رحم کا سرطان سکریننگ, ویکسینیشن سے بچاو ممکن

220

    شادی کے بعد اکثر عورتوں کی اولین ترجیح ماں بننا ہوتی ہے‘ اس لئے کہ نہ صرف ان کے شوہروں کو ان کی جانب سے اس خاص ”تحفے“ کا انتظار ہوتا ہے بلکہ تمام اہل خانہ کی نظریں اسی طرف لگی ہوتی ہیں۔دوسری طرف یہ بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عورت کو دنیا کی سب سے بڑی خوشی ماں بننے سے ہوتی ہے۔ بچے کی پیدائش اسے نہ صرف نئے گھر میں قدم جمانے کا موقع فراہم کرتی ہے بلکہ اسے ہر لحاظ سے مکمل بھی کرتی ہے ۔تاہم کچھ طبی وجوہات کی بنا پردنیا بھرمیںبہت سی خواتین اس انمول تحفے سے محروم رہتی ہیں۔ ان وجوہات میں سے ایک رحم (uterus) کا سرطان یا سروائیکل کینسر بھی ہے۔
رحم اصل میں خواتین کے پیٹ کے نچلے حصے میں موجود وہ جگہ ہے جس میں بچے کی نشوونما ہوتی ہے۔ اس کا نچلا گردن نما سرا سروکس(cervix) رحم کو اندام نہانی (vagina) کوآپس میں ملاتا ہے۔ عالمی اد ارئہ صحت کے مطابق خواتین میں کےنسر سے اموات کی دوسری بڑی وجہ رحم کا سرطان ہے جس میں دنیا بھر کی تقریباً 85 فی صد خواتین مبتلا ہیں۔ ان میں سے زیادہ ترکا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔

سروائیکل کینسر ہے کیا ؟
سرطان ایک ایسی بیماری ہے کہ جس میں جسم کے کسی حصے کے خلئے اپنا کام درست طور پر انجام نہیں دے پاتے ۔وہ تیزی سے تقسیم در تقسیم ہونا شروع ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعداد میں غیرضروری اور غیر معمولی اضافہ ہونے لگتا ہے۔ یوں جسم کے اس مخصوص حصے میں ایک نیا جسم تشکیل پاجاتا ہے جس کو رسولی یا گلٹی(tumor) کہا جاتا ہے ۔یہ صورت حال جب رحم کے گردن نما حصے میں پیدا ہوتی ہے تو اس کو رحم کا سرطان کہا جاتا ہے۔

مرض کاذمہ دار وائرس
ماہرےنِ سرطان کے مطابق دنےابھرکی80 فی صد خواتےن اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پررحم کے سرطان کاسبب بننے والے وائرس اےچ پی وی
(Human Papilloma Virus)کا شکار ہوجاتی ہےں۔ اس وائرس کی 100سے زائد اقسام ہےں تاہم عالمی ادارئہ صحت کی 2017کی رپورٹ کے مطابق اس وائرس کی دو اقسام ٹائپ 16اور ٹائپ18 خواتےن مےں رحم کے سرطان کے 70فی صد ذمہ دار ہیں۔

مرض کی وجوہات
درج ذیل وجوہات کا تعلق اس مرض کے ساتھ وابستہ خیال کیا جاتا ہے :
٭ طوےل عرصے تک مانع حمل ادوےا ت کا استعمال ۔
٭زےادہ بار اسقاط حمل(miscarriage) ہونا۔
٭بعض ادوےات مدا فعتی نظام کو کمزورکردےتی ہےں جس کی وجہ سے جسم اس سرطان کے خلاف قابل ذکر مدافعت دکھانے کے قابل نہےں رہتا۔
٭تمبا کو نوشی کرنے والی خواتےن کے اس بےما ری مےں مبتلا ہو نے کے امکانات عام خواتےن کی نسبت زےا دہ ہو تے ہےں۔
٭جنسی عمل میں شریک کسی ایک میں اس مرض کی پہلے سے موجودگی ۔
٭ ایک سے زائد افراد سے جنسی تعلقات ۔
٭کسی ایسے فرد سے جنسی تعلق جو ایک سے زیادہ افراد سے ایسا تعلق رکھتا ہو۔

مرض کی علامات
درج ذیل علامات اس مرض کی طرف اشارہ کرتی ہیں:
٭خواتین میں سن یاس (menopause) کے بعد‘ نوجوان خواتین میں خصوصی ایام کے دوران یا جنسی ملاپ کے بعد شلوار پر اگرلوتھڑے یا خون کے دھبے نظر آئیں،اندام نہانی سے سرخ‘ بھورے ‘گلابی ےا پیلے رنگ کے مادے کا مسلسل اخراج (جس کی ناگوار بدبو بھی ہو سکتی ہے) ہو تو یہ سرطان کی علامات ہوسکتی ہےں ۔اس صورت حال میں فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کیجیے۔
٭ایام کے دوران خون کا شدید بہاو¿ ےا اس کے دورانئے کا غےرمعمولی طورپرطوےل ہوجانابھی اس کی علامت ہو سکتا ہے۔

