Vinkmag ad

آئی فلوٹرز: آنکھوں کے سامنے تیرتے دھبے

Woman undergoing an eye examination by an ophthalmologist for eye floaters

آنکھوں کے سامنے تیرتے دھبے (Eye floaters) دکھائی دینے والے چھوٹے سیاہ یا سرمئی دھبے ہوتے ہیں۔ یہ باریک دھاگوں، ریشوں یا مکڑی کے جالے جیسے بھی نظر آ سکتے ہیں۔ آنکھ کو حرکت دینے پر یہ بھی حرکت کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ جب آپ انہیں براہِ راست دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ نظر سے غائب ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔

علامات

تیرتے دھبوں کی کچھ اور علامات، اور ان کی تفصیل یہ ہے:

٭ آنکھ کو حرکت دینے پر دھبوں کا بھی حرکت کرنا اور انہیں دیکھنے کی کوشش پر ان کا فوراً نظر سے اوجھل ہو جانا

٭ نیلے آسمان یا سفید دیوار جیسے روشن اور یکساں پس منظر پر دھبے زیادہ نمایاں دکھائی دینا

٭ وقت گزرنے کے ساتھ دھبوں یا باریک دھاگوں کا نیچے بیٹھ جانا اور نظر سے ہٹ جانا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر ان میں سے کوئی علامت ظاہر ہو تو فوراً ماہرِ چشم سے رجوع کریں:

٭ معمول کے مقابلے میں اچانک بہت زیادہ نئے دھبے نظر آنے لگیں

٭ اچانک نئے تیرتے دھبے ظاہر ہوں

٭ اسی آنکھ میں دھبوں کے ساتھ روشنی کی چمک بھی دکھائی دے

٭ نظر کے کسی حصے پر سرمئی پردہ یا دھندلا پن چھا جائے

٭ نظر کے ایک یا دونوں کناروں سے دیکھنے کی صلاحیت کم ہونے لگے

یہ علامات عموماً درد کے بغیر ظاہر ہوتی ہیں، لیکن ان کی وجہ ریٹینا میں شگاف یا ریٹینا کا اپنی جگہ سے الگ ہونا ہو سکتا ہے۔ یہ بینائی کے لیے خطرناک کیفیت ہے۔ اس لیے فوری طبی توجہ ضروری ہے۔

وجوہات

٭ عمر سے متعلق آنکھوں میں تبدیلیاں

٭ آنکھ کے پچھلے حصے میں سوزش

٭ آنکھ کے اندر خون بہنا

٭ ریٹینا میں شگاف پڑنا

٭ آنکھ کی سرجری اور بعض ادویات کا استعمال

خطرے کے عوامل

یہ عوامل آنکھ میں تیرتے دھبوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:

٭ 50 سال سے زیادہ عمر

٭ نزدیک کی کمزور نظر

٭ آنکھ پر چوٹ لگنا

٭ موتیے کی سرجری کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیاں

٭ ذیابیطس کی پیچیدگی جو ریٹینا کی خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہے

٭ آنکھ کی سوزش

تشخیص

ماہرِ چشم آنکھوں کا مکمل معائنہ کرکے تیرتے دھبوں کی وجہ معلوم کرتا ہے۔ اس معائنے میں عموماً آنکھ کی پتلی کو پھیلانے والے قطرے ڈالے جاتے ہیں۔ اس سے آنکھ کے پچھلے حصے کا بہتر معائنہ کیا جا سکتا ہے۔

علاج

زیادہ تر صورتوں میں اس کے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم اگر ان کی وجہ کوئی بیماری ہو تو پہلے اس بیماری کا علاج کیا جاتا ہے۔ اگر تیرتے دھبے بینائی میں نمایاں رکاوٹ بنیں تو ماہرِ چشم علاج تجویز کر سکتا ہے۔ علاج کے ممکنہ طریقوں میں شامل ہیں:

٭ جیلی نما مادے (وٹریئس ہیومر) کو نکالنے کی سرجری

٭ لیزر کے ذریعے تیرتے دھبوں کو توڑنا

Frequently Asked Questions (FAQs)

آنکھوں کے سامنے تیرتے دھبے کیا ہمیشہ خطرناک ہوتے ہیں؟

زیادہ تر فلوٹرز بے ضرر ہوتے ہیں، لیکن اگر یہ اچانک بڑھ جائیں یا روشنی کی چمک کے ساتھ ظاہر ہوں تو فوری معائنہ ضروری ہے۔

کیا عمر بڑھنے سے تیرتے دھبے بن سکتے ہیں؟

جی ہاں، عمر بڑھنے کے ساتھ وٹریئس ہیومر میں ہونے والی قدرتی تبدیلیاں فلوٹرز کی سب سے عام وجہ ہیں۔

کیا ذیابیطس بھی تیرتے دھبوں کا سبب بن سکتی ہے؟

جی ہاں، ذیابیطس سے ریٹینا کی خون کی نالیاں متاثر ہوں تو فلوٹرز نظر آ سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=ophthalmologist

Vinkmag ad

Read Previous

شارٹ باؤل سنڈروم: چھوٹی آنت کے چھوٹا ہونے کی کیفیت

Read Next

فیصلہ سازی میں دماغ کے ابتدائی حسی حصوں کا بھی کردار، تحقیق

Leave a Reply

Most Popular