3

فوڈپوائزننگ

گرمیوں کے موسم میں کھلی جگہوں پر بِکتے گنے کے جوس اور دیگر اشیائے خورونوش آپ کے لئے فوڈپوائزننگ کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ ان سے بچاؤ کیسے ممکن ہے اوراگریہ ہو جائے تو کیا کریں، جانئے ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج کے ماہر امراض معدہ و جگر ڈاکٹر سلطان زیب خان سے گفتگو کی روشنی میں اقصٰی نعیم کی تحریر

بازارمیں ریڑھیوں یا ٹھیلوں وغیرہ پرکاٹ کرکھلے رکھے گئے پھل ،چناچاٹ، فروٹ چاٹ، دیگر کھانے اورمشروبات وغیرہ اکثر اوقات ذائقے میں اچھے ہوتے ہیں۔ تاہم عموماً ان کی تیاری میں صحت و صفائی کے اصولوں کا خاص خیال نہیں رکھا گیا ہوتا۔ان چیزوں پرمکھیاں بھنبھنا رہی ہوتی ہیں اورانہیں پیش کرنے سے قبل پلیٹوں کو جس پانی سے دھویا جاتا ہے، وہ بھی بہت سی جگہوں پر صاف نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایسی چیزیں کھانے سے پیٹ خراب ہونے کا امکان ہوتا ہے جسے تکنیکی زبان میں ایکیوٹ گیسٹرو اینٹرائٹس جبکہ عام زبان میں فوڈ پوائزننگ یا ہیضہ کہا جاتا ہے۔

وجوہات کیا ہیں

اس کی بنیادی وجہ بیکٹیریا ،وائرس اور پیراسائٹس بنتے ہیں جو کھانے پینے کی ا شیاء اورانہیں کھانے والے افراد کے ہاضمے کو بھی متاثر کر تے ہیں۔ نتیجتاًپیٹ نرم ہو جاتا ہے، اس میں درد ہونے لگتا ہے، فرد کو قے،دست اوربخارجیسی شکایات بھی ہوتی ہیں۔ قے اور دست کی کثرت جسم سے پانی اور نمکیات کو خارج کر دیتی ہے۔ اس کا اثر بلڈ پریشر کی کمی اور گردوں کی فعالیت پر ہوتا ہے۔ بچوں میں عموماً یہ وائرل جبکہ بڑوں میں بیکٹیریل ہوتا ہے۔

یہ انفیکشن گرمیوں اورمون سون کے موسم میں زیاد ہ عام ہے کیونکہ ان دنوں کھانا جلدی خراب ہوجاتا ہےاور پانی اور دیگر مشروبات کا استعمال بھی بڑھ جاتاہے۔ یوں تو یہ کسی بھی فرد کو ہوسکتا ہےلیکن جو افرادکھانے پینے کے حوالے سے احتیاط نہیں کرتے ،ان کو اس کا خطرہ زیادہ ہے۔

ڈاکٹرسے کب رابطہ کریں

اس کے لئے سب سے پہلے اسہال کی شدت کے پہلو پر غور کریں۔ اگر ایک دن میں تین سے چار مرتبہ دست آئیں تو یہ نارمل ہے تاہم اگر 5 سے12 مرتبہ پانی کی طرح پتلے دست آنے لگیں تو یہ خطرناک صورت حال ہے۔ اس کے علاوہ خونی دست، پیشاب کی نالی میں انفیکشن کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کمزوری محسوس ہونا اور چکر آنابلڈ پریشر میں کمی کو ظاہر کرتا ہے جبکہ چھوٹا پیشاب کم آنےیا مکمل بند ہو جانے سے مراد ہے کہ گردے متاثرہو رہے ہیں۔ اس کےعلاوہ بار بار قے ہونے کی وجہ سے بعض افراد براہ راست منہ سےکچھ کھا پی نہیں سکتے۔ ایسے میں انہیں انجیکشن یا ڈرپ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر مذکورہ بالا علامات ظاہر ہو رہی ہوں توفوری طورپر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