٭فوری طور پر وزن میں غیرمعمولی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے جو دیگر مسائل کے علاوہ کئی اقسام کے کینسر کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق چند دنوں میں 10 پونڈ وزن میں کمی کینسر کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔ ایسے میں فوراً معالج سے رجوع کریں۔
٭ گردن اور بغلوں میں لمفی غدود ( لمف نوڈ) موجود ہوتے ہیں جن کا سردی کی وجہ سے سوجنا یا سوزش زدہ ہونا غیرمعمولی بات نہیں‘ تاہم یہ سوزش اور سوجن اگرچار ہفتوں یا اس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہے تو ڈاکٹر کے پاس ضرورجانا چاہیے کیونکہ یہ کینسر کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔
٭اگر فوری طور پر علاج نہ کرایا جائے تو مریضہ کی بھوک ختم ہوجانے‘ جسمانی کمزوری کے ساتھ ٹانگوں اورکمرمےںدرد رہنے، اےک ٹانگ کاسن ہوجانے، پےشاب کا جلن کے ساتھ رِستے رہنے اور اندام نہانی سے خون آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ ان علامات کا لازمی مطلب رحم کاسرطان نہےںبلکہ انفکشن کی وجہ سے بھی ایساہوسکتا ہے۔اس کی حتمی تشخیص لیبارٹری ٹیسٹ کی مدد سے ہی ہو سکتی ہے جس میں سستی نہیں کرنی چاہئے ۔

تشخےصی ٹےسٹ
رحم کے سرطان کی ابتدائی تشخیص کے لئے پےپ سمیئرز(Pap smears) کیا جاتا ہے جس کے بعد حتمی تشخیص کے لئے درج ذےل ٹےسٹ کئے جاتے ہےں:

کولپوسکوپی(Colposcopy)
اگر مادوں کا اخراج بہت زیادہ ہو تو چےزوں کو بڑا کر کے دکھانے والے آلے کے ذرےعے اندام نہانی کا اندرونی معائنہ کیا جاتا ہے ۔ اسے کولپوسکوپی کہا جاتا ہے ۔

بائےوپسی(Biopsy)
اس میں لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے بافتوں (tissues)کا چھوٹا سا ٹکڑا لےبارٹری بھجوا یا جاتا ہے اور پھر حاصل شدہ نتائج کی بنیاد پر تشخیص کی جاتی ہے ۔

کرنے کے کام
٭ تولیدی عمر کی حامل بچےوں کی سکرےننگ اور مرض کی وےکسی نےشن اس مرض سے بچاﺅ میںاہم کردار اداکر سکتی ہےں۔چونکہ یہ مرض ہمارے ہاں بہت زیادہ ہے ‘ اس لئے 12سال یا اس سے زےا دہ عمر کی تمام بچےوں کی سکریننگ ضرور کروانی چاہئے ۔ اسی طرح9سے 11 سال کی تمام بچےوں کی وےکسی نےشن بھی ضرور ی ہے ۔
٭ ویکسی نیشن کے حوالے سے بنےادی توجہ ان بچےوں پر دی جا نی  چا ہئے جن کے ایام کا آغازہو نے والا ہو ۔

٭ ہر عورت کو چاہئے کہ شادی سے پہلے ماہر زچہ وبچہ سے اپنا مکمل معائنہ کروائے اور اس جان لیوا مرض سے بچاو¿ کے لئے ویکسین لگوائے۔
٭خواتین کو چاہئے کہ ازدواجی تعلق سے پہلے اور بعد میں صفائی کا خاص خیال رکھےں تاکہ انفکشن سے محفوظ رہا جا سکے۔
٭ ہر چھ ماہ بعد ضرور طبی معائنہ کرائےں ۔ اگر اس بیماری کاذرا سا خدشہ ہو توڈاکٹرسے رابطہ کرےں اوراس کی ہدایت کے مطابق متعلقہ ٹیسٹ کروائےں‘ اس لئے کہ جان ہے تو جہان ہے ۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

     ہمارے بدن میں 700سے زیادہ غدود(glands) موجود ہیں جو جسم

Salman Hussain, 24 from Nowshera, came back home diseased, exhausted and hopeless after working in S

Cancer in News

”اوہ! خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں“۔ یہ اس ڈرامے کا عنوان