سسٹائٹس (Cystitis) مثانے کی سوزش کو کہتے ہیں۔ سوزش کی وجہ سے مثانہ سوج سکتا ہے، گرم محسوس ہو سکتا ہے اور اس میں درد بھی ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر کیسز میں سسٹائٹس بیکٹیریا کے انفیکشن کے باعث ہوتا ہے، جسے پیشاب کی نالی کا انفیکشن (یو ٹی آئی) کہا جاتا ہے۔ یہ انفیکشن تکلیف دہ ہو سکتا ہے اور بروقت علاج نہ ہونے پر گردوں تک پھیل کر سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
علامات
سسٹائٹس کی عام علامات میں شامل ہیں:
٭ پیشاب کرنے کی بار بار اور شدید حاجت
٭ پیشاب کرتے وقت درد یا جلن ہونا
٭ تھوڑی مقدار میں بار بار پیشاب آنا
٭ پیشاب میں خون آنا
٭ پیشاب دھندلا یا بدبودار ہونا
٭ پیلوک حصے میں درد یا تکلیف
٭ ناف کے نیچے دباؤ محسوس ہونا
٭ ہلکا بخار
چھوٹے بچوں میں دن کے وقت اچانک پیشاب نکل جانا بھی یو ٹی آئی کی علامت ہو سکتا ہے۔ صرف رات کو بستر گیلا کرنا عموماً اس بیماری کی علامت نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں، کیونکہ یہ گردوں کے انفیکشن کی نشاندہی کر سکتی ہیں:
٭ کمر یا پہلو میں درد
٭ بخار اور سردی لگنا
٭ متلی اور قے
ان صورتوں میں بھی ڈاکٹر سے رابطہ کریں:
٭ اگر کئی گھنٹوں تک بار بار، فوری یا درد کے ساتھ پیشاب آئے، یا پیشاب میں خون نظر آئے
٭ اگر پہلے بھی یو ٹی آئی ہو چکی ہو اور وہی علامات دوبارہ ظاہر ہوں
٭ اگر اینٹی بائیوٹکس کا کورس مکمل ہونے کے بعد بھی علامات واپس آ جائیں
اگر بچے کا دن کے وقت اچانک پیشاب نکلنے لگے تو اسے بھی ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں
وجوہات
بیکٹیریا سے ہونے والا سسٹائٹس
٭ زیادہ تر یو ٹی آئی اس وقت ہوتی ہے جب جسم کے باہر موجود بیکٹیریا یوریتھرا کے ذریعے پیشاب کی نالی میں داخل ہو کر بڑھنے لگتے ہیں
٭ سسٹائٹس کی سب سے عام وجہ ای کولی (ای۔ کولی) بیکٹیریا ہے، تاہم دیگر بیکٹیریا بھی انفیکشن پیدا کر سکتے ہیں
٭ خواتین میں جنسی تعلق کے بعد مثانے کا انفیکشن ہو سکتا ہے۔ جن خواتین کی جنسی سرگرمی نہیں ہوتی، ان میں بھی یہ بیماری ہو سکتی ہے۔
بغیر انفیکشن کے ہونے والا سسٹائٹس
اگرچہ زیادہ تر کیسز بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتے ہیں، لیکن بعض غیر جراثیمی عوامل بھی مثانے میں سوزش پیدا کر سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
٭ مثانے کی طویل مدتی سوزش
٭ کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی بعض ادویات
٭ پیلوک ایریا میں ریڈی ایشن تھراپی
٭ زیادہ عرصے تک کیتھیٹر کا استعمال
٭ ببل باتھ، ذاتی صفائی کے سپرے یا سپرم کش جیل کا استعمال
٭ ذیابیطس، گردے کی پتھری، پروسٹیٹ بڑھ جانے یا ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ جیسی بیماریوں کی پیچیدگی
خطرے کے عوامل
خواتین اس کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ ان میں خطرہ بڑھانے والے عوامل میں شامل ہیں:
٭ جنسی سرگرمی، جس کے دوران بیکٹیریا پیشاب کی نالی میں داخل ہو سکتے ہیں
٭ ڈایافرام جیسے بعض مانع حمل طریقوں کا استعمال
٭ حمل، کیونکہ اس دوران ہارمونز میں تبدیلی انفیکشن کا خطرہ بڑھا سکتی ہے
٭ مینوپاز، کیونکہ ہارمونز میں تبدیلی پیشاب کی نالی کو انفیکشن کے لیے زیادہ حساس بنا سکتی ہے
دیگر عوامل میں شامل ہیں:
٭ مثانے کی پتھری یا پروسٹیٹ بڑھ جانا
٭ کمزور مدافعتی نظام، جو ذیابیطس، ایچ آئی وی انفیکشن یا کینسر کے علاج کے باعث ہو سکتا ہے
٭ طویل عرصے تک پیشاب کی نالی میں کیتھیٹر کا استعمال
پیچیدگیاں
٭ گردوں کا انفیکشن، جو مستقل نقصان کا سبب بن سکتا ہے
٭ پیشاب میں خون آنا، جو بعض اوقات صرف خوردبین سے نظر آتا ہے
بچاؤ کی تدابیر
٭ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں، خاص طور پر کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کے دوران
