ہرسوٹزم (Hirsutism) ایسی حالت ہے جس میں خواتین کے جسم پر غیر معمولی اور موٹے بال اگنے لگتے ہیں۔ یہ بال مردانہ انداز میں نمو کرتے ہیں اور عموماً چہرے، سینے، کمر اور دیگر ایسے حصوں پر ظاہر ہوتے ہیں جہاں خواتین میں عام طور پر بال نہیں اگتے۔ اس کی بنیادی وجہ مردانہ ہارمونز (اینڈروجنز) کی زیادتی ہے، جس میں سب سے اہم ہارمون ٹیسٹوسٹیرون ہے۔
علامات
ہرسوٹزم کی بنیادی علامت وہ سخت یا گہرے بال ہیں جو خواتین کے جسم پر غیر معمولی جگہوں پر نمودار ہوتے ہیں، جیسے:
* چہرہ
* سینہ
* پیٹ
* رانیں
* کمر
اگر ہارمونز کی زیادتی شدید ہو تو وقت کے ساتھ دیگر علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، جسے وائرلائزیشن کہتے ہیں۔ اس کے اثرات میں شامل ہیں:
* آواز کا گہرا ہونا
* سر کے بالوں کا جھڑنا
* ایکنی نکلنا
* چھاتی کا سائز کم ہونا
* پٹھوں کا حجم بڑھنا
* کلیٹورس کا بڑا ہونا
وجوہات
ہرسوٹزم کی عام وجوہات میں شامل ہیں:
پولی سِسٹِک اووری سنڈروم ( پی سی او ایس): یہ مرض جنسی ہارمونز کے توازن میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ بلوغت میں شروع ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ اضافی بال، بے قاعدہ حیض، موٹاپا، بانجھ پن اور اووریز پر چھوٹے سسٹ پیدا کر سکتا ہے۔
کوشنگ سنڈروم: جسم میں کورٹیسول ہارمون کی زیادتی، ایڈرینل غدود کی وجہ سے یا طویل مدتی دواؤں کے استعمال سے پیدا ہو سکتی ہے۔
پیدائشی ایڈرینل ہائپرپلیسیا: پیدائش سے موجود جینیاتی حالت جس میں ایڈرینل غدود غیر معمولی مقدار میں ہارمونز پیدا کرتے ہیں۔
ٹیومرز: نایاب طور پر اووریز یا ایڈرینل غدود کے ٹیومرز اینڈروجن خارج کر کے ہرسوٹزم پیدا کر سکتے ہیں۔
دوائیں: بعض دوائیاں جیسے میناکسیڈل اور ڈینازول ہرسوٹزم پیدا کر سکتی ہیں۔ جلدی رابطے سے بھی اثر ہو سکتا ہے۔
٭ کبھی کبھی ہرسوٹزم کا واضح سبب معلوم نہیں ہوتا۔
خطرے کے عوامل
فیملی ہسٹری: بعض حالات جیسے پی سی او ایس اور پیدائشی ایڈرینل ہائپرپلیسیا فیملیز میں پائےجاتے ہیں
نسل: میڈیٹرینین، مشرق وسطی اور جنوبی ایشیائ کی خواتین میں بغیر واضح سبب کے بھی یہ بال زیادہ ہو سکتے ہیں۔
موٹاپا: زیادہ وزن جسم میں اینڈروجنز کی زیادتی کا سبب بنتا ہے، جو ہرسوٹزم کو بڑھا سکتا ہے۔
پیچیدگیاں
٭ ہرسوٹزم خود اعتمادی کو متاثر کر سکتا ہے اور بعض افراد ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں
٭ یہ بذات خود خطرناک نہیں، مگر کسی بیماری کی وجہ سے ہارمونز کا توازن خراب ہو تو دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں
اگر ہرسوٹزم کے ساتھ بے قاعدہ حیض بھی ہوں، تو پی سی او ایس کا امکان زیادہ ہوتا ہے جو بانجھ پن کا سبب بن سکتا ہے
ڈاکٹر سے رجوع کب کریں
اگر چہرے یا جسم پر زائد اور موٹے بال ہیں تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور علاج کے آپشنز دریافت کریں۔
چہرے یا جسم پر بالوں کا غیر معمولی بڑھنا کسی اور بیماری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ چند ماہ میں تیزی سے بال بڑھنے یا وائرلائزیشن کی علامات کے ظاہر ہونے پر ڈاکٹر سے جانچ کرائیں۔
