Vinkmag ad

بخار

A smiling female pediatrician in blue scrubs using a digital oral thermometer to check the temperature of a young girl in a clinic

بخار (Fever) جسم کے درجہ حرارت میں عارضی اضافہ ہے جو مدافعتی نظام کا انفیکشن کے خلاف ایک ردعمل ہے۔ زیادہ تر بچوں اور بڑوں میں یہ تکلیف دہ ضرور ہوتا ہے، مگر بالعموم خطرناک نہیں ہوتا۔ تاہم نوزائیدہ بچوں میں ہلکا بخار بھی سنگین انفیکشن کی علامت ہو سکتا ہے۔

ٹمپریچر کی پیمائش

درجہ حرارت ماپنے کے لیے مختلف تھرمامیٹر استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں منہ، مقعد، کان اور پیشانی والے آلات شامل ہیں۔ منہ اور مقعد کے ذریعے پیمائش زیادہ درست سمجھی جاتی ہے۔ کان اور پیشانی والے تھرمامیٹر استعمال میں آسان مگر نسبتاً کم قابلِ اعتماد ہیں۔ نوزائیدہ بچوں میں مقعد کے ذریعے درجہ حرارت زیادہ قابلِ اعتبار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کو رپورٹ کرتے وقت تھرمامیٹر کی قسم بتانا بھی ضروری ہے۔

علامات

ہر فرد میں اور دن کے مختلف اوقات میں جسمانی درجہ حرارت معمولی حد تک بدلتا رہتا ہے۔ اوسط درجہ حرارت 98.6 فارن ہائیٹ (37 سینٹی گریڈ) سمجھا جاتا ہے۔ منہ کے ذریعے ماپا گیا 100 فارن ہائیٹ (37.8 سینٹی گریڈ) یا زیادہ درجہ حرارت بخار کہلاتا ہے۔

بخار کی دیگر علامات میں شامل ہیں:

٭ پسینہ آنا

٭ سردی لگنا اور کپکپی

٭ سر درد

٭ پٹھوں میں درد

٭ بھوک میں کمی

٭ چڑچڑاپن

٭ پانی کی کمی

٭ عمومی کمزوری

وجوہات

جسمانی ٹمپریچر کو دماغ کا ایک حصہ ہائپوتھیلمس کنٹرول کرتا ہے۔ بیماری کے دوران یہ حصہ جسم کا درجہ حرارت بڑھا دیتا ہے تاکہ مدافعتی نظام مؤثر انداز میں کام کر سکے۔ کپکپی جسم میں حرارت پیدا کرنے کا قدرتی عمل ہے۔ 104 فارن ہائیٹ (40 سینٹی گریڈ) سے کم بخار عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتا۔

بخار کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:

٭ وائرل انفیکشن

٭ بیکٹیریل انفیکشن

٭ شدید گرمی یا جسمانی تھکن

٭ سوزش سے متعلق بیماریاں

٭ کینسر

٭ بعض ادویات

٭ کچھ ویکسینز

پیچیدگیاں

6 ماہ سے 5 سال کے بچوں میں بخار کے دوران دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تقریباً ایک تہائی بچوں میں دوبارہ دورہ ہو سکتا ہے۔ بخار کے دورے میں بے ہوشی، جسم کو جھٹکے لگنے یا اس کا اکڑ جانے کیصورت حال پیش آ سکتی ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ مستقل نقصان کا سبب نہیں بنتے۔

اگر دورہ پڑے تو:

٭ بچے کو پہلو یا پیٹ کے بل لٹائیں

٭ آس پاس سے خطرناک اشیاء ہٹا دیں

٭ تنگ کپڑے ڈھیلے کریں

٭ بچے کو چوٹ سے بچائیں

٭ منہ میں کچھ نہ ڈالیں اور دورہ روکنے کی کوشش نہ کریں

٭ دورہ 5 منٹ سے زیادہ جاری ہو تو فوری ایمرجنسی کال کریں

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

بخار ہمیشہ خطرے کی علامت نہیں ہوتا، لیکن کچھ مخصوص حالات میں فوری طبی مشورہ لینا ضروری ہوتا ہے۔

نوزائیدہ اور کم عمر بچے

نوزائیدہ بچوں میں بخار سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ڈاکٹر سے فوری رابطہ کریں اگر:

٭ 3 ماہ سے کم عمر ہو اور درجہ حرارت 100.4 فارن ہائیٹ (38 سینٹی گریڈ) یا زیادہ ہو

٭ 3 سے 6 ماہ کے درمیان ہو اور درجہ حرارت 102 فارن ہائیٹ (38.9 سینٹی گریڈ) سے زیادہ ہو یا بچہ غیر معمولی چڑچڑا، سست یا بے چین ہو