٭ پیشاب کی حاجت محسوس ہوتے ہی مثانہ خالی کریں
٭ رفع حاجت کے بعد صفائی ہمیشہ آگے سے پیچھے کی طرف کریں تاکہ بیکٹیریا پیشاب کی نالی تک نہ پہنچیں
٭ ٹب میں نہانے کے بجائے شاور لینے کو ترجیح دیں
٭ اعضائے تناسل کے اردگرد کی جلد روزانہ نرمی سے صاف کریں اور سخت صابن استعمال نہ کریں
٭ جنسی تعلق کے فوراً بعد مثانہ خالی کریں اور ایک گلاس پانی پی لیں
٭ اعضائے تناسل پر خوشبودار سپرے یا ایسی صفائی کی مصنوعات استعمال نہ کریں جو جلن پیدا کر سکتی ہوں
تشخیص
پیشاب کا تجزیہ: اس ٹیسٹ میں پیشاب میں بیکٹیریا، خون یا پیپ کی موجودگی دیکھی جاتی ہے۔ اگر بیکٹیریا موجود ہوں تو پیشاب کا کلچر بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ انفیکشن پیدا کرنے والے جراثیم کی شناخت ہو سکے
امیجنگ ٹیسٹ: سسٹائٹس میں عموماً ایکس رے یا الٹراساؤنڈ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تاہم بعض صورتوں میں مثانے کی سوزش کی دیگر ممکنہ وجوہات معلوم کرنے کے لیے یہ ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں
علاج
بیکٹیریا سے ہونے والے سسٹائٹس کا علاج
بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن میں اینٹی بایوٹک بنیادی علاج ہیں
پہلا انفیکشن: اینٹی بایوٹک شروع کرنے کے چند دن میں علامات میں واضح بہتری آ سکتی ہے، لیکن دوا ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مکمل کرنا ضروری ہے
بار بار ہونے والا انفیکشن: اگر یو ٹی آئی بار بار ہو تو ڈاکٹر طویل مدت کے لیے اینٹی بائیوٹک تجویز کر سکتا ہے۔
ہسپتال میں ہونے والا انفیکشن: ہسپتال میں ہونے والے انفیکشن کا علاج نسبتاً مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ وہاں موجود بیکٹیریا عام اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں مختلف ادویات یا علاج کے طریقوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے
مینوپاز کے بعد بعض خواتین میں اگر مناسب ہو تو ڈاکٹر وجائنا میں استعمال ہونے والی ایسٹروجن کریم بھی تجویز کر سکتا ہے۔
مثانے کی طویل مدتی سوزش کا علاج
علاج میں درج ذیل طریقے شامل ہو سکتے ہیں:
٭ منہ کے ذریعے کھائی جانے والی ادویات
٭ کیتھیٹر کے ذریعے مثانے میں دوا پہنچانا
٭ اعصاب کو ہلکی برقی لہروں سے متحرک کرنا
٭ اگر دیگر تمام علاج مؤثر ثابت نہ ہوں تو آخری مرحلے میں سرجری پر غور کیا جا سکتا ہے
دیگر اقسام کے سسٹائٹس کا علاج
اگر سسٹائٹس کی وجہ ببل باتھ، سپرم کش جیل یا دیگر کیمیائی مصنوعات ہوں تو ان سے پرہیز علامات کو کم کرنے اور دوبارہ سوزش سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔
زیادہ مقدار میں پانی پینا بھی مثانے کو خارش پیدا کرنے والے مادوں سے صاف کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا سسٹائٹس خود بخود ٹھیک ہو سکتا ہے؟
ہلکی علامات بعض اوقات خود بھی بہتر ہو سکتی ہیں، لیکن بیکٹیریا سے ہونے والے زیادہ تر انفیکشن میں اینٹی بایوٹک علاج ضروری ہوتا ہے۔
کیا زیادہ پانی پینے سے سسٹائٹس میں فائدہ ہوتا ہے؟
جی ہاں، مناسب مقدار میں پانی پینے سے پیشاب کی نالی صاف رہتی ہے اور بیکٹیریا کے اخراج میں مدد مل سکتی ہے، تاہم یہ اینٹی بائیوٹک کا متبادل نہیں۔
کیا مردوں کو بھی سسٹائٹس ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، لیکن صحت مند مردوں میں یہ بیماری کم پائی جاتی ہے۔ اگر علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
کیا سسٹائٹس دوبارہ ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، بعض افراد میں یہ بیماری بار بار ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر خطرے کے عوامل موجود ہوں۔ احتیاطی تدابیر اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل اس خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=urologist