پاکستان کی پہلی قومی ویکسین پالیسی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اسے اب منظوری کے لیے وزیراعظم کو بھیج دیا گیا ہے۔ پالیسی کی اہم بات ویکسین کی مقامی پیداوار بڑھانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔
پالیسی میں نیشنل ویکسین الائنس قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کا مقصد سرمایہ کاری کے فیصلوں کو منظم کرنا ہے۔ اس میں مکمل پیداوار تک مرحلہ وار منصوبہ شامل ہے۔ طویل مدتی معاہدے اور ٹیکنالوجی منتقلی کے مراحل بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ حکومت اگلے سال کیلئے 49 فیصد لاگت برداشت کرے گی، جبکہ باقی 51 فیصد گیوی فراہم کرے گا۔ توقع ہے کہ قومی ویکسین پالیسی سے ویکسین کی درآمد پر انحصار کم ہو گا۔
ملک میں تین ویکسین ساز ادارے این آئی ایچ اسلام آباد، ایمسن ویکسینز اسلام آباد، اور ڈاؤ یونیورسٹی کراچی ہیں۔ ایک نجی ادارہ بھی محدود پیمانے پر ویکسینز تیار کرتا ہے۔ یہ ڈبلیو ایچ او سے منظور شدہ نہیں جس سے عالمی منڈی تک اس کی رسائی محدود ہے۔