پڑھنے اور لکھنے میں دشواری

34

محمدزاہدایوبی
’’داداجی! میں آپ سے بہت ناراض ہوں‘‘ ببلونے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
’’کیوں بیٹے! کیا غلطی ہو گئی تمہارے داداجی سے ؟‘‘ دادا نے ببلو کی طرف دیکھا۔
’’آپ لوگ فلم دیکھنے مجھے کیوں نہیں ساتھ لے کرگئے !‘‘ ببلو نے شکایت بھرے لہجے میںکہا:’’پچھلی دفعہ آپ سیمینار میںگئے تو بھی مجھے ساتھ لے کرنہیں گئے تھے۔ اب مجھے پتہ چل گیا ہے کہ آپ مجھ سے بالکل بھی پیار نہیں کرتے۔‘‘
’’دیکھ ببلو!سیمینار تو بڑوں کیلئے ہوتا ہے اور تمہیںاس میں خاک مزا آتا۔‘‘داداجی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا:’’… اور رہی بات فلم کی تو تمہارے ابو امی کاکہنا ہے کہ تمہیں ابھی ان چیزوں میں نہیں پڑنا چاہئے ورنہ تمہاری پڑھائی کا بھی حرج ہو گا۔ بات چونکہ غلط نہیں تھی‘ اس لئے میں نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا۔‘‘
’’تو پھر آپ خود کیوں گئے تھے؟‘‘ ببلو ابھی تک ناراض تھا۔
’’بیٹے! اس لئے کہ مجھے اس موضوع پر مضمون لکھنا تھا۔‘‘
’’کس موضوع پر …؟‘‘ ببلو نے ہاتھ ہلا کر پوچھا۔
’’ڈِس لیکسیا!‘‘ دادا جی نے جواب دیا۔

’’توبہ!کتنا مشکل موضوع ہے۔ فلم بھی اتنی ہی بور ہو گی۔ اچھا ہوا کہ میںنہیں گیا!‘ ‘
’’نہیںبیٹے! ایسی بات نہیں اور فلم تو بہت دلچسپ تھی۔‘‘ دادا جی نے کہا۔
’’ اچھا!تو چلئے‘ مجھے بھی اس کی سٹوری سنائیے!‘‘ ببلو ساری ناراضگی بھول گیا۔
’’ہاں ہاں!کیوں نہیں‘ اچھا سنو!‘‘دادا جی نے کہنا شروع کیا:’’ایک بچہ ہے جس کا نام ہے ایشان ۔اس کی عمر آٹھ سال ہے ۔ ایشان یوں تو بہت پیارا بچہ ہے لیکن پڑھائی میں بہت ہی سست ہے۔ اسے ہر مضمون ہی مشکل لگتا ہے اور وہ ہر امتحان میں فیل ہو جاتا ہے ۔اسی لئے اس کو اپنا سکول بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔‘‘
’’…تو کیا وہ بہت نالائق اور لاپرواہ ہے ؟‘‘ ببلو نے پوچھا۔
’’نہیں تو!وہ بہت ذہین ہے۔ وہ پینٹگز بناتا ہے تو ایسی شاندار‘ کہ بڑے بڑے دیکھتے رہ جائیں ۔ لیکن ایک مسئلہ ہے اس کے ساتھ… اور وہ یہ کہ پڑھتے اور لکھتے ہوئے مختلف الفاظ اور حروف اس کے ذہن میں گڈ مڈ ہو جاتے ہیں اور وہ الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اس کے دوست اور اساتذہ مدد کرنے کی بجائے اس کا مذاق تو اڑاتے ہیں لیکن کوئی اس کی پینٹنگز کی کبھی تعریف نہیں کرتا۔ اسے نکما‘ نالائق اوراس طرح کے القابات دئیے جاتے ہیں۔‘‘
’’لیکن دادا! اگر وہ پینٹنگز اتنی اچھی بنا لیتا ہے توپھرپڑھائی کیوں نہیں کرتا۔کیا اسے سکول اچھا نہیں لگتا۔کتنی بری بات ہے! پڑھائی کے وقت پڑھائی‘ کھیل کے وقت کھیل اور پینٹنگز کے وقت پینٹنگزہونی چاہئیں!میں نے ٹھیک کہا ہے ناں!‘‘ ببلو کو ایشان کی یہ عادت بالکل بھی اچھی نہ لگی ۔

’’ارے سنو تو!‘‘ دادا جی نے اس کی ران پر ہاتھ مارا:’’اسے ڈِس لیکسیاتھا‘‘
’’ڈِس لیکسیا… دادا یہ کیا ہوتا ہے ؟ کیا یہ کوئی بیماری ہے ؟‘‘ ببلو نے پوچھا۔
’’ہاں!لیکن پہلے کہانی تو سنو۔‘‘ دادا جی نے بولنا شروع کیا:’’ جب امتحان میں اس کے نمبرکم ا ٓئے تو ابو نے اسے خوب ڈانٹا۔… اور جب انہیں معلوم ہوا کہ ایشان سکول سے بھاگتا بھی ہے تو انہوںنے اسے ہاسٹل میں داخل کرادیا۔‘‘
