ڈمپنگ سنڈروم (Dumping syndrome) یا گیسٹرک ایمپٹی اِنگ (Gastric emptying) ایسی حالت ہے، جس میں کھانے کے بعد خوراک غیر معمولی تیزی سے معدے سے چھوٹی آنت میں منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ مسئلہ عموماً معدے یا غذائی نالی کی مخصوص سرجریز کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اس کی کچھ علامات کھانے کے فوراً بعد ظاہر ہوتی ہیں جبکہ بعض 1 سے 3 گھنٹے بعد سامنے آتی ہیں۔
علامات
ڈمپنگ سنڈروم کی علامات عموماً کھانے, خاص طور پر میٹھی اشیاء کھانے کے بعد 10 سے 30 منٹ کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ کھانے کے بعد پیٹ بھرا ہوا یا پھولا ہوا محسوس ہونا
٭ متلی
٭ قے
٭ پیٹ میں درد یا مروڑ
٭ اسہال
٭ جسم میں گرمی یا لالی محسوس ہونا
٭ چکر آنا یا ہلکا پن محسوس ہونا
٭ دل کی دھڑکن تیز ہونا
لیٹ ڈمپنگ سنڈروم عام طور پر 1 سے 3 گھنٹے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ اس میں علامات بتدریج سامنے آتی ہیں کیونکہ جسم زیادہ مقدار میں انسولین خارج کرتا ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے۔
لیٹ ڈمپنگ سنڈروم کی علامات میں شامل ہیں:
٭ پسینہ آنا
٭ جسم میں گرمی یا لالی محسوس ہونا
٭ چکر آنا یا ہلکا پن محسوس ہونا
٭ کمزوری محسوس ہونا
٭ دل کی دھڑکن تیز ہونا
کچھ مریضوں میں ابتدائی اور دیر سے ظاہر ہونے والی دونوں اقسام کی علامات پائی جاتی ہیں۔ یہ بیماری سرجری کے کئی سال بعد بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔
وجوہات
اس بیماری میں خوراک اور معدے کا جوس غیر معمولی تیزی سے چھوٹی آنت میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل بے قابو ہوتا ہے اور عموماً سرجری کے بعد معدے میں ہونے والی ساختی تبدیلیوں کے باعث ہوتا ہے۔
اس میں معدے کی کسی بھی قسم کی سرجری یا بڑی غذائی نالی کی سرجری شامل ہو سکتی ہے۔تاہم نایاب صورتوں میں یہ بیماری بغیر کسی سرجری کے بھی ہو سکتی ہے۔
خطرے کے عوامل
معدے کی ساخت کو تبدیل کرنے والی سرجریز ڈمپنگ سنڈروم کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔ یہ سرجریز زیادہ تر موٹاپے یا کینسر کے علاج کے لیے کی جاتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ بیریاٹرک سرجری، خاص طور پر گیسٹرک بائی پاس یا سلیو گیسٹریکٹومی
٭ گیسٹریکٹومی، جس میں معدے کا کچھ حصہ یا پورا معدہ نکالا جاتا ہے
٭ ایسوفیجیکٹومی، جس میں منہ اور معدے کے درمیان نالی کا کچھ حصہ یا مکمل حصہ نکالا جاتا ہے
٭ فنڈوپلیکیشن، جو معدے کی تیزابیت اور ہرنیا کے علاج کے لیے کی جاتی ہے
٭ ویگوٹومی، جو معدے کے السر کے علاج کے لیے کی جاتی ہے
٭ پائلورو پلاسٹی، جس میں معدے کے راستے کو کشادہ کیا جاتا ہے تاکہ خوراک آسانی سے گزر سکے
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
درج ذیل صورتوں میں ڈاکٹر سے رجوع کریں:
٭ ایسی علامات ظاہر ہوں جو ڈمپنگ سنڈروم کی طرف اشارہ کریں، چاہے سرجری نہ ہوئی ہو
٭ غذا میں تبدیلی کے باوجود علامات قابو میں نہ آئیں
٭ وزن تیزی سے کم ہو رہا ہو
تشخیص
ڈمپنگ سنڈروم کی تشخیص کے لیے درج ذیل طریقے اختیار کیے جاتے ہیں:
٭ میڈیکل ہسٹری اور معائنہ، جس میں علامات اور سرجری کی تفصیل کا جائزہ لیا جاتا ہے
٭ بلڈ شوگر ٹیسٹ، جس کے ذریعے خون میں شوگر کی سطح معلوم کی جاتی ہے
٭ گیسٹرک ایمپٹنگ ٹیسٹ، جس میں خوراک کی حرکت کی رفتار جانچی جاتی ہے
علاج
ابتدائی ڈمپنگ سنڈروم عموماً تین ماہ کے اندر خود بہتر ہو جاتا ہے۔ اس دوران غذا میں تبدیلی علامات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر بہتری نہ آئے تو ادویات یا سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ادویات
اگر غذائی تبدیلیاں مؤثر ثابت نہ ہوں تو مخصوص دوا تجویز کی جاتی ہے۔ یہ دوا آنت میں خوراک کے تیزی سے داخلے کو سست کرتی ہے۔ اس کے ممکنہ مضر اثرات میں متلی، اسہال اور چکنائی والا پاخانہ شامل ہیں۔
دوا کے درست استعمال کے لیے اپنے معالج سے مشورہ کریں۔
سرجری
اگر دیگر طریقے مؤثر نہ ہوں تو سرجری کی جاتی ہے۔ اس میں پائلورس کی دوبارہ ساخت یا گیسٹرک بائی پاس کو ریورس کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
سیلف کیئر
مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر علامات کو کم کرنے اور غذائیت برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں:
٭ دن میں تین بڑے کھانوں کے بجائے پانچ سے چھوٹے کھانے کھائیں
٭ کھانے کے بعد تقریباً 30 منٹ تک لیٹ جائیں
٭ زیادہ تر مشروبات کھانے کے درمیان لیں، کھانے سے پہلے اور بعد میں 30 سے 60 منٹ تک نہ پئیں
٭ روزانہ 6 سے 8 گلاس پانی پئیں، ابتدا میں کھانے کے ساتھ پانی کم پئیں
٭ پروٹین اور فائبر والی غذا زیادہ لیں، زیادہ چینی والی اشیاء سے پرہیز کریں
٭ دودھ میں موجود قدرتی شوگر بعض افراد میں مسئلہ بڑھا سکتی ہے، اس لیے احتیاط کریں
٭ فائبر کی مقدار بڑھائیں تاکہ آنت میں شکر کا جذب سست ہو سکے
٭ الکحل سے اجتناب کریں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