روزے میں توانائی کیسے حاصل ہوتی ہے

آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ سحری کے بعد کچھ گھنٹوں تک ہمارا جسم اور ذہن تروتازہ رہتے ہیں۔ تاہم دن ڈھلنے کے ساتھ ہم ذہنی اور جسمانی طور پر سست ہونے لگتے ہیں۔ پھر مشکل سے ہی سہی مگر کھانے کے بغیر بھی ہم چلتے پھرتے اور معمول کے کام کرتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہم کیوں ذہنی و جسمانی طور پر سست ہوتے ہیں۔ پھر خوراک کے بغیر روزے میں توانائی کیسے حاصل ہوتی ہے، آئیے جانتے ہیں:

جب معدہ خوراک کو ہضم کرتا ہے تو کھانے میں موجود کاربوہائیڈریٹس (شوگر اور نشاستہ) ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گزرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ شوگر کی ایک اور قسم میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اسے گلوکوز کہتے ہیں۔ یہ گلوکوز معدے اور آنتوں میں جذب ہو کر خون میں خارج ہوتی ہے۔ وہاں سے یہ جسم کے مختلف حصوں تک پہنچ کر انہیں کام کرنے کے لیے توانائی فراہم کرتی ہے۔

جب ہم مناسب مقدار میں کھانا کھاتے ہیں تو خون میں گلوکوز کی مناسب مقدار برقرار رہتی ہے اور ہم چست رہتے ہیں۔ تاہم جوں جوں کھانے کے دوران وقفہ بڑھتا ہے، توں توں گلوکوز کی مقدار بھی کم ہوتی جاتی ہے اور ہمیں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔

کھائے پیے بغیر توانائی کیسے

اگلا سوال یہ ہے کہ کھائے پیے بغیر بھی ہم دن بھر کام کرتے ہیں تو اس کے بغیر روزے میں توانائی کیسے حاصل ہوتی ہے۔

اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ سحری کے بعد اس کے ہضم ہونے کا عمل کچھ گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اس لیے روزے کے دوران پہلے ہمیں سحری سے ہی توانائی ملتی ہے۔ اس کے بعد جب جسم فاسٹنگ کے مرحلے میں چلا جاتا ہے تو وہ توانائی کے دوسرے ذرائع کی طرف رخ کرتا ہے۔ ان میں پٹھوں اور جگر میں جمع شدہ گلوکوز شامل ہیں ہے۔

جب یہ ذخیرہ خالی ہو جاتا ہے تو اگلا ہدف چربی ہوتا ہے۔ اب جسم چربی کی توڑ پھوڑ شروع کر کے حاصل ہونے والی توانائی کو کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ پھر افطاری کا وقت آ جاتا ہے جس کے بعد صبح سحر تک کھانے پینے کی ممانعت نہیں ہوتی۔ اس دوران اگر ضرورت کے مطابق کھا پی لیا جائے تو جسم کو توانائی کے ذخائر کو بھرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یوں توانائی بحال ہو جاتی ہے اور اگلے دن سے یہ سلسلہ پھر شروع ہو جاتا ہے۔

روزہ ضرورت سے زیادہ لمبا ہو یعنی کئی دنوں تک جاری رہے تو جسم فاقے کے مرحلے میں چلا جاتا ہے۔ پھر پٹھوں کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے بننے والی پروٹین توانائی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ روزوں میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ وہ سحر سے غروب آفتاب تک ہی ہوتے ہیں۔

روزے میں ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ کون سی تبدیلی کس رفتار سے ہو گی، اس کا انحصار روزے کے دورانیے اور سحری میں کھائی جانے والی چیزوں پر ہوتا ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

Basic trauma life support

Read Next

Obsessive-compulsive disorder

Leave a Reply

Most Popular