آپ کو ہارمون سے متعلق مسائل کے لیے اینڈوکرائنولوجسٹ یا جلد کے مسائل کے لیے ڈرماٹولوجسٹ کے پاس بھیجا جا سکتا ہے۔
تشخیص
٭ ڈاکٹر معائنہ کرتے ہیں اور میڈیکل ہسٹری اور دوائیوں کے بارے میں سوالات کرتے ہیں
٭ بعض اوقات خون میں ہارمونز، خاص طور پر ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار کا جازئہ لیا جاتا ہے تاکہ اینڈروجن کی زیادتی کا سبب معلوم کیا جا سکے
٭ پیٹ اور پِیلِوِس کا معائنہ کیا جاتا ہے
٭ بعض اوقات ایم آر آئی یا سی ٹی سکین بھی تجویز کیے جا سکتے ہیں
علاج
اگر ہرسوٹزم کا کوئی ہارمونل سبب نہیں تو علاج ضروری نہیں۔
علاج میں شامل ہو سکتا ہے:
* صحت کے مسائل کا علاج
* زائد بالوں سے نجات کے لیے سیلف کیئر
* مختلف تھراپیز اور دوائوں کا استعمال
ادویات
سیلف کیئر ہر کسی پر مؤثر نہیں ہوتی، اس لیے ڈاکٹر سے دواؤں کے بارے میں بات کریں۔ ان کے اثرات ظاہر ہونے میں چھ ماہ یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
مانع حمل گولیاں: ایسٹروجن اور پروجیسٹن پر مشتمل گولیاں، اینڈروجن کی وجہ سے ہونے والے ہرسوٹزم کو کم کرتی ہیں۔ ضمنی اثرات میں متلی اور سر درد شامل ہیں
اینٹی اینڈروجنز: یہ دوائیں اینڈروجنز کو جسم میں خلیوں سے جڑنے سے روکتی ہیں۔ ان کا اثر ظاہر ہونے میں چھ ماہ یا زیادہ لگتے ہیں۔ اس کے ضمنی اثرات میں بے قاعدہ حیض اور پیدائشی نقائص شامل ہو سکتے ہیں
جلد کی کریم: جلد پر لگانےوالی کچھ کرمیں چہرے کے بالوں کی نشوونما سست کرتی ہیں۔ یہ موجودہ بال تو نہیں ہٹاتی، مگر نئے بالوں کی نمو کم کرتی ہے
پروسیجرز
ناپسندیدہ بال ہٹانے کے پروسیجرزسیلف کیئر سے زیادہ دیرپا نتائج دیتے ہیں، اور دواؤں کے ساتھ بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
لیزر تھیراپی: بالوں کی جڑوں کو نقصان پہنچا کر نشونما روکتی ہے۔ اس کے کئی سیشن درکار ہو سکتے ہیں۔ سیاہ یا بھورے بالوں کے لیے یہ بہتر ہے
الیکٹرولائسز: ہر بال کے فولی کل میں سوئی ڈال کر برقی کرنٹ سے جڑ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ یہ مؤثر مگر تکلیف دہ ہو سکتا ہے
سیلف کیئر
یہ طریقے عارضی طور پر بالوں کو ختم یا کم کرتے ہیں:
بال نکلوانا (Plucking): چند بالوں کے لیے مؤثر، زیادہ ایریا کیلئے نہیں
شیو کرنا: سستا اور فوری، مگر بار بار کرنا پڑتا ہے
ویکسنگ: اس میں گرم موم لگا کر بال نکالیں جاتے ہیں۔ اس سے جلد میں جلن یا خارش ہو سکتی ہے
ڈیپلیٹری مصنوعات: وہ کیمیائی مصنوعات جو بالوں کو تحلیل کر دیتی ہیں۔ یہ جلد میں جلن پیدا کر سکتی ہیں
بلیچنگ: بالوں کو ہلکا کر کے کم دکھائی دیتی ہیں، ہائیڈروجن پر آکسائیڈ پر مشتمل۔ پہلے تھوڑی جگہ پر ٹیسٹ کریں
بچاؤ کی تدابیر
ہرسوٹزم کے امکانات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم وزن کم کرنے سے خاص طور پر پی سی او ایس میں ہرسوٹزم کی شدت کم ہو سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