آنکھ میں موتیا اتر آیا

392

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ نظر کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ آنکھ کے اندرونی پٹھوں اور اس کے لینز کی لچک کا کم ہوجانا ہے۔ مزید براں لینزدُھندلاہوجاتا ہے اور اس کایہ’دھندلاپن‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ پھر ایک وقت اےساآتا ہے جب یہ ایک نرم ہڈی جیسی شکل اختیارکرلیتا ہے۔یہ شفاف نہیں رہتا بلکہ اس کا رنگ دودھیاہوجاتا ہے ۔اسی کو موتیاکہاجاتا ہے۔
موتئے کی صورت میں نظر دھندلی پڑ جاتی ہے‘رنگ پھیکے نظرآتے ہیں اور سورج کی روشنی میں آنکھیں چندھیانے لگتی ہیں۔ بجلی یا کسی دوسری روشنی کے اردگرد ایک ہالہ یا حلقہ نور دکھائی دیتا ہے اور روشنی کابلب پھلجھڑی کی صورت اختیار کرتا معلوم ہوتا ہے۔کبھی کبھی ایک کی بجائے چیزیں دو دو نظرآتی ہےں اور کچھ لوگوں کو اپنی نظر کے چشمے(نمبر تبدیل ہونے کی وجہ سے)جلدی بدلنا پڑتے ہیں۔
بعض اوقات جن افراد کی نظر خراب تھی اور انہیں کتاب پڑھنے کے لئے عینک کی ضرورت پڑتی تھی‘ ان کی قریب کی نظر چند مہینوں کے لئے بہتر ہوجاتی ہے لیکن یہ سدھار عارضی ہوتا ہے۔

کالا اور سفید موتیا
جب انسانی آنکھ کے لینز پر ایک خاص قسم کا جالاسا تن جاتا ہے تو وہ چیزوں کو ٹھیک طرح سے دیکھنے سے قاصر ہو جاتی ہے ۔ عرف ِعام میں اس کیفیت کو سفید موتیا(cataract) کہا جاتا ہے۔ یہ مرض پیدائشی بھی ہوسکتا ہے اور عمر کی پختگی کے ساتھ ساتھ بھی آنکھ میں نمودار ہوسکتا ہے ۔ اس کی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے ایک قسم نیوکلیئر سکیلروسس (nuclear sclerosis) زیادہ عام ہے ۔اس مرض میں آنکھ کے لینز میں پروٹین جمنے کی وجہ سے بینائی کمزور ہونے لگتی ہے۔ ذیابیطس اور بلڈپریشر کے مریضوں کو موتیا لاحق ہونے کی شرح دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
موتئے کی دوسری قسم کالا موتیا(glaucoma) میں پردہ چشم (cornea)پر کچھ تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کی وجہ سے مریض کو کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔اس صورت حال میں اگر ہم ایک خاص قسم کا ٹیسٹ کریں تو آنکھ کے کالے موتیا کے اثرات کا حامل حصہ ہمیںکالا دکھائی دیتا ہے۔اسی لئے اسے کالا موتیا کہتے ہیں۔

