گلہڑ (Goiter) تھائی رائیڈ غدود کا غیر معمولی طور پر بڑھ جانا ہے۔ تھائی رائیڈ تتلی کی شکل کا ایک غدود ہے، جو گلے میں اس جگہ ہوتا ہے جہاں مرد حضرات ٹائی باندھتے ہیں۔ گلہڑ پورے تھائی رائیڈ غدود کے بڑھنے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے، جبکہ بعض اوقات یہ تھائی رائیڈ کے خلیوں کی غیر معمولی بڑھوتری سے بننے والی ایک یا ایک سے زیادہ گلٹیوں (نوڈیولز) کی وجہ سے ہوتا ہے۔
علامات
زیادہ تر افراد میں گلہڑ کی واحد علامت گردن کے نچلے حصے میں سوجن ہوتی ہے۔ بعض اوقات اس کا سائز اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ معمول کے طبی معائنے یا کسی دوسری بیماری کی جانچ کے دوران ہی سامنے آتا ہے۔
دیگر علامات اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ تھائی رائیڈ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے یا نہیں، کتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور کیا وہ سانس کی نالی پر دباؤ تو نہیں ڈال رہا۔
دباؤ پیدا کرنے والا گلہڑ
اگر گلہڑ کا سائز بڑا ہو یا اس کی جگہ غیر معمولی ہو تو یہ سانس کی نالی یا ساؤنڈ باکس پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:
٭ نگلنے میں دشواری
٭ جسمانی مشقت کے دوران سانس لینے میں مشکل
٭ کھانسی
٭ آواز بیٹھ جانا
٭ خراٹے آنا
وجوہات
تھائرائیڈ کے افعال یا اس کی بڑھوتری کو متاثر کرنے والے کئی عوامل گلہڑ کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ آئیوڈین کی کمی
٭ ہاشیموٹو بیماری، جس میں جسم کا مدافعتی نظام تھائی رائیڈ پر حملہ آور ہو جاتا ہے
٭ گریوز بیماری، جس میں جسم ایسا پروٹین بناتا ہے جو تھائی رائیڈ کو مسلسل متحرک رکھتا ہے
٭ تھائی رائیڈ کی گلٹیاں، جو زیادہ تر غیر سرطانی ہوتی ہیں
٭ تھائی رائیڈ کینسر
٭ دوران حمل بننے والا ایچ سی جی ہارمون
٭ تھائی رائیڈ کی سوزش
خطرے کے عوامل
گلہڑ کسی بھی عمر میں اور کسی بھی شخص کو ہو سکتا ہے۔ بعض افراد میں یہ پیدائش کے وقت موجود ہوتا ہے، جبکہ بعض میں بعد کی زندگی میں پیدا ہوتا ہے۔ گلہڑ کے خطرے کو بڑھانے والے عوامل میں شامل ہیں:
٭ غذا میں آئیوڈین کی کمی
٭ خواتین میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ خطرہ ہونا
٭ حمل اور مینو پاز کے دوران ہارمونل تبدیلیاں
٭ 40 سال سے زیادہ عمر ہونا
٭ خاندان میں گلہڑ یا دیگرتھائی رائیڈبیماریوں کی موجودگی
٭ بعض ادویات، جیسے امیوڈیرون اور لیتھیم کا استعمال
٭ گردن یا سینے پر شعاعی علاج کروانا
پیچیدگیاں
٭ گلہڑ خود ہمیشہ پیچیدگیاں پیدا نہیں کرتا، لیکن بعض افراد اس کی وجہ سے ظاہری طور پر پریشانی یا جھجھک محسوس کر سکتے ہیں
٭ اگر گلہڑ کا سائز بہت بڑا ہو جائے تو یہ سانس کی نالی یا ساؤنڈ باکس پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس سے سانس لینے، نگلنے یا بولنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے
٭ اگر گلہڑ کے ساتھ تھائی رائیڈہارمون کی مقدار کم یا زیادہ ہو جائے تو اس کے اثرات جسم کے مختلف اعضا اور نظاموں پر پڑ سکتے ہیں
تشخیص
گلہڑ کی تشخیص اکثر معمول کے جسمانی معائنے کے دوران ہوتی ہے۔ ڈاکٹر گردن کو چھو کر تھائی رائیڈ کے بڑھنے یا اس میں موجود ایک یا زیادہ گلٹیوں کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ بعض اوقات گلہڑ کسی دوسری بیماری کی جانچ کے لیے کیے گئے امیجنگ ٹیسٹ کے دوران اتفاقاً سامنے آتا ہے۔
تشخیص کی تصدیق اور اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے ڈاکٹر مزید ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے، جن کے ذریعے درج ذیل باتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے:
