فوڈ پوائزننگ (Food poisoning) ایک ایسی بیماری ہے جو کھانے پینے کی آلودہ اشیاء کے استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خوراک میں موجود جراثیم، زہریلے مادے یا دیگر نقصان دہ چیزیں ہو سکتی ہیں۔
یہ بیماری عام طور پر معدے اور آنتوں کو متاثر کرتی ہے، اور اس کی علامات چند گھنٹوں سے چند دنوں کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔ زیادہ تر کیسز میں بیماری ہلکی ہوتی ہے اور خود بخود بہتر ہو جاتی ہے۔ تاہم بعض صورتوں میں یہ سنگین شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔
علامات
فوڈ پوائزننگ کی علامات اس کی وجہ اور نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ بعض افراد میں علامات جلد ظاہر ہوتی ہیں جبکہ کچھ میں تاخیر سے سامنے آتی ہیں۔ عام علامات میں شامل ہیں:
٭ معدے کی خرابی
٭ قے
٭ دست، بعض اوقات خون کے ساتھ
٭ پیٹ میں درد اور مروڑ
٭ بخار
کچھ کیسز میں بیماری اعصابی نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں
٭ چیزیں دھندلی دکھائی دینا
٭ سر درد
٭ ہاتھوں اور پیروں میں کمزوری یا فالج
٭ جلد میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ
٭ عمومی کمزوری
وجوہات
فوڈ پوائزننگ اس وقت ہوتی ہے جب خوراک یا مشروبات آلودہ ہو جائیں۔ آلودگی مختلف ذرائع سے ہو سکتی ہے جن میں بیکٹیریا، وائرس، پیراسائٹس اور زہریلے کیمیکلز شامل ہیں۔ خوراک کی آلودگی پیدا ہونے کے عام عوامل درج ذیل ہیں:
٭ ہاتھ صاف نہ ہونا
٭ کچن کے برتن اور سطحوں کی مناسب صفائی نہ کرنا
٭ خوراک کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ نہ کرنا
٭ کچی اور پکی خوراک کو الگ نہ رکھنا
٭ خوراک کو زیادہ دیر کمرے کے درجہ حرارت پر چھوڑ دینا
خوراک یا پانی میں آلودگی پیداوار سے لے کر تیاری، ذخیرہ کرنے اور ترسیل کے کسی بھی مرحلے میں ہو سکتی ہے۔
خطرے کے عوامل
ہر شخص فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو سکتا ہے، لیکن کچھ لوگوں میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے:
٭ شیر خوار اور کم عمر بچے
٭ حاملہ خواتین
٭ بزرگ افراد
٭ کمزور مدافعتی نظام والے افراد
پیچیدگیاں
صحت مند افراد میں پیچیدگیاں عموماً کم ہوتی ہیں، تاہم بعض صورتوں میں سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
سب سے عام پیچیدگی جسم میں پانی کی کمی ہے، جو قے اور دست کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ شدید حالت میں ہسپتال میں رگ کے ذریعے مائع دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
بعض کیسز میں انفیکشن جسم کے دیگر حصوں تک پھیل سکتا ہے، جس سے درج ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
٭ گردوں میں خون کے لوتھڑے بننا
٭ خون میں بیکٹیریا کا پھیلاؤ
٭ دماغ اور اعصاب کی جھلیوں کی سوزش
٭ سیپسس، جس میں جسم کا مدافعتی نظام خود جسم کو نقصان پہنچاتا ہے
حمل کے دوران بعض انفیکشن اسقاط حمل یا نومولود میں سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ نایاب پیچیدگیوں میں جوڑوں کا درد، آنتوں کی دائمی خرابی، اعصابی کمزوری اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
فوڈ پوائزننگ بچوں اور شیر خواروں کے جسم میں تیزی سے پانی کی کمی کا سبب بن سکتا ہے، جو خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