کالے موتئے کی اقسام
کالے موتئے کی مزید دو اقسام ہیں جنہیں تنگ زاوئیے (narrow angle) اور کھلے زاوئیے(open angle) کا موتیاکہا جاتا ہے ۔تنگ زاوئیے والے کالے موتئے میں مریض کی آنکھیںسرخ رہتی ہیں اور ان میں درد ہوتا ہے ۔ یہ علامات الرجی اور آشوب ِ چشم سے ملتی جلتی ہیں ۔ اگر بروقت اور صحیح تشخیص ہوجائے تو علاج ممکن ہے اورنظرضائع ہونے سے بچ جاتی ہے ۔تاہم بہت سے لوگ لاعلمی یا لاپروائی کے باعث ماہر امراض چشم سے رابطہ کرنے کی بجائے اتائیوں یا نیم حکیموں کے پاس چلے جاتے ہیں۔ یہ جعلی معالجین علاج کے نام پر بعض اوقات ان کی آنکھوں میں ایسی مضرصحت چیزیں ڈالتے ہیں جن کی وجہ سے بینائی جانے کا خدشہ ہوتاہے ۔اور اگر نظر بچ بھی جائے تو مریض آنکھوں کے کسی دائمی مرض میں مبتلا ہونے کا امکان بہرحال رہتا ہے ۔
کالے موتئے کی دوسری قسم (open angle)ایسی ہے جو خاموشی سے اور دھیرے دھیرے مریض کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اسے دیمک سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جو اندر ہی اندر چیزوں کو گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے ۔ موتئے کی اس قسم میں مریض کوئی خاص علامات محسوس نہیں کرتا۔وہ معمولی سی بے چینی، سر کے بھاری ہونے، رات کو کم دکھائی دینے اور عینک کا نمبر جلدی جلدی تبدیل ہونے کو معمول کی بات سمجھتا ہے اوراسے کسی بڑے خطرے کی گھنٹی خیال نہیں کرتا۔بہت سی صورتوں میں اس کی80 فی صد نظر ضائع ہو چکی ہوتی ہے لیکن پھر بھی وہ اس کے علاج کے لئے سنجیدہ نہیں ہوتا۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس مرض میں مرکزی نظر (بالکل سامنے دیکھنے کی صلاحیت) سب سے آخرمیںمتاثر ہوتی ہے۔چونکہ سامنے کی چیز اسے نظر آ رہی ہوتی ہے لہٰذا اطراف کی کم نظر پر اس کا دھیان نہیں جاتاحتیٰ کہ ایک دن اس کی دنیا تاریک ہوجاتی ہے۔

صحت بخش خوراک
تھوڑی سی احتیاط اور مناسب خوراک ہمیں بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔بعض سبزیوں اور پھلوں مثلاً سنگترہ ، بلیوبیری، خوبانی اور گاجر وغیر ہ میں وٹامن اے، سی اور ای کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ان کے استعمال سے آنکھ کی صحت بہتر رہتی ہے۔ سمندری خوراک میں سے سائمن مچھلی کو اگر اپنے معمول میں شامل کر لیا جائے تو یہ آنکھ کی چمک کو باقی رکھنے میں اکسیر کا کام دیتی ہے۔ دھوپ میں الٹراوائلٹ پروٹیکشن سن گلاسز کا استعمال بھی موتیا بننے کے عمل کو کافی حد تک سست کرتا ہے۔

سفید موتئے کا علاج
آج کے ترقی یافتہ دور میں سفید موتیا کے علاج کے لئے دو طریقے اختیار کئے جاتے ہیں ۔ان میںسے پہلے کو ای سی سی ای (Extra Capsular Cataract Extraction) جبکہ
دوسرے کو”فے کو“(Phaco-Emulcification ) کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں” ای سی سی ای “کا زیادہ رواج ہے، تاہم یہ معالج پر منحصر ہے کہ وہ مرض کی تشخیص اور شدت کے مطابق مناسب طریقہ علاج کا انتخاب کرے۔
موتئے کے علاج کے لئے بڑے شہروں میں ہسپتال اور تجربہ کار ڈاکٹرموجود ہوتے ہیں جبکہ چھوٹے شہروں میں یہ سہولیات کم ہوتی ہیں۔تاہم دور دراز علاقوں میں بھی ”فری آئی کیمپ“ لگائے جاتے ہیں۔ لوگوں کو چاہئے کہ اگر ان کے علاقے میں کوئی ایسا کیمپ لگے تو اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

…………………………………………………………………………………………………………………………………………………

آنکھ کا دباو 
آنکھ کے اندرونی حصوں کو خوراک کی فراہمی کے لئے قدرت نے ایک مو¿ثر نظام تشکیل دے رکھا ہے جس کے تحت پانی کی طرح کا موادخون سے تشکیل پاکر آنکھ میں داخل ہوتا ہے اورمتعلقہ حصوں کو خوراک فراہم کر کے واپس خون میں شامل ہوجاتا ہے۔ کالے موتئے کی صورت میں اس مواد کے واپس جانے کے راستے مسدودہوجاتے ہیں ۔اس طرح یہ مواد آہستہ آہستہ آنکھ کے اندر جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے جس سے آنکھ کے اندرونی حصوں پر دباو معمول سے بڑھ جاتا ہے۔ عام حالات میں یہ دباو 22 ایم ایم ایچ جی (mm Hg) سے اوپر نہیں جاتا۔ زیادہ تر اس کیفیت میں وہ 40,50 اور بعض اوقات 100 ایم ایم ایچ جی تک پہنچ جاتا ہے جو نہایت خطرناک صورت حال ہوتی ہے ۔