’’اچھا! پھر کیا ہوا؟‘‘ اب کہانی میں ببلو کی دلچسپی بڑھنے لگی
ہاسٹل میںاس کی دوستی ایک لائق فائق لڑکے کے ساتھ ہو گئی لیکن اس کے باوجود اس کی پڑھائی پر کوئی فرق نہ پڑا۔ اب تو وہ گھر سے دور ہونے کی وجہ سے بھی پریشان رہنے لگا۔ پھر ہاسٹل میں آرٹ کا ایک نیا ٹیچرآیا۔ اس کے پڑھانے کے دلچسپ انداز اوربچوں کے ساتھ دوستانہ رویے کی وجہ سے سبھی اسے پسند کرتے لیکن ایشان بالکل گم سم سا رہتا۔‘‘
’’آخر اسے پریشانی کیاتھی!‘‘ ببلو کو بیچارے ایشان پر اب ترس آنے لگا۔
’’چھٹی کے دن وہ ٹیچرایشان کے والدین سے ملنے اس کے گھر جا پہنچا ۔‘‘ دادا جی نے اس کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے بات کو آگے بڑھایا:’’ وہاں اس نے ایشان کی بنائی ہوئی پینٹنگز دیکھیں تو دنگ رہ گیا ۔اس نے بچے کے والد کو بتایا کہ ایشان ایک ہونہار بچہ ہے اور اس کی خراب تعلیمی کارکردگی کاتعلق کم ذہانت سے نہیں‘ ایک بیماری ’ڈِس لیکسیا‘ سے ہے۔ اس نے ایشان کے ابو سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو وہ اسے ٹیوشن پڑھانے کو تیار ہے ۔‘‘
’’ دادا! آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ ڈِس لیکسیا ہوتا کیاہے؟‘‘ ببلونے پوچھا
’’بیٹا! یہ ایک ذہنی بیماری ہے جس کی وجہ سے فرد کو پڑھنے اور لکھنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے ۔ اس کا سبب ذہانت کی کمی نہیں بلکہ ایک اعصابی خرابی ہے جس کی وجہ سے بچے کو مختلف الفاظ پڑھنے‘ پہچاننے‘ سمجھنے ‘ یاد رکھنے اور لکھنے میں مشکل ہوتی ہے ۔ اس بیماری کو بعض اوقات ’ورڈ بلائنڈنیس‘ یا الفاظ کا نابینا پن بھی کہا جاتا ہے ۔‘‘ داداجی نے وضاحت کی ۔
’’لیکن دادا جی‘ وہ کیسے!‘‘ ببلو کو بات پوری طرح سے سمجھ نہ آئی ۔
’’دیکھو بیٹا! ہم جو چیزیا لفظ دیکھتے ہیں‘ اس کی شکل ہمارے دماغ میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ اگلی دفعہ جب ہم اسے دوبارہ دیکھتے ہیں تو دماغ اسے پہلے سے محفوظ شکل کے ساتھ ملاتا ہے ۔ جب وہ مل جاتی ہے تو وہ اسے پہچان لیتا ہے ۔ ڈِس لیکسیا کے شکار بچوں سے الفاظ اور حروف کی شکلوں کو دماغ میں محفوظ شکلوں کے ساتھ ملانے کے دوران گڑ بڑ ہو جاتی ہے اور وہ یا توانہیں پہچان ہی نہیں پاتے ‘ یا ان کی ترتیب غلط کر دیتے ہیں۔ ‘‘ دادا جی نے مشکل بات کو آسان لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کی۔
’’ مثلاً؟‘‘ ببلو کو تو بال کی کھال اتارنے کی عادت تھی۔
’’مثلاً انہیں پڑھنے اور سپیلنگ کرنے میںمشکل ہوتی ہے ۔ وہ ایک لفظ کو ایک صفحے پر ٹھیک پڑھتے ہیں تو اگلے ہی صفحے پراسے پہچان ہی نہیں پاتے ۔اگر کوئی لفظ الگ اور اکیلا ہو تو اسے بہت مشکل سے ‘ سخت محنت کرکے ‘ سست روی سے اورپھر بھی غلط پڑھتے ہیں۔‘‘ دادا جی نے مزید وضاحت کردی ۔
’’دادا‘ کوئی عملی مثال دیں ناں!‘‘ ببلو کچھ الجھ سا گیا۔
’’اوہو‘ ایک تو تم بھی ناں…!‘‘ دادا جی زِچ آگئے۔
’’دادا! یہ بھول جائیں کہ مجھے کوئی چیز سمجھ نہ آئے اور میں آپ کو آگے جانے دوں!‘‘