اگر بچے میں درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی مشورہ ضروری ہے:
٭ رویے یا ذہنی حالت میں تبدیلی
٭ شدید پیاس
٭ پیشاب میں واضح کمی
٭ کمزوری یا چکر آنا
٭ ایک دن سے زیادہ جاری رہنے والے دست
٭ بار بار قے
٭ پاخانے میں خون یا پیپ
٭ پیٹ یا مقعد میں شدید درد
٭ دو سال سے کم عمر میں بخار
٭ بڑے بچوں میں 102 فارن ہائیٹ یا اس سے زیادہ بخار
٭ دیگر موجودہ طبی مسائل
بالغ افراد کو بھی فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، اگر
٭ اعصابی علامات ظاہر ہوں جیسے نظر کی خرابی یا پٹھوں کی کمزوری
٭ ذہنی کیفیت میں تبدیلی آئے
٭ 103 فارن ہائیٹ یا اس سے زیادہ بخار ہو
٭ بار بار قے آئے
٭ تین دن سے زیادہ دست برقرار رہیں
٭ جسم میں پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہوں جیسے شدید پیاس، خشک منہ، کم پیشاب، چکر یا کمزوری
تشخیص
ڈاکٹر مریض کی علامات، حالیہ خوراک، ادویات اور ٹریول ہسٹری کا جائزہ لیتے ہیں۔ جسمانی معائنے کے ذریعے پانی کی کمی اور دیگر علامات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں درج ذیل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:
٭ پاخانے کا ٹیسٹ تاکہ جراثیم یا زہریلے مادے کی شناخت ہو سکے
٭ خون کے ٹیسٹ تاکہ انفیکشن اور پیچیدگیوں کا تعین ہو سکے
اکثر اوقات اصل آلودہ خوراک کی نشاندہی مشکل ہوتی ہے کیونکہ علامات ظاہر ہونے میں وقت لگتا ہے۔
علاج
علاج بیماری کی شدت اور وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر افراد کو کسی خاص دوا کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ چند دن میں بہتر ہو جاتے ہیں۔ علاج کی صورت میں درج ذیل آپشنز استعمال ہو سکتے ہیں:
٭ جسم میں مائع اور الیکٹرولائٹس کی کمی پوری کرنا
٭ بیکٹیریا کی صورت میں اینٹی بائیوٹکس کا استعمال
٭ پیراسائٹس کے لیے مخصوص ادویات
٭ بعض کیسز میں پروبائیوٹکس
احتیاطی تدابیر
فوڈ پوائزننگ سے بچاؤ کے لیے صفائی، کھانے کی درست تیاری اور محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنا بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
صفائی کے اصول
٭ ہاتھوں کو کم از کم 20 سیکنڈ تک صابن سے دھوئیں
٭ پھلوں اور سبزیوں کو استعمال سے پہلے اچھی طرح دھوئیں
٭ کچن میں استعمال کی اشیاء اور سطحوں کو صاف رکھیں
٭ فریج کی باقاعدہ صفائی کریں اور جراثیم یا پھپھوندی ختم کریں
خوراک سے متعلق احتیاطیں
٭ کچی اور پکی خوراک کو الگ رکھیں
٭ خوراک کو مناسب درجہ حرارت پر پکائیں
٭ بچا ہوا کھانا فوری فریج میں محفوظ کریں
٭ شک کی صورت میں خوراک کو ضائع کر دیں
٭ فریج میں رکھے گئے کھانے کو 3 سے 4 دن کے اندر استعمال کریں یا فریز کر دیں
حساس معدے کی صورت میں احتیاطیں
٭ کچا گوشت، انڈے اور سی فوڈ سے پرہیز کریں
٭ غیر پاسچرائزڈ دودھ اور جوس استعمال نہ کریں
٭ نرم پنیر اور ڈیلی گوشت (پہلے سے پکا اور سلائس کیا ہوا گوشت ہوتا ہے جو سینڈوچ یا فوری استعمال کے لیے فروخت کیا جاتا ہے) سے اجتناب کریں
٭ کچی یا کم پکی خوراک سے مکمل پرہیز کریں
گھر پر دیکھ بھال کے لیے پانی، سوپ اور مشروبات کا استعمال مفید ہے۔ علامات بہتر ہونے پر ہلکی غذائیں جیسے چاول، کیلا، بسکٹ اور سوپ استعمال کیے جا سکتی ہیں۔ ڈیری مصنوعات بعض افراد میں معدے کی خرابی بڑھا سکتی ہیں، اس لیے ان سے احتیاط ضروری ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