ماہرین کے مطابق TMEM167A نامی جین میں تبدیلی انسولین بنانے والے خلیوں کو متاثر کرتی ہے۔ یونیورسٹی آف ایکسیٹر کی تحقیق کے مطابق “نیونیٹل مونو جینک ذیابیطس” کے 85 فیصد کیسز میں یہ جینیاتی تبدیلی وراثتی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے بعض بچے پیدائش کے وقت ہی ذیابیطس میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ جین ذیابیطس کے ساتھ اعصابی مسائل بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ان مسائل میں مرگی اور مائیکرو سیفلی شامل ہیں۔ متاثرہ خلیے فعالیت کھو دیتے ہیں، اور مر جاتے ہیں۔
ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی ٹیسٹ ضرور کروائیں۔ اس سے ذیابیطس یا پری ڈایابیٹیز کی بروقت تشخیص ممکن ہے۔
Tags: ذیابیطس