ایچ پی وی انفیکشن (HPV infection) ایک وائرل بیماری ہے جو ہیومن پیپیلوما وائرس کی مختلف اقسام سے ہوتی ہے۔ اس وائرس کی 100 سے زائد اقسام ہیں۔ ان میں سے کچھ جلد پر وارٹس بناتی ہیں جبکہ بعض خطرناک اقسام کینسر کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
زیادہ تر انفیکشن خود ہی ختم ہو جاتے ہیں، تاہم بعض کا تعلق سرویکس کینسر اور دیگر کینسرز سے بھی ہے۔ یہ انفیکشن زیادہ تر جنسی تعلق یا جلد کے قریبی رابطے سے پھیلتا ہے۔
علامات
٭ جنسی وارٹس ہموار یا گوبھی جیسے چھوٹے ابھار ہو سکتے ہیں۔ خواتین میں یہ جنسی اعضاء اور مقعد کے قریب ظاہر ہوتے ہیں۔ مردوں میں یہ عضو تناسل، خصیوں یا مقعد کے گرد بنتے ہیں۔ یہ عموماً دردناک نہیں ہوتے لیکن خارش یا حساسیت پیدا کر سکتے ہیں
٭ عام وارٹس کھردرے اور ابھرے ہوئے ہوتے ہیں، زیادہ تر ہاتھوں اور انگلیوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ تکلیف دہ ہو سکتے ہیں اور آسانی سے زخمی ہو کر خون بہا سکتے ہیں
٭ پاؤں کے وارٹس سخت اور دانے دار ہوتے ہیں، زیادہ تر ایڑی یا پاؤں کے اگلے حصے میں بنتے ہیں اور چلنے میں تکلیف پیدا کر سکتے ہیں
٭ چپٹے وارٹس ہلکے ابھرے زخم ہوتے ہیں جو جسم کے کسی بھی حصے پر بن سکتے ہیں۔ بچوں میں یہ چہرے پر، مردوں میں داڑھی کے حصے میں اور خواتین میں ٹانگوں پر زیادہ پائے جاتے ہیں
سرویکس کینسر
٭ ایچ پی وی انفیکشن تقریباً تمام سرویکس کینسرز کی بڑی وجہ ہے، مگر کینسر بننے میں کئی سال لگ سکتے ہیں
٭ ابتدائی مراحل میں عموماً علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اسی لیے باقاعدہ سکریننگ ضروری ہے
٭ 21 سے 29 سال کی خواتین ہر تین سال بعد پیپ (Pap) ٹیسٹ کروائیں
٭ 30 سے 65 سال کی خواتین پی اے پی یا ایچ پی وی ڈی این اے ٹیسٹ باقاعدگی سے کروائیں
٭ 65 سال کے بعد، اگر نتائج نارمل ہوں، تو ٹیسٹ روکا جا سکتا ہے
وجوہات
٭ ایچ پی وی جلد کے کٹ یا زخم کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور زیادہ تر جلد سے جلد کے رابطے سے پھیلتا ہے
٭ جنسی ایچ پی وی انفیکشن جنسی تعلق، اینل سیکس اور جلدی رابطے سے ہوتا ہے۔ بعض اقسام اورل سیکس کے ذریعے بھی پھیلتی ہیں
٭ حاملہ خواتین یہ وائرس بچے کو منتقل کر سکتی ہیں، اور کبھی کبھار بچے کے گلے میں غیر سرطانی ابھار بن سکتا ہے
٭ یہ وائرس وارٹس کے براہِ راست رابطے سے بھی پھیل سکتا ہے
خطرے کے عوامل
٭ زیادہ جنسی پارٹنرز رکھنے سے خطرہ بڑھ جاتا ہے
٭ کم عمر افراد میں کچھ اقسام زیادہ عام ہوتی ہیں
