کیا ای سگریٹ نقصان دہ نہیں؟

تمباکو دنیا بھر میں سالانہ آٹھ ملین سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے۔ اسے استعمال کرنے کا سب سے عام طریقہ سگریٹ نوشی ہے۔ آج کل کچھ لوگ بالخصوص نوجوان سگریٹ نوشی کی عادت ترک کرنے کے لیے الیٹرانک یا ای سگریٹ کا سہارا بھی لیتے ہیں۔ اسے 2003 میں چین کے ایک فارماسسٹ نے ایجاد کیا تھا۔ اب پاکستان میں بھی اس کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ مگر کیا ای سگریٹ نقصان دہ نہیں؟ اور اس بات میں کتنی سچائی ہے کہ اس سے سگریٹ نوشی کی عادت ترک کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ای سگریٹ روایتی سگریٹ سے کیسے مختلف ہے۔

ای سگریٹ کیا ہے

اس کے لیے ویپ (vape) کی ا صطلاح بھی استعمال ہوتی ہے۔ یہ سگار، پائپ، پین اور یو ایس بی کے علاوہ بھی مختلف اشکال میں دستیاب ہے۔ روایتی سگریٹ کے برعکس یہ بیٹری کی مدد سے چلتا ہے۔ اس میں مختلف مادوں پر مشتمل مخصوص مائع بھرنے کے لیے سیلنڈر اور پھر اسے گرم کرنے کے لیے ہیٹنگ سسٹم بھی ہوتا ہے۔ جب یہ مائع گرم ہوتا ہے تو گیس (aerosol) خارج ہوتی ہے جسے فرد منہ کے ذریعے سانس لے کر پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے۔ یہ سگریٹ دیگر منشیات لینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

کیا ای سگریٹ محفوظ ہے؟

روایتی سگریٹ کے نقصان دہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ اس میں موجود نکوٹین کے جلنے سے جو دھواں پیدا ہوتا ہے اس میں 7000 سے زائد کیمیائی مادے ہوتے ہیں۔ ای سگریٹ سے نکلنے والے دھوئیں میں اگرچہ زہریلے مادوں کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے لیکن یہ بھی مضر صحت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں نکوٹین کے ساتھ ساتھ ذائقے کے لیے استعمال ہونے والے اجزاء، دھاتیں اور کینسر کا سبب بننے والے مادے بھی موجود ہوتے ہیں۔

صحت پر اثرات

اگرچہ اکثر کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ ای سگریٹ مکمل طور پر نکوٹین سے پاک ہوتا ہے مگر ایسا نہیں ہے۔ ان میں سے زیادہ تر میں نکوٹین ہوتی ہے جو مختلف مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ مثلاً یہ استعمال کرنے والوں کو اپنا عادی بنا لیتی ہے، حاملہ خواتین کے رحم میں نشوونما پاتے بچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور نوجوانوں میں دماغی نشوونما کو متاثر کرتی ہے۔

ای سگریٹ کی بیٹری میں کوئی نقص ہو تو سیلنڈر پھٹنے، آگ لگنے اور نتیجتاً زخمی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ بچے یا بڑے اس میں موجود زہریلے مائع کو نگل لیں تو بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ای سگریٹ کو روایتی سگریٹ کے متبادل کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔ مگر ایف ڈی اے کے مطابق یہ غیر مضر نہیں اور نہ ہی سگریٹ نوشی ترک کرنے میں مؤثر ثابت ہوا ہے۔ اسے اس مقصد کے لیے شروع کرنے والے نوجوانوں میں سے اکثر دونوں طرح کے سگریٹ استعمال کر رہے ہیں۔

تمباکو کم مقدار میں بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے لہٰذا اسے مکمل طور پرچھوڑ دیں۔ خود ایسا کرنا مشکل ہو تو پیشہ ورانہ مدد لیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

تربوز کے فوائد

Read Next

وہ پانچ ٹِپس جو آپ کی یادداشت کو بہتر بنا سکتی ہیں

Leave a Reply

Most Popular