٭ تھائی رائیڈ غدود کے سائز کا تعین
٭ گلٹیوں کی موجودگی کی جانچ
٭ تھائی رائیڈ کے معمول سے زیادہ یا کم فعال ہونے کا اندازہ
٭ گلہڑ کی بنیادی وجہ کی تشخیص
تشخیصی ٹیسٹ
٭ تھائی رائیڈ فنکشن ٹیسٹ
٭ اینٹی باڈی ٹیسٹ
٭ الٹراساؤنڈ
٭ ریڈیو ایکٹو آئیوڈین اپ ٹیک ٹیسٹ
٭ بائیوپسی
علاج
گلہڑ کا علاج اس کے سائز، علامات، ممکنہ پیچیدگیوں اور بنیادی وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر گلہڑ چھوٹا ہو، کوئی علامت پیدا نہ کر رہا ہو اور تھائی رائیڈ معمول کے مطابق کام کر رہا ہو تو ڈاکٹر باقاعدہ معائنے کے ساتھ صرف نگرانی کی تجویز دے سکتا ہے۔
ادویات
گلہڑ کی وجہ کے مطابق مختلف ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں:
٭ تھائی رائیڈ ہارمون کی کمی کے لیے ادویات
٭ تھائی رائیڈ ہارمون کی زیادتی کے لیے دوائیں
٭ ہائپر تھائرائیڈزم کی علامات کے لیے بیٹا بلاکر ادویات
٭ درد اور سوزش کے لیے دوائیں
سرجری
سرجری درج ذیل صورتوں میں تجویز کی جا سکتی ہے:
٭ سانس لینے یا نگلنے میں دشواری ہونا
٭تھائی رائیڈ کی ایسی گلٹیاں، جو ہائپر تھائرائیڈزم کا باعث بن رہی ہوں
٭تھائی رائیڈ کینسر کی تشخیص ہونا
سرجری کے بعد نکالے گئے تھائی رائی ڈکی مقدار کے مطابق بعض مریضوں کو زندگی بھر تھائی رائیڈ ہارمون کی متبادل دوا استعمال کرنا پڑ سکتی ہے۔
ریڈیو ایکٹو آئیوڈین سے علاج
یہ علاج زیادہ فعال تھائی رائیڈ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں ریڈیو ایکٹو آئیوڈین منہ کے ذریعے دی جاتی ہے، جسے تھائی رائیڈ جذب کر لیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تھائی رائیڈ کے کچھ خلیے ختم ہو جاتے ہیں، ہارمون کی پیداوار کم ہو جاتی ہے اور گلہڑ کا سائز بھی گھٹ سکتا ہے۔ اس علاج کے بعد بھی بعض مریضوں کو تھائی رائیڈ ہارمون کی متبادل دوا کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
گھریلو احتیاطیں
جسم کو آئیوڈین خوراک سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک بالغ فرد کے لیے روزانہ تقریباً 150 مائیکروگرام آئیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے۔ آئیوڈین ملے نمک کا ایک چائے کا چمچ تقریباً 250 مائیکروگرام آئیوڈین فراہم کرتا ہے۔ آئیوڈین سے بھرپور غذاؤں میں شامل ہیں:
٭ سمندری مچھلی اور دیگر سمندری غذائیں
٭ دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء
٭ سویا سے تیار کردہ غذائیں
زیادہ تر افراد متوازن غذا سے مطلوبہ مقدار میں آئیوڈین حاصل کر لیتے ہیں۔ غذا میں ضرورت سے زیادہ آئیوڈین بھی تھائی رائیڈکے افعال کو متاثر کر سکتی ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ہر گلہڑ خطرناک ہوتا ہے؟
نہیں۔ زیادہ تر گلہڑ غیر سرطانی ہوتے ہیں اور اگر علامات پیدا نہ کریں تو صرف باقاعدہ نگرانی کافی ہوتی ہے۔
کیا گلہڑ ہمیشہ سرجری سے ہی ٹھیک ہوتا ہے؟
نہیں۔ سرجری صرف ان مریضوں کے لیے کی جاتی ہے، جنہیں سانس لینے یا نگلنے میں دشواری ہو، تھائی رائیڈ کینسر ہو یا دیگر سنگین پیچیدگیاں موجود ہوں۔
کیا صرف آئیوڈین کھانے سے گلہڑ ختم ہو سکتا ہے؟
اگر گلہڑ کی وجہ آئیوڈین کی کمی ہو تو مناسب مقدار میں آئیوڈین فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ تاہم، ہر قسم کے گلہڑ میں آئیوڈین مؤثر نہیں ہوتی اور ضرورت سے زیادہ آئیوڈین نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔
گلہڑ کی صورت میں ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟
اگر گردن کی سوجن تیزی سے بڑھے، سانس لینے یا نگلنے میں دشواری ہو، آواز بیٹھ جائے یا تھائی رائیڈ کی غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=endocrinologist