٭ کمزور مدافعتی نظام انفیکشن کے امکانات بڑھاتا ہے
٭ زخمی جلد پر مسے بننے کا امکان زیادہ ہوتا ہے
٭ متاثرہ شخص یا سطح کو چھونے سے وائرس منتقل ہو سکتا ہے
ممکنہ پیچیدگیاں
٭ منہ، زبان اور گلے میں زخم بن سکتے ہیں
٭ بعض اقسام سرویکس، منہ اور جنسی اعضاء کے کینسر کا سبب بنتی ہیں
احتیاطی تدابیر
٭ عام وارٹس سے بچاؤ کے لیے انہیں مت چھیڑیں اور ناخن چبانے سے گریز کریں
٭ پاؤں کے وارٹس سے بچاؤ کے لیے عوامی جگہوں پر جوتے پہنیں
٭ جنسی وارٹس سے بچاؤ کے لیے ایک ہی پارٹنر کے ساتھ تعلق رکھیں
٭ جنسی تعلق کے دوران کنڈوم استعمال کریں
ایچ پی وی ویکسین
٭ گارڈیسل 9 (Gardasil 9) ایک مؤثر ویکسین ہے جو مردوں اور خواتین دونوں کے لیے دستیاب ہے
٭ ویکسین پہلی جنسی سرگرمی سے قبل زیادہ مؤثر ہوتی ہے
٭ کم عمر افراد میں اثر بہتر ہوتا ہے
٭ 11 سے 12 سال کی عمر میں دو خوراکیں دی جاتی ہیں (9 سال کی عمر سے بھی لگ سکتی ہے)
٭ 15 سے 26 سال کے افراد کے لیے تین خوراکیں تجویز کی جاتی ہیں
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر وارٹس تکلیف، درد یا شرمندگی کا سبب بنیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں
تشخیص
ڈاکٹر وارٹس کو دیکھ کر تشخیص کر سکتا ہے، اگر واضح نہ ہوں تو مزید ٹیسٹ کیے جاتے ہیں
٭ سرکے سے متاثرہ جگہ سفید ہو جاتی ہے اور چپٹے زخم واضح ہو جاتے ہیں
٭ پی اے پی ٹیسٹ خلیوں میں تبدیلی ظاہر کرتا ہے
٭ ڈی این اے ٹیسٹ وائرس کی خطرناک اقسام کی شناخت کرتا ہے
علاج
٭ اکثر وارٹس، خاص طور پر بچوں میں خود ختم ہو جاتے ہیں، لیکن وائرس مکمل ختم نہیں ہوتا۔ اس لیے دوبارہ بن سکتے ہیں
٭ ادویات وارٹس کی تہیں آہستہ ختم کرتی ہیں، مدافعتی نظام کو متحرک کرتی ہیں، ٹشو کو ختم کرتی ہیں یا وارٹس کو جلاتی ہیں
دیگر پروسیجرز
٭ مائع نائٹروجن سے وارٹس منجمد کیے جاتے ہیں
٭ برقی رو سے وارٹس جلائے جاتے ہیں
٭ سرجری کے ذریعے وارٹس نکالے جاتے ہیں
٭ لیزر سے بھی وارٹس ختم کیے جا سکتے ہیں
سرویکس میں ایچ پی وی کا علاج
٭ کولپوسکوپی کے ذریعے سرویکس کا معائنہ کیا جاتا ہے اور مشکوک حصوں سے نمونہ لیا جاتا ہے
٭ قبل از کینسر زخموں کو ہٹانا ضروری ہوتا ہے
٭ کریوتھراپی سے زخم منجمد کیے جاتے ہیں
٭ لیزر سے متاثرہ حصہ ختم کیا جاتا ہے
٭ ایل ای ای پی پروسیجر سے باریک تار کے ذریعے حصہ نکالا جاتا ہے
٭ کولڈ نائف سرجری سے سرویکس کا کون نما حصہ ہٹایا جاتا ہے
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