Vinkmag ad

فلیٹ فیٹ

A boy with flat foot standing on the floor, with foot marks on the paper

فلیٹ فیٹ (Flat feet) ایسی حالت ہے، جس میں پاؤں کے اندرونی محراب دباؤ پڑنے پر چپٹے ہو جاتے ہیں۔ ایسے افراد کے کھڑے ہونے پر پاؤں باہر کی طرف مڑ جاتے ہیں اور پورا تلوا زمین کو چھو لیتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بچپن میں محراب مکمل طور پر نہ بنیں۔ تاہم کبھی یہ چوٹ یا عمر بڑھنے کے ساتھ بھی لاحق ہو جاتا ہے۔

علامات

زیادہ تر افراد میں اس کی کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں، تاہم بعض لوگوں کو ایڑی یا محراب میں درد محسوس ہوتا ہے۔ یہ درد جسمانی سرگرمی کے ساتھ بڑھ سکتا ہے اور کبھی ٹخنے کے اندرونی حصے میں سوجن بھی دیکھی جاتی ہے۔

وجوہات

نوزائیدہ اور کم عمر بچوں میں فلیٹ فیٹ عام ہوتا ہے کیونکہ محراب ابھی مکمل نہیں بنتے۔ زیادہ تر افراد میں یہ محراب بچپن کے دوران خود بخود بن جاتے ہیں، تاہم کچھ افراد میں یہ کبھی تشکیل نہیں پاتے۔ ایسے افراد کو مسائل ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔

کچھ بچوں میں لچکدار فلیٹ فیٹ پایا جاتا ہے، ان میں بیٹھنے یا انگلیوں پر کھڑے ہونے سے محراب نظر آتا ہے مگر سیدھا کھڑے ہونے پر یہ غائب ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر بچے وقت کے ساتھ اس مسئلے سے نکل آتے ہیں۔

بعض افراد میں چوٹ کے بعد پاؤں کا محراب کمزور یا چپٹا ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ طویل عرصے بعد آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ٹخنے کے اندرونی حصے کا ٹینڈن کمزور یا متاثر ہو سکتا ہے۔ شدت بڑھنے پر جوڑوں کے درد کی شکایت بھی سامنے آ سکتی ہے۔

خطرے کے عوامل

فلیٹ فیٹ کا خطرہ بڑھانے والے عوامل یہ ہیں:

٭ موٹاپا

٭ پاؤں یا ٹخنے کی چوٹ

٭ روماٹایئڈ آرتھرائٹس

٭ بڑھتی عمر

٭ ذیابیطس

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

اگر پاؤں میں درد ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں، خاص طور پر جب یہ درد روزمرہ سرگرمیوں کو متاثر کرے۔

تشخیص

پاؤں کی ساخت اور حرکت جانچنے کے لیے ڈاکٹر سامنے اور پیچھے سے معائنہ کرتا ہے اور مریض کو انگلیوں پر کھڑے ہونے کو بھی کہا جاتا ہے۔ ٹخنے کی طاقت اور درد کے اصل مقام کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے، جبکہ جوتوں کے گھسنے کا انداز بھی اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔

ٹیسٹ

پاؤں کے درد کی وجہ جاننے کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:

ایکس رے: یہ ہڈیوں اور جوڑوں کی تصویر بناتا ہے اور ترتیب و آرتھرائٹس کی تشخیص میں مفید ہوتا ہے

سی ٹی سکین: یہ مختلف زاویوں سے تصاویر لے کر زیادہ تفصیل فراہم کرتا ہے

الٹراساؤنڈ: ٹینڈن کی چوٹ کے شبہ میں استعمال ہوتا ہے، اور نرم ٹشوز کی تصویر بناتا ہے

ایم آر آئی: یہ ہڈیوں اور ٹشوز کی زیادہ واضح تصویر دیتا ہے

علاج

اگر فلیٹ فیٹ درد کا باعث نہ ہو تو علاج ضروری نہیں ہوتا۔

تھیراپیز

درد کی صورت میں درج ذیل طریقے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:

محراب سپورٹ (آرتھوٹک ڈیوائس): بغیر نسخے کے دستیاب سپورٹ درد کم کر سکتی ہیں۔ بعض اوقات پاؤں کے مطابق خصوصی سپورٹ بھی تجویز کی جاتی ہیں۔ یہ فلیٹ فیٹ ختم نہیں کرتیں مگر علامات میں کمی لاتی ہیں

کھچاؤ کی ورزشیں: بعض افراد میں ایڑی کے پیچھے والا ٹینڈن چھوٹا ہوتا ہے۔ سٹریچنگ ورزشیں اس میں فائدہ دے سکتی ہیں

فزیوتھیراپی: یہ پٹھوں اور ٹینڈن کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے اور چلنے کے انداز کو بہتر بنانے کی رہنمائی فراہم کرتی ہے

سرجری

صرف فلیٹ فیٹ کو درست کرنے کے لیے سرجری نہیں کی جاتی، تاہم اگر دیگر علاج ناکام رہیں اور درد برقرار رہے تو سرجری پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں ہڈی اور ٹینڈن کے مسائل کو درست کیا جاتا ہے۔

طرزِ زندگی اور گھریلو علاج

ہلکے درد کی صورت میں درج ذیل تدابیر مفید ہو سکتی ہیں:

٭ ایسی سرگرمیوں سے پرہیز کریں جو درد بڑھائیں۔ واک، سائیکلنگ اور تیراکی بہتر متبادل ہیں

٭ محراب سپورٹ استعمال کریں

٭ بغیر نسخے کے پین کلرز معتدل انداز میں استعمال کیے جا سکتے ہیں

٭ وزن کم کریں، وزن میں کمی سے پاؤں پر دباؤ کم ہوتا ہے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Hirsutism in Women

Read Next

Flat Feet

Leave a Reply

Most Popular