کیا کھائیں، کیا نہیں

٭ڈائریا میں عموماًکچھ کھانے کا دل نہیں چاہتا۔ایسے میں بعض لوگ انرجی بحال کرنے اورغذائی کمی کو پورا کرنے کے لئے صرف دودھ پی لیتےہیں۔ دودھ اور اس سے بنی اشیاء جلدی ہضم نہیں ہوتیں لہٰذاان سے ڈائریا اور زیادہ ہوجاتا ہے۔اس لئے اس وقت اس سے پرہیز کریں۔

٭کولا مشروبات اور کیفین کے حامل مشروبات سے پرہیز کریں۔ بہتر یہ ہے کہ منرل واٹر ہی پیا جائے ۔اگر یہ دستیاب نہ ہو تو سادہ پانی کو ابال کر ٹھنڈا کر کے پیا جا سکتا ہے۔ یہ جسم میں پانی کی کمی کوپورا کردیتا ہے۔

٭جسم کی نمکیات اورکاربوہائیڈریٹس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے اوآرایس فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔یہ بازار میں پیکٹ کی شکل میں دستیاب ہوتا ہے۔اسے پانی میں شامل کریں اور د ن میں کم ازکم دو سے تین لیٹر او آر ایس ملا پانی پئیں۔ یہ گھر میں بھی بنایا جاسکتا ہے۔

٭اس دوران شروع میں تازہ پھلوں کے مشروبا ت سےبھی گریز کریں کیونکہ گرمی کے موسم میں پھل دھوپ میں پڑے پڑے عموماً خراب ہوجاتے ہیں اور ان سے بنایا گیا جوس بھی جراثیم سے متاثر ہو سکتا ہے۔

٭بازار کی بنی مصالحہ دار اشیاء جیسے کباب ، چنے، پلاؤاور میٹھی اشیاء مثلاً کھیر اورجلیبی وغیرہ بالکل نہ کھائیں۔ اس کے علاو ہ تلے ہوئے کھان وںسے بھی پرہیز کریں۔ یہ مزید مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔

٭نرم غذائیں جیسےکیلا، کھچڑی، ڈبل روٹی اور ابلے ہوئے سفید چاول کھائیں تاکہ یہ باآسانی ہضم ہو سکیں۔ کیلا جسم میں پوٹاشیم کی کمی کو دور کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

٭سبز چائے،پودینے،ادرک ، اجوائن اور سونف کا قہوہ یوں تو گیس اور بد ہضمی میں زیادہ مفید ہے ۔ تاہم ہیضے کی صورت میں متلی کی کیفیت ہوتی ہے جس میں انہیں پینے سے افاقہ ہوتا ہے۔

بچاؤ کے لئے ہدایات

اس کے لئے سب سے اہم چیز صاف کھانا اورصاف پینا ہے۔اس کے علاوہ زیرنظر احتیاطیں اس میں معاون ہو سکتی ہیں

٭سفر کے دوران جگہ جگہ موجود مٹکوں اور پانی کے کولروں سے پانی نہ پئیں۔ بعض اوقات ان کا پانی کئی دنوں سے تبدیل نہیں کیا گیا ہوتا یا ان کی مکمل صفائی نہیں کی جاتی جس کے سبب ان میں جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں۔

٭گوشت پکانے سے پہلے فریزر سے نکال کر کچھ دیر گرم پانی میں پوری طرح کھلنے کے لئے رکھ دیں۔ پھر اسے اچھی طرح پکائیں تاکہ یہ کہیں سے بھی کچا نہ رہ جائے۔

٭فروٹ اور سبزیوں کو گھر پر لاکر اچھی طرح دھوئیں۔ اس کے علاوہ جہاں ممکن ہو چھلکا اتار کر کھائیں کیونکہ کیمیائی مادے اور بیکٹیریا عموماًچھلکوں پر ہی پائے جاتے ہیں۔

٭ کھانا صاف پانی میں پکائیں۔ جب یہ پک جائے تو اسے دیرتک گرم درجہ حرارت پر نہ رکھیں بلکہ فریج میں ٹھنڈا ہونے کے لئے رکھ دیں۔اس سے وہ خراب نہیں ہوگا۔ فریج میں ٹھنڈا کیے بغیر کھانا دوبارہ گرم ہرگز نہ کریں۔

٭اپنی ذاتی صفائی کا بھی خاص خیال رکھیں۔ واش روم سے فارغ ہونے کے بعد،کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ لازماًدھوئیں۔

acute gastroenteritis, food poisoning, causes, prevention, foods and drinks

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x