٭ 7 سے 24 ماہ کا ہو، درجہ حرارت 102 فارن ہائیٹ (38.9 سینٹی گریڈ) سے زیادہ ہو اور بخار ایک دن سے زیادہ رہے

بچے

اگر بچہ بخار کے باوجود ہوش میں ہو، آنکھوں سے رابطہ کرے، آواز پر ردعمل دے، پانی پی رہا ہو اور کھیل رہا ہو تو تشویش کی ضرورت کم ہے

ڈاکٹر سے رابطہ کریں اگر:

٭ غیر معمولی سستی، الجھن یا آنکھوں سے رابطے میں کمی ہو

٭ بار بار قے، شدید سر درد یا جسمانی درد ہو

٭ گرم گاڑی میں رہنے کے بعد بخار ہو، فوری طبی امداد ضروری ہے

٭ تین دن سے زیادہ بخار برقرار رہے

٭ بخار کے ساتھ دورہ پڑے

بالغ افراد

اگر جسم کا درجہ حرارت 103 فارن ہائیٹ (39.4 سینٹی گریڈ) یا زیادہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ درج ذیل علامات کے ساتھ بخار ہو تو فوری طبی امداد حاصل کریں:

٭ شدید سر درد

٭ جلد پر خارش یا دانے

٭ روشنی سے حساسیت

٭ گردن میں اکڑاؤ اور درد

٭ ذہنی الجھن، غیر معمولی رویہ یا بولنے میں تبدیلی

٭ مسلسل قے

٭ سانس لینے میں دشواری یا سینے میں درد

٭ پیٹ میں شدید درد

٭ پیشاب کے دوران درد

٭ دورے

 تشخیص

ڈاکٹر بخار کی تشخیص کے لیے علامات اور میڈیکل ہسٹری معلوم کرتا ہے، جسمانی معائنہ کرتا ہے اور ضرورت کے مطابق ٹیسٹ تجویز کرتا ہے۔ کم عمر نوزائیدہ بچوں کو بعض اوقات ہسپتال میں داخل کرنا پڑ سکتا ہے۔

نامعلوم وجہ کا بخار

اگر بخار تین ہفتے سے زیادہ برقرار رہے اور واضح وجہ نہ ملے تو اسے نامعلوم وجہ کا بخار کہا جاتا ہے۔ اس میں تفصیلی ٹیسٹ اور ماہرین کی مشاورت ضروری ہو سکتی ہے۔

علاج

ہلکے بخار میں عام طور پر دوا کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ جسم کو جراثیم سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ زیادہ بخار یا تکلیف کی صورت میں علاج ضروری ہو سکتا ہے۔

بغیر نسخے کی ادویات

زیادہ بخار یا تکلیف کی صورت میں پیراسیٹامول یا آئبوپروفین استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ہدایات کے مطابق استعمال ضروری ہے، اسلئے کہ ان کی زیادہ مقدار جگر یا گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بچوں کو اسپرین نہ دیں کیونکہ یہ خطرناک بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔

نسخے والی ادویات

ڈاکٹر بخار کی اصل وجہ کے مطابق مخصوص دوا تجویز کرتا ہے، اور بنیادی بیماری کا علاج بخار کو بھی کم کرتا ہے۔

نوزائیدہ بچوں کا علاج

دو ماہ سے کم عمر بچوں میں بخار کی صورت میں فوری طبی نگرانی ضروری ہوتی ہے، اور اکثر انہیں ہسپتال میں داخل کر کے علاج کیا جاتا ہے۔

سیلف کیئر

بخار کے دوران آرام اور مناسب دیکھ بھال اہم ہے:

٭ زیادہ پانی یا سیال اشیاء استعمال کریں

٭ جسم کو صحت یابی کے لیے مناسب آرام دیں

٭ ہلکے اور آرام دہ کپڑے پہنیں

٭ کمرے کا درجہ حرارت معتدل اور ٹھنڈا رکھیں

بچاؤ کی تدابیر

متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے ذریعے بخار کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں:

٭ تجویز کردہ ویکسینز لگوائیں

٭ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ رکھیں

٭ ہاتھ بار بار دھوئیں اور بچوں کو بھی سکھائیں

٭ صابن اور پانی نہ ہونے پر سینی ٹائزر استعمال کریں

٭ ناک، منہ اور آنکھوں کو بلا ضرورت نہ چھوئیں

٭ کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک ڈھانپیں

٭ برتن اور پانی کی بوتلیں شیئر نہ کریں

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Febrile Seizure

Read Next

Fever

Leave a Reply

Most Popular