Vinkmag ad

کلیمائڈیا: جنسی طور پر منتقل ہونے والا بیکٹیریل انفیکشن

Doctor examining a patient during a medical consultation for chlamydia

کلیمائڈیا (Chlamydia) ایک عام جنسی طور پر منتقل ہونے والا انفیکشن ہے۔ ایسے انفیکشن عموماً جنسی اعضا یا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ انہیں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں یا انفیکشن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بیکٹیریا، وائرس یا پیراسائٹس کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔

علامات

کلیمائڈیا کے ابتدائی انفیکشن میں عموماً بہت کم علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ علامات موجود ہوں تو بھی اکثر ہلکی ہوتی ہیں، اس لیے انہیں نظرانداز کرنا آسان ہے۔ اسی وجہ سے باقاعدگی سے اسکریننگ ضروری ہے۔

کلیمائڈیا کی علامات میں شامل ہیں

٭ پیشاب کرتے وقت درد یا جلن
٭ اندام نہانی سے رطوبت کا اخراج
٭ عضوِ تناسل سے رطوبت کا اخراج
٭ جنسی تعلق کے دوران اندام نہانی میں درد
٭ ماہواری کے درمیان یا جنسی تعلق کے بعد خون آنا
٭ خصیوں میں درد

جنسی سرگرمیوں کے مطابق کلیمائڈیا آنکھوں، گلے یا مقعد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

اگر اندام نہانی، عضوِ تناسل یا مقعد سے رطوبت خارج ہو یا پیشاب کرتے وقت درد ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر معلوم ہو کہ آپ کے جنسی ساتھی کو کلیمائڈیا ہے، تب بھی طبی معائنہ کروائیں۔ ڈاکٹر علامات نہ ہونے کے باوجود اینٹی بائیوٹک تجویز کر سکتا ہے۔

وجوہات

کلیمائڈیا کا بیکٹیریا عموماً اندام نہانی، منہ یا مقعد کے ذریعے جنسی تعلق قائم کرنے سے پھیلتا ہے۔ حمل کے دوران بھی یہ انفیکشن بچے کو منتقل ہو سکتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے وقت انفیکشن نومولود تک پہنچ سکتا ہے، جس سے نمونیا یا آنکھوں کا سنگین انفیکشن ہو سکتا ہے۔

خطرے کے عوامل

25 سال سے کم عمر افراد میں کلیمائڈیا کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوانوں میں اس بیماری کے ایک سے زیادہ خطرے کے عوامل پائے جا سکتے ہیں۔

کلیمائڈیا کے خطرے کے عوامل میں شامل ہیں

٭ کنڈوم استعمال نہ کرنا یا اسے غلط طریقے سے استعمال کرنا
٭ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کی روک تھام اور علاج کے لیے طبی سہولتوں سے کم رجوع کرنا
٭ نیا یا ایک سے زیادہ جنسی ساتھی ہونا
٭ کلیمائڈیا کی تشخیص سے پہلے جنسی ساتھی تبدیل کرنا

پیچیدگیاں

کلیمائڈیا ٹریکومیٹس انفیکشن ان پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے

٭ شرونیی اعضا کی سوزش: یہ بچہ دانی اور فیلوپین ٹیوبز کا انفیکشن ہے۔ شدید انفیکشن میں ہسپتال میں علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس سے فیلوپین ٹیوبز، بیضہ دانی، بچہ دانی اور عنقِ رحم کو نقصان پہنچ سکتا ہے

٭ خصیوں کے قریب انفیکشن: کلیمائڈیا سے ہر خصیے کے ساتھ موجود نالی، جسے ایپی ڈیڈائمس کہتے ہیں، میں سوزش ہو سکتی ہے۔ اس سے بخار، خصیوں میں درد اور سوجن پیدا ہو سکتی ہے

٭ پروسٹیٹ غدود کا انفیکشن: بعض اوقات کلیمائڈیا کے بیکٹیریا پروسٹیٹ غدود تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس سے جنسی تعلق کے دوران یا بعد میں درد، بخار، سردی لگنا، پیشاب میں درد اور کمر کے نچلے حصے میں تکلیف ہو سکتی ہے

