۔ اسے لیپروسکوپ کہتے ہیں۔
جے پاؤچ سرجری ایک، دو یا تین مراحل میں کی جا سکتی ہے۔ تین مراحل پر مشتمل سرجری میں درج ذیل طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے:
٭ پہلا مرحلہ: سرجن بڑی آنت نکال دیتا ہے، لیکن ریکٹم کو اپنی جگہ رہنے دیتا ہے۔ اس کے بعد پیٹ کی دیوار میں عارضی سوراخ بنایا جاتا ہے، جسے اسٹوما کہتے ہیں۔ سرجن آئیلیم کا ایک حلقہ بنا کر اسے اسٹوما کے ذریعے باہر لے آتا ہے۔ اس طرح فضلہ جسم سے خارج ہو کر باہر لگے بیگ میں جمع ہوتا ہے
٭ دوسرا مرحلہ: تقریباً تین سے چھ ماہ صحت یابی کے بعد سرجن دوسری سرجری میں ریکٹم نکال دیتا ہے۔ پھر آئیلیم کے ایک حصے سے انگریزی حرف جے کی شکل کی تھیلی بناتا ہے اور اسے مقعد سے جوڑ دیتا ہے۔ تھیلی کو ٹھیک ہونے کا وقت دینے کے لیے فضلہ بدستور آئیلیوسٹومی کے ذریعے خارج ہوتا رہتا ہے
٭ تیسرا مرحلہ: دو سے تین ماہ بعد سرجن معائنہ کرتا ہے کہ جے پاؤچ ٹھیک ہو چکا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد آئیلیوسٹومی بند کر دی جاتی ہے اور فضلہ جے پاؤچ کے ذریعے مقعد سے خارج ہونے لگتا ہے
سرجری کے بعد
پہلی سرجری کے بعد آپ کو کچھ وقت ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے تاکہ صحت یابی ہو سکے اور آپ آئیلیوسٹومی کی دیکھ بھال سیکھ سکیں۔ اس طریقے میں چھوٹی آنت کا آخری حصہ پیٹ کی دیوار میں بنائے گئے سوراخ سے باہر آتا ہے۔ تیسری سرجری تک آپ کو جسم کے باہر بیگ لگانا پڑتا ہے، جس میں فضلہ جمع ہوتا ہے۔
اگر آپ کے پاس اسٹوما بیگ ہے تو طبی ٹیم آپ کو اسے خالی کرنے، تبدیل کرنے اور اسٹوما کے اردگرد جلد کی حفاظت کرنے کا طریقہ سکھائے گی۔
آپ کی طبی ٹیم زیادہ سیال پینے کا مشورہ دے سکتی ہے۔ پانی اور ایسے مشروبات جو جسم میں نمکیات اور معدنیات کی کمی پوری کرتے ہیں، پانی کی کمی سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ ان معدنیات کو الیکٹرولائٹس کہتے ہیں۔
سرجری کے بعد آپ کو درد کم کرنے والی ادویات یا اینٹی بائیوٹکس دی جا سکتی ہیں۔ طبی ٹیم اسہال روکنے والی ادویات یا فائبر سپلیمنٹس بھی تجویز کر سکتی ہے۔
سرجری کے بعد تقریباً چار ہفتوں تک بھاری چیزیں اٹھانے اور جسم پر دباؤ ڈالنے والی سرگرمیوں سے گریز کریں۔ اس کے بعد جسمانی طور پر متحرک رہنا صحت یابی میں مدد دے سکتا ہے۔ عموماً آپ دوبارہ اپنی سابقہ سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں۔
خطرات
جے پاؤچ سرجری کے ممکنہ خطرات میں شامل ہیں:
٭ تھیلی میں سوجن اور سوزش، جسے پاؤچائٹس کہتے ہیں
٭ چھوٹی آنت میں رکاوٹ
٭ جسم میں پانی کی کمی، جب جسم سے خارج ہونے والے سیال کی مقدار حاصل ہونے والے سیال سے زیادہ ہو جائے
٭ تھیلی اور مقعد کے درمیان راستے کا تنگ ہو جانا، جسے اسٹرکچر کہتے ہیں
٭ تھیلی کا ناکام ہو جانا
پاؤچائٹس جے پاؤچ سرجری کی سب سے عام پیچیدگی ہے۔ اس میں پتلا پاخانہ، پیٹ میں درد، جوڑوں میں درد، بخار اور پانی کی کمی جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اگر پاؤچائٹس کی کوئی علامت ظاہر ہو تو اپنے معالج سے رابطہ کریں۔ عموماً اینٹی بائیوٹکس سے اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ بعض مریضوں کو دوبارہ سوزش سے بچنے کے لیے طویل عرصے تک اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنا پڑتی ہیں۔
شاذونادر اینٹی بائیوٹکس سے بھی فائدہ نہیں ہوتا اور تھیلی ناکام ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں سرجن کو تھیلی نکال کر آئیلیوسٹومی بنانا پڑ سکتی ہے۔ اس طریقے میں فضلہ جمع کرنے کے لیے جسم کے باہر بیگ لگایا جاتا ہے۔ تاہم، جے پاؤچ بنوانے والے بہت کم مریضوں میں اسے نکالنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
جے پاؤچ سرجری میں اکثر تھیلی کو ریکٹم کے ایک چھوٹے حصے سے جوڑا جاتا ہے، جسے کف کہتے ہیں۔ بڑی آنت نکالنے کے بعد ریکٹم کا یہ حصہ باقی رہتا ہے۔ السرٹیو کولائٹس کے مریضوں میں اس حصے میں بھی سوزش ہو سکتی ہے، جسے کفائٹس کہتے ہیں۔ زیادہ تر مریضوں میں کفائٹس کا علاج ادویات سے کیا جا سکتا ہے۔
طبی ٹیم ممکنہ پیچیدگیوں کی نگرانی کرتی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کا علاج کرتی ہے۔
نتائج
جے پاؤچ سرجری کروانے والے زیادہ تر افراد اپنی زندگی کے معیار کو بہتر قرار دیتے ہیں اور نتائج سے مطمئن ہوتے ہیں۔
سرجری کے ایک سال کے اندر زیادہ تر افراد میں پاخانے کی تعداد سرجری کے فوراً بعد کے مقابلے میں کم ہو جاتی ہے۔ عموماً دن میں پانچ سے چھ بار اور رات میں ایک یا دو بار پاخانہ آتا ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
جے پاؤچ سرجری کے بعد فضلہ جسم سے کیسے خارج ہوتا ہے؟
اس سرجری میں چھوٹی آنت کے آخری حصے سے ایک تھیلی بنائی جاتی ہے، جو فضلہ جمع کرتی ہے۔ فضلہ اس تھیلی سے مقعد کے راستے جسم سے خارج ہوتا ہے۔
کیا جے پاؤچ سرجری ہمیشہ ایک ہی مرحلے میں ہوتی ہے؟
نہیں، یہ سرجری ایک، دو یا تین مراحل میں کی جا سکتی ہے۔ مراحل کی تعداد مریض کی صحت، بیماری اور سرجن کے طریقۂ کار پر منحصر ہوتی ہے۔
پاؤچائٹس کی عام علامات کیا ہیں؟
پاؤچائٹس میں پتلا پاخانہ، پیٹ اور جوڑوں میں درد، بخار اور پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ ان علامات کی صورت میں معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