نیند کے اوقات میں تاخیر (Delayed Sleep Phase) میں مبتلا افراد کے سونے اور جاگنے کے اوقات معمول سے دو یا اس سے زیادہ گھنٹے بعد ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وقت پر کام یا سکول جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ دیر سے سونے اور جاگنے کی اصل وجہ جسم کی اندرونی گھڑی، یعنی سرکیڈین ردھم کا متاثر ہونا ہے۔
علامات
نیند کے اوقات میں تاخیر کی سب سے واضح علامت دیر سے سونا اور جاگنا ہے۔ نیند اور بیداری کے اوقات اوسطاً دو گھنٹے مؤخر ہوتے ہیں، تاہم بعض افراد میں یہ تاخیر تین سے چھ گھنٹے تک ہو سکتی ہے۔ یہ حالت عام طور پر تین ماہ تک برقرار رہتی ہے اور بعض افراد میں کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ عام علامات یہ ہیں:
٭ عام وقت پر سونے میں دشواری
٭ صبح وقت پر جاگنے میں مشکل
٭ دن کے وقت شدید غنودگی طاری رہنا
٭ دن بھر مستعد رہنے میں دشواری
وجوہات
نیند کے اوقات میں تاخیر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم کی اندرونی گھڑی ماحول کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو۔ اندرونی گھڑی کا نظام جسم کو بتاتا ہے کہ کب سونا اور کب جاگنا ہے۔ اسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے اور یہ عموماً 24 گھنٹے کے سائیکل پر کام کرتا ہے۔
ماحولیاتی عوامل مثلاً روشنی، اندھیرا، کھانے کے اوقات اور جسمانی سرگرمی بھی نیند کے سائیکل کو متاثر کرتے ہیں۔
اس بیماری کی حتمی وجہ واضح نہیں، تاہم نوعمروں میں حیاتیاتی وجوہات کی بنا پر سرکیڈین ردھم میں قدرتی تاخیر ہو سکتی ہے۔ دیر تک ہوم ورک کرنا، ٹی وی دیکھنا یا آن لائن وقت گزارنا اس تاخیر کو بڑھا سکتا ہے۔
خطرے کے عوامل
یہ بیماری بچوں اور بالغوں دونوں کو متاثر کر سکتی ہے، مگر زیادہ تر نوجوانوں میں دیکھی جاتی ہے۔
پیچیدگیاں
٭ نوعمروں میں نیند کے اوقات میں تاخیر سکول میں کم کارکردگی اور رویے کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ ان میں توجہ کی کمی اور حد سے زیادہ سرگرمی کی خرابی (ADHD) شامل ہیں
٭ یہ حالت بعض اوقات آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کے ساتھ بھی وابستہ پائی جاتی ہے
٭ بالغوں اور نوعمروں میں اس بیماری کے ساتھ ڈپریشن اور بے چینی بھی عام ہے
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
٭ اگر علامات مستقل رہیں تو کسی طبی ماہر سے مشورہ کریں
٭ بچوں میں علامات ظاہر ہوں اور ختم نہ ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں
تشخیص
ایکٹی گرافی (Actigraphy)
کئی دنوں تک نیند اور جاگنے کے اوقات ریکارڈ کرنے کے لیے مریض کلائی پر چھوٹا سا آلہ پہنتا ہے۔ یہ حرکت اور روشنی کی مقدار نوٹ کرتا ہے تاکہ نیند کے پیٹرنز اور سرکیڈین ردھم کا تجزیہ کیا جا سکے۔
نیند کی ڈائری (Sleep Diary)
ایک ہفتہ یا زیادہ عرصے تک مریض روزانہ اپنے سونے اور جاگنے کے اوقات درج کرتا ہے۔ اس سے نیند کے معمولات اور پیٹرنز کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور علاج کے لیے درست منصوبہ بنایا جا سکتا ہے۔
سلیپ سٹڈی (Polysomnography)
اگر شبہ ہو کہ نیند کی کوئی دوسری بیماری بھی موجود ہے، تو مریض کو ایک رات سلیپ لیب میں گزارنا ہوتی ہے ۔ اس دوران دماغ کی سرگرمی، دل کی دھڑکن، آکسیجن کی سطح، آنکھوں کی حرکت اور سانس لینے کا عمل نوٹ کیا جاتا ہے تاکہ نیند کے مسائل کی درست تشخیص ممکن ہو۔
علاج
طبی ماہر مریض کے ساتھ مل کر ایسا علاجی پلان تیار کرتے ہیں جو نیند اور جاگنے کے اوقات کو بہتر بنائے۔
میلاٹونن سپلیمنٹس: شام کے آغاز پر لینے سے سرکیڈین ردھم کو معمول پر لانے میں مدد ملتی ہے
لائٹ تھیراپی: صبح کے وقت لائٹ باکس کے ذریعے روشنی حاصل کرنا نیند کے معمول کو بہتر بناتا ہے
کرونو تھیراپی: اس طریقے میں سونے کا وقت ابتدائی طور پر تھوڑا تھوڑا مؤخر کیا جاتا ہے تاکہ آخر کار فرد مطلوبہ سونے کے شیڈول پر پہنچ جائے۔ نئے شیڈول کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ نتائج مستقل رہیں
احتیاطی تدابیر
طرزِ زندگی میں چند آسان تبدیلیاں اس مسئلے سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتی ہیں:
٭ روزانہ ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت اپنائیں
٭ سونے سے پہلے تیز روشنی اور سکرین کے استعمال کو محدود کریں
٭ دن میں باقاعدگی سے ورزش کریں، مگر سونے سے دو گھنٹے پہلے ختم کریں
٭ بیڈ روم کو صرف نیند اور ازدواجی تعلق کیلئے استعمال کریں
٭ سونے سے پہلے ایسی سرگرمیوں سے پرہیز کریں جو دماغ یا جسم کو زیادہ متحرک کر دیں، جیسے موبائل گیم کھیلنا، ٹی وی دیکھنا یا تیز موسیقی سننا
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