Vinkmag ad

وائرل اوٹزیمپک ڈرنک: کیا واقعی وزن کم کرنے میں مددگار ہے؟

Oatzempic drink made with oats, lemon juice, and honey, popular for weight loss on social media

سوشل میڈیا پر وزن کم کرنے کے نئے رجحان کے طور پر اوٹزیمپک ڈرنک کافی وائرل ہے۔ اس کا نام ذیابیطس کی دوا اوزیمپک سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ بھوک کم کرتا اور دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس دلاتا ہے۔ کچھ صارفین کے مطابق دو ماہ میں ان کا 40 پاؤنڈ (تقریباً 18 کلوگرام) وزن کم ہوا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دعوے طبی شواہد پر مبنی نہیں ہیں۔

اوٹزیمپک ڈرنک جئی، پانی اور تازہ لیموں کے رس سے تیار ہوتا ہے۔ ذائقہ بہتر کرنے کے لیے اس میں شہد یا دارچینی بھی شامل کی جاتی ہے۔ جئی میں موجود بیٹا گلوکن فائبر ہاضمہ سست کرتا ہے اور دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس دلاتا ہے۔

غذائی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف اوٹزیمپک ڈرنک پر انحصار کافی نہیں۔ یہ جسم کو درکار ضروری غذائی اجزا کی کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے متوازن ناشتا برقرار رکھنا صحت کے لیے ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق اوٹزیمپک ڈرنک بھوک کم کر سکتا ہے۔ تاہم وزن گھٹانے اور مکمل غذائیت کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اور متوازن غذا کو معمول بنانا لازمی ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

ہارورڈ کی نئی تحقیق، انڈوں اور کولیسٹرول سے متعلق پرانا تصور تبدیل

Read Next

کان کی ازسرنو تشکیل

Leave a Reply

Most Popular