’’بہت شریر ہو‘ لیکن یہ اچھی بات ہے ۔‘‘ دادا نے اس کی پیٹھ تھپکتے ہوئے کہا:’’ان کیلئے bاورd‘n, اور p, uاورq جیسے الفاظ کو پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے ۔اگر کسی لفظ کا پہلا اورآخری حرف ایک جیسے ہوں توانہیں پڑھنے میں بھی مشکل ہوتی ہے جیسےtrailاور trial۔ اسی طرح وہ کسی لفظ میں کچھ حروف چھوڑ جاتے ہیں اور کچھ کی جگہ نئے ڈال دیتے ہیں جیسے stairکو starاورcouldکو coldلکھ دیں گے ۔ان کیلئے ایسے الفاظ کو یاد رکھنا بھی مصیبت سے کم نہیں ہوتا جویوں تو ایک جیسے ہوں لیکن مختلف ترتیب سے آتے ہوںجیسے whoاورhowیاwas اور sawوغیرہ۔ وہ ملتے جلتے لفظوں کو بھی غلط پڑھ جاتے ہیں جیسے houseکوhorse,اورsupriseکو sunrise وغیرہ وغیرہ۔
’’ یہ ہوئی نہ بات!‘‘ ببلو نے خوش ہوتے ہوئے کہا:’’ لیکن یہ ہوتی کیوں ہے ؟‘‘
’’ماہرین کا خیال ہے کہ یہ موروثی یا پیدائشی ہوتی ہے۔ ‘‘ دادا جی نے مختصراً جواب دیا۔
’’اور علاج؟‘‘ ببلو نے اگلا سوال داغا۔
’’اس کے علاج کیلئے کچھ خاص تیکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کوشش کی جاتی ہے کہ ایسی باتوں اور ماحول سے بچے کو دور رکھا جائے جس میں وہ دل شکنی محسوس کرے۔ اس کے مسئلے کو سمجھ کو سلجھانے کی کوشش کی جائے تو وہ ٹھیک ہو جاتا ہے اور اگر صرف مولابخش پر انحصار کیاجائے تو معاملہ مزید بگڑ جاتا ہے ۔‘‘ دادا جی پر اب تھکاوٹ کے آثار نمایاں تھے ۔
’’اچھا بتائیے ناں‘ پھر کیا ہوا تھا…سٹوری میں؟‘‘ ببلو نے واپس قلابازی کھائی۔
’’ اگلے دن ٹیچر نے کلاس میں سب کو ڈس لیکسیا کے بارے میں بتایا۔اس نے یہ بھی بتایا کہ معروف سائنس دان آئن سٹائن‘مشہور مصنف پابلو اوراداکار ابھیشک بچن بھی اس کا شکار ہے ہیں۔پھر اس نے کہا’ …اورمیں خود بھی !‘‘
’’اچھا!یہ بتائیے کہ ایشان کا کیا ہوا؟‘‘ ببلو کو کہانی کا مرکزی کردارپھر یاد آگیا۔
’’ٹیچر کی محنت سے ایشان ٹھیک ہوگیا اور جلد ہی اس نے ریاضی اورانگریزی میں دلچسپی لینا شروع کردی ۔پھر ٹیسٹ میں بھی اس کے نمبر اچھے آنے لگے ۔سال کے آخر میں ایک آرٹ میلہ منعقد ہوا جس میں پینٹنگز کا بھی مقابلہ ہوا۔اس میں ایشان فرسٹ اور وہ ٹیچر سیکنڈ آیا ۔ ایشان کے ابو چھٹیوں سے پہلے جب بیٹے کو لینے آئے تو اس کی تعلیمی کارکردگی دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ایشان نے ابو کے ساتھ جانے سے پہلے دوڑ کر ٹیچر کو گلے لگایا اورٹیچرنے بھی اسے پیار سے اٹھا کر ہوا میں اچھالا اور فلم اس منظر پر ختم ہوتی ہے گویا ایشان ہوا میںاڑ رہا ہو ۔‘‘
’’اچھی ہے داداجی۔ اب میں جائوں؟‘‘ ببلو نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا۔
’’ضرور جائو‘ لیکن بتائو‘ ناراض تو نہیں اپنے داداجی سے؟‘‘
’’وہ تو میں اب بھی ہوں۔ راضی تو میں اس وقت ہوں گا جب آپ مجھے کہانیوں کی اچھی سی کتاب لا کر دیں گے ۔‘‘ ببلو موقع کو ہاتھ سے کیسے جانے دے سکتا تھا۔
’’ببلو!وعدہ رہا‘‘ دادا جی نے ہاتھ ملایا اور ببلو خوشی خوشی سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گیا۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x