٭ نومولود میں انفیکشن: بچے کی پیدائش کے دوران کلیمائڈیا ماں کی اندام نہانی سے بچے میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس سے نمونیا یا آنکھوں کا سنگین انفیکشن ہو سکتا ہے

٭ رحم سے باہر حمل: اس حالت میں بارآور بیضہ رحم کے بجائے عموماً فیلوپین ٹیوب میں نشوونما پاتا ہے۔ جان لیوا پیچیدگیوں، مثلاً ٹیوب پھٹنے سے بچنے کے لیے اسے نکالنا ضروری ہوتا ہے۔ کلیمائڈیا اس خطرے کو بڑھا سکتا ہے

٭ بانجھ پن: کلیمائڈیا سے فیلوپین ٹیوبز میں داغ اور رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس سے بانجھ پن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

٭ ردِعملی جوڑوں کی سوزش: کلیمائڈیا کے مریضوں میں ردِعملی جوڑوں کی سوزش کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جسے رائٹر سنڈروم بھی کہتے ہیں۔ یہ بیماری عموماً جوڑوں، آنکھوں اور پیشاب کی نالی کو متاثر کرتی ہے

بچاؤ

کلیمائڈیا سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ جنسی تعلق سے گریز کرنا ہے۔ اس کے علاوہ درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں

٭ کنڈوم استعمال کریں

٭ جنسی ساتھیوں کی تعداد محدود رکھیں

٭ باقاعدگی سے اسکریننگ کروائیں

تشخیص

بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے امریکی ادارے کے مطابق، کلیمائڈیا کی علامات رکھنے والے ہر فرد کو ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ علامات نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹر سے معلوم کریں کہ کتنی مدت بعد اسکریننگ ضروری ہے۔ بعض افراد کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ باقاعدگی سے ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہوتی ہے

علاج

کلیمائڈیا ٹریکومیٹس کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے کیا جاتا ہے۔ عموماً دوا سات دن تک استعمال کرنا پڑتی ہے یا بعض صورتوں میں ایک ہی خوراک دی جاتی ہے۔

زیادہ تر مریضوں میں اینٹی بائیوٹک شروع کرنے کے ایک سے دو ہفتے کے اندر انفیکشن ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم ابتدائی دنوں میں انفیکشن دوسروں تک منتقل ہو سکتا ہے۔ اس لیے علاج شروع کرنے کے بعد اس وقت تک جنسی تعلق سے گریز کریں، جب تک علامات ختم نہ ہو جائیں۔

گزشتہ 60 دن کے دوران آپ کے تمام جنسی ساتھیوں کو بھی ٹیسٹ اور علاج کروانا چاہیے، چاہے ان میں علامات موجود نہ ہوں۔ بصورتِ دیگر انفیکشن ایک دوسرے کو دوبارہ منتقل ہو سکتا ہے۔ تمام متاثرہ ساتھیوں کا علاج مکمل ہونے تک جنسی تعلق قائم نہ کریں۔

کلیمائڈیا کا پہلے انفیکشن ہونا یا علاج کروانا مستقبل میں دوبارہ اس بیماری سے محفوظ نہیں بناتا۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا کلیمائڈیا بغیر علامات کے بھی پھیل سکتا ہے؟

جی ہاں، بہت سے افراد میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن وہ انفیکشن دوسروں تک منتقل کر سکتے ہیں۔

کیا کلیمائڈیا حمل کے دوران بچے کو متاثر کر سکتا ہے؟

جی ہاں، پیدائش کے دوران انفیکشن نومولود کو منتقل ہو سکتا ہے، جس سے نمونیا یا آنکھوں کا سنگین انفیکشن ہو سکتا ہے۔

کیا کلیمائڈیا کا علاج ہونے کے بعد دوبارہ انفیکشن ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، علاج کے بعد بھی دوبارہ انفیکشن ہو سکتا ہے، اس لیے جنسی ساتھیوں کا ٹیسٹ اور علاج ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیئ شائع کیا گیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=infectious-diseases

Vinkmag ad

Read Previous

براؤن فیٹ زیادہ فعال ہونے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم

Leave a Reply

Most Popular